پاکستان کی سیاسی تاریخ کو اگر محض حکومتوں کی تبدیلی اور انتخابات کی پرفریب مشق کے طور پر ہڑھا جائے تو شاید اس کے اصل تضادات سمجھ میں نہ آئیں۔ ہمارے اقتدار کی تاریخ کا بنیادی فلسفہ سیاسی جماعتوں کے عروج و زوال اور مقتدر اداروں کے بدلتے مفادات کے مابین کشمکش میں پوشیدہ ہے۔
ریاستی مقتدرہ کی طرف سے مختلف ادوار میں براہِ راست اقتدار سنبھالنے، بسا اوقات پروردہ سیاسی جماعتوں کی سرپرستی کرنے، مقبول قیادتوں کو پاء بازنجیر رکھنے اور پھر بدلتے ہوئے حالات کے مطابق سیاسی صف بندی ازسرنو تشکیل دینے کا ایک ایسا سلسلہ دکھائی دیتا ہے جسے ارتقاء پذیر سیاسی انجینئرنگ کے عنوان سے بیان کیا جا سکتا ہے۔
جنرل ایوب ، جنرل یحیی اور ضیاء الحق کے مارشل لاوں سے قطع نظر جنرل پرویز مشرف کے براہِ راست فوجی اقتدار اور مارشل لاء کے تجربے کے بعد ایک مختلف طرز حکمرانی کا تصور نمایاں ہوا۔ جس میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دور سپہ سالاری میں فوج کو براہِ راست سیاست میں ملوث کرنے کے برعکس پس پردہ بیٹھ کر مملکت کے اقتدار اعلی پہ حتمی تصرف پانے کی نئی ڈاکٹرائن متعارف کرائی گئی، جس میں اندرونی امور اور عالمی تعلقات بارے فیصلے تو اسٹبلشمنٹ کرتی ہے لیکن ان فیصلوں کے منفی نتائج کے لیے جوابدہ سامنے نظر آنے والی بے اختیار سیاسی قیادت ہوتی ہے۔
اسی مرحلے سے پاکستانی سیاست میں ایک ایسی نئی سائنس وجود میں آئی جس کا مطلب اقتدار سے براہِ راست دستبرداری کے باوجود سیاسی اثرورسوخ کو زیادہ گہرائی تک اتارنا مقصود تھا ۔بعض سیاسی مبصرین اور محققین کے نزدیک براہِ راست مارشل لاء کے بجائے ریاستی طاقت کے غیر رسمی اور پسِ پردہ استعمال کا ایک ایسا ماڈل سامنے لایا گیا جس میں منتخب حکومتیں بظاہر اقتدار میں رہیں مگر طاقت کے بڑے مراکز قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور اندرونی سیاسی معاملات پر غیر معمولی اثرورسوخ برقرار رکھے ہوئے ہیں
2008 سے 2013 کے درمیانی عرصے کو بعض علمی مطالعات نے فوج اور سول حکومت کے مابین طاقت کی ایک ایسی تقسیم سے تعبیر کیا ،جس میں منتخب حکومتوں کی خودمختاری مسلسل محدود ہوتی دیکھائی دیتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اس پورے سیاسی بیانیے کا مرکزی سوال پیدا ہوتا ہے، اگر فوجی اقتدار کا پرانا ماڈل، یعنی براہِ راست حکومت کرنے کی بجائے، پسِ پردہ رہ کر سیاسی عمل پر اثرانداز ہونے کے ایک نئے ماڈل میں تبدیل ہوا تو کیا اس کے بعد سیاسی جماعتیں محض بے مقصد انتخابی مشق کے مصنوعی کردار بن کر رہ گئی ہیں اور انہیں ریاستی حکمتِ عملی کے مطابق ہرفارم کرنے اور محض استعمال ہونے کے لئے باقی رہنا ہے ؟ جیسے آج پیپلز پارٹی اور نواز لیگ دیکھائی دیتی ہیں۔
تحریکِ انصاف کے معاملے کو اسی تناظر میں دیکھنے والے مبصرین کا مؤقف ہے کہ اس جماعت کی تشکیل، سیاسی توسیع، تنظیمی استحکام اور بالآخر 2018 میں اقتدار تک رسائی کے پورے عمل میں مقتدر حلقوں کی حمایت اور سہولت کاری دراصل روایتی سیاسی جماعتوں کو دیوار سے لگانے کی سکیم کا حصہ تھا۔ یہ ایک متنازع سیاسی تعبیر ہے، تاہم عمران خان اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بعد میں پیدا ہونے والے شدید اختلافات اور 2022 کے بعد کے واقعات نے اس تعلق کی نوعیت پر اسی بحث کو مزید گہرا کر دیا۔
اس بیانیے کے مطابق معاملہ صرف تحریکِ انصاف کو اقتدار تک پہنچانے تک محدود نہیں تھا، اصل سوال یہ ہے کہ جس سیاسی قوت کو ایک مرحلے پر قومی اقتدار کے لیے موزوں سمجھا گیا، بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں اسی قوت کو اقتدار سے بے دخل کرنے اور پھر سیاسی طور پر محدود کرنے کے لیے ریاستی طاقت اور روایتی سیاسی جماعتوں کو بروئے کار لانے کا کھیل سیاستدانوں اور عوام کی سمجھ میں کیوں نہیں آتا ؟
حالانکہ ذولفقار علی بھٹو سے لیکر بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور اب عمران خان تک سیاسی انجینئرنگ کا دائرہ ایک مکمل چکر کی صورت اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے،۔
پہلے روایتی سیاسی قیادت کو کمزور کرو، پھر نئی سیاسی قوت پیدا کرو، اسے قومی سطح پر ابھرنے کا موقع دو، اقتدار تک پہنچاؤ، پھر جب سیاسی مفادات اور طاقت کے توازن تبدیل ہوں تو اسی قوت کے خلاف سیاسی، انتظامی، قانونی اور ابلاغی محاذ کھول دو۔ بالآخر مختلف سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے ہوئے ایسا سیاسی بندوبست تشکیل دو جس میں کسی ایک جماعت کو مستقل اور خودمختار عوامی طاقت بننے کا موقع نہ مل سکے۔ گویا عوام کو فرقہ ورانہ گروہ بندی، مذہبی تشدد ، علاقائی و نسلی تعصبات اور سیاسی دھڑے بندیوں میں منقسم اور سرگرداں رکھنا بھی اسی وسیع سکیم کا ایک پہلو ہے۔
اگر اس تجزیے کو درست تسلیم کیا جائے تو آج کی صورتِ حال اسی طویل سلسلے کی ایک نئی کڑی دکھائی دیتی ہے۔ تحریکِ انصاف کے خلاف ریاستی اقدامات، عمران خان کی گرفتاری اور مقدمات، جماعتی تنظیم پر دباؤ اور انتخابی عمل سے متعلق تنازعات نے اس سوال کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کا عروج و زوال واقعی صرف عوامی حمایت اور انتخابی عمل سے طے ہوتا ہے یا طاقت کے غیر منتخب مراکز ہی اس عمل میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔
یہاں المیہ کسی ایک جماعت یا کسی ایک رہنما کا نہیں۔ اصل المیہ یہ ہے کہ اگر سیاسی جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے بجائے مقتدر قوتوں کی منظوری سے اقتدار تک پہنچنے اور پھر انہی قوتوں کی ناراضی کے نتیجے میں اقتدار سے محروم ہونے لگیں تو عوام کے حق حاکمیت کا بنیادی تصور ہی مجروح ہو جاتا ہے۔
نواز شریف، بے نظیر بھٹو، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور اب تحریکِ انصاف ، ان سب کے تجربات، اپنی اپنی تاریخی پیچیدگیوں کے باوجود، پاکستان میں سول ملٹری تعلقات کے بنیادی سوال کو بار بار سامنے لے آتے ہیں۔ فیصلہ کن اختیار آخرکار عوام کے منتخب نمائندوں کے پاس ہوگا یا اقتدار کے اصل مراکز آئینی اداروں کے باہر موجود رہیں گے؟
پاکستان کا سب سے بڑا المیہ شاید یہی ہے کہ چہرے بدلتے رہے، سیاسی جماعتیں بدلتی رہیں، اقتدار کے اتحادی بدلتے رہے مگر سیاسی انجینئرنگ کا مرکز اسٹبلشمنٹ کے پاس رہا۔ ایک زمانے میں بندوق کے سائے میں مارشل لاء نافذ ہوتا تھا، بعد کے ادوار میں بظاہر جمہوری ادارے برقرار رہے مگر ناقدین کے مطابق طاقت کے غیر رسمی مراکز نے سیاسی عمل کی سمت متعین کرنے کی عنان اپنے ہاتھ میں رکھی۔
اگر یہ سلسلہ واقعی ختم کرنا ہے تو حل کسی ایک جماعت کو اقتدار دلانا یا کسی دوسری جماعت کو سیاسی طور پر ختم کرنا نہیں، بلکہ ایسا آئینی و جمہوری اتحاد قائم کرنا ہے جس میں سیاسی جماعتیں اقتدار کے لیے صرف عوام سے رجوع کرنے پر متفق ہو جائیں ، ریاستی ادارے اپنے آئینی دائرۂ کار تک محدود رہیں اور حکومتیں اپنی بقا کے لیے غیر منتخب طاقت کے مراکز کی محتاج نہ ہوں۔
ورنہ تاریخ کا پہیہ اسی طرح محوری انداز میں گھومتا رہے گا، صرف کردار بدلیں گے، کل کسی اور کو بنایا گیا، آج کسی اور کو گرایا گیا اور کل شاید کسی نئے سیاسی کردار کو دوبارہ میدان میں اتارا جائے۔ مگر اس پورے کھیل میں سب سے زیادہ نقصان کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ ریاست اور بالآخر عوام کا ہوگا۔


