کیمپ ازم کا قہر، فکری منافقت اور تاریخ کے درست رخ پر کھڑے ہونے کا تاوان / محمد عامر حسینی

​ہمارے سماج میں کسی بندھے ٹکے گروہ کا اندھا مقلد بنے بغیر آزاد رائے قائم کرنا ہمیشہ سے ایک مہنگا سودا رہا ہے۔ جیسے ہی آپ عقیدہ پرستی اور تعصبات کے گرد بنے مخصوص ’کیمپ ازم‘ (Campism) کا ایندھن بننے سے انکار کرتے ہیں، دونوں انتہاؤں کے ٹھیکیدار آپ کے درپے ہو جاتے ہیں۔

آزاد ضمیر دانشور یا قلم کار کا المیہ یہی ہے کہ اسے اس خود مختاری کی قیمت تنہائی اور ہر طرف سے پڑنے والی دشنام طرازی کی صورت چکانی پڑتی ہے۔

​غزہ پر اسرائیلی بربریت اور پھر لبنان و ایران تک پھیلتی سامراجی یلغار کے دوران یہ منافقت پوری شدت سے بے نقاب ہوئی۔

ایک طرف سعودی دربار کے فکری کاسہ لیسوں کا وہ فرقہ پرست ٹولہ تھا جس نے مظلوموں کے حقِ دفاع اور جنگ مخالف مؤقف اپنانے والے ترقی پسندوں کو نشانے پر رکھ لیا؛ دوسری طرف نام نہاد ‘روشن خیالوں’ اور ‘عقلیت پسندوں’ کا وہ گروہ سامنے آیا جو امریکی و اسرائیلی غنڈہ گردی پر کھل کر بات کرنے کے بجائے، سامراج کی زد میں آئے عوام کی حمایت کرنے والوں پر ‘ایرانی رجیم کی وکالت’ یا ‘بنیاد پرستی’ کا لیبل لگانے میں جت گیا۔

بظاہر یہ دونوں کیمپ ایک دوسرے کے جانی دشمن لگتے ہیں، مگر عوامی مزاحمت اور خود مختاری کے حق کو مسخ کرنے میں دونوں کا بیانیہ ایک ہی پیج پر نظر آتا ہے۔

​یہی دوغلا پن یمن کے معاملے پر بھی کھل کر سامنے آتا ہے۔ یمنی قبائل کی برطانوی استعمار کے خلاف صدیوں پرانی مزاحمت، ان کے وسائل کی لوٹ مار اور بعد ازاں خلیجی بادشاہتوں کی مسلط کردہ جنگوں کو یکسر نظر انداز کر کے پوری جدوجہد کو زبردستی محض ‘ایرانی پراکسی’ کا رنگ دیا جاتا ہے۔

ستم ظریفی دیکھیے کہ یمن میں ہونے والی نسل کشی اور جنگی جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے فوراً ‘حرمین خطرے میں ہیں’ کا شور مچا دیا جاتا ہے۔

یہ وہی حامی ہیں جنہیں آلِ سعود کی جانب سے مکہ اور مدینہ کے قدیم اسلامی و ثقافتی ورثے کی مسماری پر کبھی کوئی اعتراض نہیں ہوا۔ رسول اللہ ﷺ کے مولد کی بے توقیری ہو، ام المومنین حضرت خدیجہؓ کا تاریخی مکان ہو، یا صحابہ و اہل بیت کے مزارات کو مٹا کر وہاں شاپنگ مالز، ہوٹلز اور بیت الخلاء بنانے کی بات
ان سب کو ‘شرک و بدعت کا خاتمہ’ کہہ کر سندِ جواز دی گئی۔ مگر دوسری طرف شاہی محلات، نجد میں ابنِ عبد الوہاب کی یادگاریں اور عجائب گھر پوری شان سے محفوظ رکھے گئے۔

پیٹرو ڈالرز کے بل بوتے پر درآمد شدہ اس تکفیری ڈسکورس نے برصغیر کی روادارانہ اور صلح کل والی مشترکہ تہذیب کو بھی شدید زک پہنچائی ہے۔

​تضادات کا یہ کھیل سرحد کے اس پار بھی خوب چلتا ہے۔

سامراج کے خلاف بلند بانگ دعوے کرنے والے کئی قلم کار جب اپنے ملک کے اندر بلوچوں، پشتونوں اور کشمیریوں کے بنیادی حقوق اور ریاستی جبر کی بات آتی ہے تو فوراً مقتدرہ اور اسٹیبلشمنٹ کا سرکاری بیانیہ بغل میں داب لیتے ہیں۔

اسی طرح ایران میں نسلی و مذہبی اقلیتوں کے حقوق پر بولنے والوں کو بھی یہ کیمپ معاف نہیں کرتے۔

​اس منافقت کے ماحول میں رعایت اللہ فاروقی کی حالیہ مثال خاصی چشم کشا ہے۔

ایک زمانے میں یہ صاحب سپاہِ صحابہ کے سرکردہ قلم کار اور روزنامہ امت کے صفحات پر تکفیری سوچ کے بڑے ترجمان سمجھے جاتے تھے۔ لیکن جب اس شخص نے فکری یوٹرن لیا، یمن کے معاملے میں حوثیوں کی مزاحمت کو صرف پراکسی سمجھنے سے انکار کیا، ایران پر سامراجی حملوں کی مخالفت کی، اور ریاستی بیانیے کا آلہ کار بننے کے بجائے مظلوم قومیتوں کے حق میں بولنا شروع کیا تو پرانے اور نئے سبھی کیمپوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔

​مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ فرانز فینن، پابلو نیرودا اور ایڈورڈ سعید کے نام کی مالا جپنے والے بعض ‘لبرل’ بھی فاروقی پر کیچڑ اچھالنے میں پیش پیش ہیں۔

اب سوشل میڈیا پر اے آئی جنریٹڈ تصاویر بنا کر انہیں شیعہ عبایا اور عمامہ پہنایا جا رہا ہے اور ایرانی قیادت کے آگے رکوع میں دکھایا جا رہا ہے۔

ان کا اصل جرم یہی ہے کہ وہ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ، ایمان مزاری یا علی وزیر کو ‘غدار’ کہنے کے لیے تیار نہیں ہیں، وہ جبری گمشدگیوں اور اقلیتوں کی ٹارگٹ کلنگ کے جواز نہیں تراشتے، اور نہ ہی مقتدرہ کی خوشنودی کے لیے قلم گھسیٹتے ہیں۔

​رعایت اللہ فاروقی کوئی نامیاتی دانشور ہیں نہ ان کے ماضی سے صرفِ نظر کیا جا سکتا ہے، مگر فی الوقت وہ کئی اہم ترین ریاستی و علاقائی سوالات پر تاریخ کے درست رخ پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ اور ہمارے اس کیمپوں میں بٹے، منافق سماج کا سب سے بڑا گناہ یہی ہے کہ کوئی شخص فکری غلامی کا طوق اتار کر سچ کا ساتھ دینے کی جسارت کیسے کر بیٹھا۔
​#کیمپ_ازم #فکری_منافقت #مشرق_وسطی #یمن #بلوچستان #رعایت_اللہ_فاروقی #انسانی_حقوق #تاریخ_کا_درست_رخ

اپنا تبصرہ لکھیں