آج کل عالمی سطح پر معالجین اور محققین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ انسان کی جسمانی صحت کے لئے ذہنی صحت کا ہونا بہت ضروری ہے۔ ایسی اطلاعات بھی آئے دن ذرائع ابلاغ کی زینت بنتی ہیں کہ مغربی ممالک میں نفسیاتی مسائل کی وجہ سے خود کشی کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مغربی دنیا میں مادر پدر آزادی اور جنسی بے راہ روی اصل میں ذہنی دباؤ اور پاگل پن میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ ان کا یہ المیہ ان کی عاقبت نا اندیشی کی وجہ سے ہے۔ ان کی نئی نسل تباہ ہو رہی ہے۔ یہاں تک کہ ان کی عوام میں خود کشی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔
جس طرح بیماریاں انسانی جسم کو ناتواں اور نقاہت زدہ کرتی پیں اورمختلف اعضاۓ بدن کو مضمحل کرکے انہیں تکلیف ومصیبت سے دو چار کرتی ہیں اسی طرح ذہنی پریشانیاں، تفکرات اور رنج و غم انسان کو کمزور اور اور نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ کا شکار کرتی ہیں۔ یہ مسئلہ بلا تخصیص مرد اور عورت دونوں کو در پیش ہوتا ہے۔۔ لیکن عورت ،مرد کے مقابلے میں زیادہ حساس اور زود رنج ہوتی ہے اس لئے وہ رنج و الم اور تفکرات کا بوجھ نہیں اٹھا پاتی۔ اس کے ذہنی انتشار کا بار اسے ناصرف امراض کی صورت میں اٹھانا پڑتا ہے بلکہ ذہن کو بیزاری، بے سکونی اور عدم اطمینان کی کیفییت سے دو چار بھی ہونا پڑتا ہے۔ ذہنی دباؤ جس کی بہت ساری وجوہات ہوتی ہیں، صحت کو ہی برباد نہیں کرتا بلکہ بلند فشار خون کی صورت میں جسم و جاں کے لئے آزار بھی بن جاتا ہے۔ اس لئے ذہنی بےتابی، غصے اور بیزاری سمیت دماغی اضطراب کا جہان تک ممکن ہو علاج کرانا بہت ضروری ہو جاتا ہے۔
یہ بات واقعتآ درست پے کہ تفکرات، رنج وغم اور نا موافق حالات انسانی ذہن پر بری طرح اثرانداز ہوتے ہیں۔ ہمارے خاندانی معاملات اور سماجی، معاشی اور معاشرتی حالات انسانی مزاج اور ذہن کو پر سکون رہنے نہیں دیتے۔ تاہم مضبوط اعصاب کے مالک لوگ اور حساس طبیعت سے خود کو بچانے والے افراد اپنی ذہنی صحت کو ذیادہ عرصے تک بر قرار رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شخص بھی خواہ وہ عورت ہوہا مرد، خود کو ابتلاء و الام سے نقصان نہیں پہنچاتا، بلکہ اسے ایسے حالات کا سامنا ہوتا ہے جو اس کے قابو سے باہر ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے خاندانی نظام کا جائزہ لیں تو اس میں بہت سے ایسے معاملات ذہنی دباؤ کا سبب بنتے دکھائی دیتے ہیں۔ جن سے اغماض برتا جاسکتا ہے۔ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں کو مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ ہر بات انانیت اور کشمکش کا روپ دھار لیتی ہے۔ اس سے نجات کا طریقہ یہ ہے کہ ہر ایک فرد جذبات سے ماورا ہو کر اپنے اندر درگزر اور متنازعہ باتوں کو نظر انداز کرنے کا وصف پیدا کرے۔ اس طریقے سےمتوقع مسائل سے نجات مل سکتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں مشترکہ خاندانی نظام میں جہاں بہت ساری خوںیاں پائی جاتی ہیں وہاں اس میں ایسی خامیاں بھی موجود ہوتی پیں، جو پریشان حالی اور ضبط و تحمل سے بے لا تعلقی میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں، جو ذہنی دباؤ اور بد دلی کا باعث بنتی ہیں۔ ایک ہی چھت تلے رہنے والے سب افراد ایک دوسرے کے معاملات میں دخیل ہوتے ہیں۔ اور اسطرح لڑائی جھگڑے اور چپقلش کا ماحول بن جاتا ہے۔۔ نند بھاوجوں اور ساس بہو کے درمیان بد گمانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہ بدگمانیاں ٹینشن اور ذہنی دباؤ پیدا کرتی ہیں۔
عمومآ مالی تنگ دستی بھی میاں بیوی کے درمیان ذہنی پریشانیوں اور نفسیاتی مسائل کو جنم دیتی ہے۔ گھر میں آسودگی نہ ہو تو گھر کے افراد میں مایوسی اور عدم اطمینان کی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ گھر کی ضروریات، مثلآ مکان کا کرایہ، بچوں کی اسکولوں کی فیس، بجلی اور گیس کے بلوں کی ادائی اور گھریلو اخراجات کے لئے مناسب آمدن نہ ہو تو چڑ چڑا پن پیدا ہوتا ہے۔ دل بھی مارنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ جن گھرانوں میں لڑکیوں کی شادیاں نہیں ہو پاتیں اور انکی عمریں ڈھلنے لگتی ہیں، وہاں والدین اور بالخصوص ماؤں کی راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے، جبکہ لڑکیاں بالیاں بھی ہاتھ پیلے ہونے کے انتظار میں مایوسی اور ڈیپریشن کا شکار ہو جاتی ہیں جن سے نفسیاتی مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح تعلیم سے فراغت کے بعد نوکریوں اور روزگار کے متلاشی نوجوان لڑکے ناکامی پر سخت ذہنی خلجان میں مبتلا ہو کر ذہنی سکون کھو بیٹھتے ہیں۔ وہ نشہ کرنے لگتے ہیں، خود کو مارتے پیٹتے پیں یا غلط صحبت میں بیٹھنا شروع کر دیتے ہیں ۔ کبھی میاں ںیوی کے درمیان نوک جھونک اور طعنہ زنی سے بھی گھر کی فضا متاثر ہوتی ہے۔ میاں بیوی کے درمیان محبت کا فقدان اور آپس کی نفرت سکون غارت کر دیتی پے اور اگرمیاں ہاتھ چھوٹ ہو تو بیویاں سخت بیزاری کے عالم میں گھٹ گھٹ کر ذہنی اور جسمانی صحت کھو بیٹھتی ہیں۔ گھریلو ناچاقیوں اور طعنن و تشنیع سے ماحول میں اتنی گھٹن پیدا ہو جاتی ہے کہ خواتین کے ذہنی دباؤ میں شدت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہاں تک۔ کہ ذہنی بے سکونی کا فوری علاج نہ کروایا جاۓ تو پاگل پن کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔
صرف مالی تنگدستی ہی ذہنی دباؤ کو دعوت نہیں دیتی بلکہ مالی طور پر امیر کبیر لوگ بھی کاروباری ٹینشن اور انتظامی نقائص کی وجہ سے خرابی صحت اور بے سکونی کے شکار ہو جاتے ہیں۔ زندگی میں تلخی پیدا ہو جاتی ہے۔
ایسی پوسٹیں اکثر انٹر نیٹ پر شیئر کی جا رہی ہوتی ہیں جو دنیا کے ارب، کھرب پتی افراد ناقابل علاج بیماریوں کے شکار ہو جاتے ہیں مگر ان کی دولت ان کے کسی کام نہیں آتی۔ یہ سب قدرت کے فیصلے ہوتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی خواہشات کو کنٹرول میں رکھیں۔ ذہنی دباؤ سے نجات کے لئے اپنی نیند پوری کریں اپنے بچوں میں خوشیاں بانٹیں اپنے غم اپنے والدین کے ساتھ شیئر کریں۔ ان سے بڑھ کر کوئی اپ کا غم خوار اور ہمدرد نہیں ہو سکتا۔ آپ اپنے دکھ درد کو شیئر کرنے میں احتیاط برتیں۔ صرف ان سے اپنا دکھڑا بیان کریں جن پر اپ کو پورا اعتماد ہو اور جو قابل اعتبار ہوں اور صحیح معنوں میں آپ کے دکھ درد کو بانٹتے ہوں۔ اس طرح آپ اپنی ٹینشن کو کم کر سکیں گے۔ اللہ پر پورا بھروسہ رکھیں۔ قران کی تلاوت اور درود شریف کا ورد کریں اس سے تفکرات اور پریشانیوں کا مداوا ہوتا ہے۔ صبح کی سیر اور ہلکی پھلکی ورزش بھی اس سلسلے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ کسی کے امراض طوالت اختیار کرلیں یا جسمانی عوارض یکے بعد دیگرے اپنی گرفت میں لئے رکھیں تو مریض کا ذہن بھی پریشانیوں اور مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسے میں اپنے معالجین سے رابطے میں رہیں۔ ذہنی سکون کے حصول سے متعلق ایسے طبی علاج موجود ہیں جو مریض کی ذہنی بے چینی کو دور کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں جبکہ اسپیچ تھراپی بھی کار گر ثابت ہوتی ہے۔


