ڈاکٹر آصف حسن/تحریر -شہناز احد

یہ غالباگزرے جمعرات،جمعہ کی رات کے بارہ بجے کاوقت تھاکہ واٹس اپ پے ایک دوڈہائ منٹ کی کلپ دیکھی،اُس میں ایک پاکستانی ڈاکٹر کو life achievement awardلیتے ہوا دکھایا جا رہاتھا۔ اناؤنسر بہت سارے بچوں کے نام پکار رہی تھی اور ہنستے، کھلکھلاتے بچے ایک دوسرے پے گرتے پڑتے نمودار ہوۓجارہے تھے۔
دبلے پتلے،کھڑے نقوش اور زردی مائل رنگت والے شرماۓ ،شرماۓ سےایک درمیانی عمر کے صاحب ہونٹوں پے بار بار زبان پھیر رہے تھے یوں لگ رہاتھا جیسے رضیہ غنڈوں میں پھنسی ہو۔ اسٹیج پے آنے والے بچوں میں سے کئ نے جرات جذبات کا مظاہرہ کرتے ہوۓ اُن صاحب کو گلے بھی لگالیا۔ اسٹیج پے کھڑے بچوں کی تعداد کوئ دودرجن کے قریب تھی ان بچوں کی عمریں چودہ سال سے بیس ، بائیس سال تک تھیں۔ اناؤنسر ہر بچے کی کہانی بتانے کی کوشش کررہی تھی۔
اس دبلے،پتلے، کھڑے نقوش،سفید بال، زرد رنگت والے انسان کانام ڈاکٹر آصف حسن ہے۔ شہر کراچی کے ڈاؤ میڈیکل کالج کے ۱۹۷۹کے پاس شدہ میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ان کے تعلیمی سفر میں حبیب پبلک اسکول اور ڈی جے کالج بھی شامل رہے ہیں۔ ان کے میڈیکل کالج کے دوستوں کے مطابق آصف کا شمار ہمیشہ سے پڑھاکو طلبہ میں تھااور وہ سب پروفیسرز کے پسندیدہ شاگرد رہے۔ سارے کام وقت پے بنا چوں چراں کرتے تھے۔ ہاؤس جاب ختم ہوتے ہی برطانیہ پرواز کر گۓ اور کچھ یوں گۓ کہ اُن ہی فضاؤں، ہواؤں میں رچ بس گۓ۔
اُن کے برطانیہ میں رچنے ،بسنے یادل لگنے کا سبب بہتر تعلیمی ماحول اور سیکھنے، کرنے کے بے انتہا مواقع تھے۔ درجہ بادرجہ برطانوی طبی تعلیم کے مراحل طے کرتے ہوۓ جب ماہر مرض بننے کا مرحلہ آیا تو انھوں نے اپنے لئیے” بچوں کے دلوں ان دلوں سے جڑے پیدائشی نقائص، خاص طور پر ایسے دل جو پیدائشی چکر باز ہوں،ماں کی کوکھ سے ہی پیچیدگیوں کے سنگ باہر آئیں سو انھوں نے ایسے سارے مسائل کی رفو گری اور علاج میں مہارت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا”۔
آج سے چالیس سال پہلے دل کے امراض اور اس سے متعلق دیگر طبی معاملات کی سرجری کا شمار بہت ہی مشکل ترین کام سمجھا جاتا تھا۔ پاکستان میں تو اُس وقت بڑوں کے دل کے معاملات بھی گھمبیر تا کا شکار تھے۔ چہ جائیکہ بچوں کے دلی معاملات ، ان دنوں صاحب حثیت اپنا دل تھام کے فورا ٹکٹ کٹاتے تھے اور ایک عام پاکستانی تو بس “ اللہ مالک ہے “ کہنے کے بعد اپنے بارے میں سوچنا ہی چھوڑ دیتا تھا۔ جب کے دل میں سوراخ، والوز کی خرابی،دل سینے کے باہر یادیگر پیچیدگیوں کے ساتھ پیدا ہونے وا لے بچوں کی موت کا انتظار کیا جاتا تھا۔ تیس ،پینتیس سال پہلے برطانیہ میں بھی بچوں خاص طور پر نومولود بچوں کے دلوں سے دل لگی کا شمار مشکل ترین عمل جراحی میں ہوتا تھا۔
ڈاکٹر آصف نے اس کام کا بیڑا اُٹھانے کے بعد کبھی پیچھے مڑ کے نہیں دیکھا،اب وہ دنیا کے سب سے بڑے تبدیلی قلب کے فریمین ہسپتال نیو کاسل کی سربراہی سے ریٹائرڈ ہوۓ ہیں۔ ان کی کامیابیوں کی کہانیاں کبھی کبھی دیو مالائ قصہ لگتی ہیں۔ بلاشبہ وہ اب ایک قومی افتخار اور سرمایہ ہیں بین الاقوامی سطح پر ان کی حثیت اب ایک مشیر کی سی ہے۔علاج معالجہ اور اس کی تعلیم تربیت کے سلسلے میں ان کی مشاورتوں کی بڑی پزیرائ کی جاتی ہے۔ ان کی زیر نگرانی تر بیت حاصل کرنے والے درجنوں ڈاکٹر آج دنیا کے مختلف ہسپتالوں میں زندگی کی نوید دے رہے ہیں – ڈاکٹر آصف نے چار ہزار سے زائید بچوں کے دلی معاملات درست کرنے کے علاوہ چار سو کے قریب قلب کی تبدیلی کی جراحی بھی کی ہے۔ان اعدادوشمار میں پھیپھڑوں کی تبدیلی کے اعداد شامل نہیں ہیں۔
اس دشت کی سیاحی کے دوران اُن کی زندگی کاسب سے اہم واقعہ دوہزار بارہ میں ایک نومولود کا پیدائش کے چند منٹ بعد گیارہ گھنٹوں سے زائید کی جراحی کرنا ہے۔ اس طویل اور گھمبیر جراحی کی کامیابی کے بعد انھیں دوہزار تیرہ میں حکومت برطانیہ نے بہترین ڈاکٹر کے اعزاز سے بھی نوازا۔ ان کو ملنے والے اعزازات کی فہرست خاصی طویل ہے۔ اُن کا کہنا ہے” ایک ڈاکٹر کا سب سے بڑا اعزاز اسکے مریض کا صحت یاب ہونا اور اس کے خاندان کی مسکراہٹ ہے”۔
گزشتہ ہفتے منقعدہ تقریب میں پیدائش کے چند منٹ بعد گیارہ گھنٹے طویل جراحی کے عمل سے گزرنے والا بچہ ۱۴ سالہ نوعمر لڑکے کی شکل میں کھڑا بار بار ڈاکٹر آصف سے گلے مل رہاتھا۔
ڈاکٹر آصف کے قریبی دوست اور ہم جماعت ڈاکٹر شعیب سبحانی نے ان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوۓ بتایا”آصف ہمیشہ سے بہت محنتی انسان رہا ہے، جب ہم پڑھتے تھے تو یہ ہمیشہ مریضوں اور کتابوں میں غرق ہوتا تھا۔ گزرے وقت کے واقعات کو دوہراتے ہو ۓ انھوں نے بتایا ایک بار ڈاکٹر خواجہ معین صاحب کے ایک نمبرمیڈسن وارڈ میں صبح کے راؤنڈ کے دوران مختلف مریضوں کے ٹیسٹ کی سلائیڈ ز دیکھتے ہو ۓ معین صاحب چونک گۓ اور بے اختیار پوچھا یہ کس مریض کی سلائیڈ ہے۔ آصف نے آہستگی سے کہا”سر میری”۔ انھوں نے راؤنڈ ختم کیا اور آصف کو ساتھ لے کے باہر نکل گۓ۔ اس سلائیڈ سے پتہ چلا تھا کہ آصف کو ٹی بی ہوگئ ہے جو انھیں کسی مریض سے لگی تھی۔ ان کا علاج شروع ہوا اور وہ صحت یاب ہوگۓ۔ آصف نے اپنی یہ سلائیڈ خود بنائ تھی۔ “
اپنے دوست کی محنت اور لگن کا ایک اور قصہ سناتے ہو ۓ بتایا کہ ایک دفعہ میں اور ڈاکٹر شیرشاہ اُن کے وارڈ کی فنڈ ریز نگ کے لئے میرتھن دوڑنے برطانیہ گۓتھے۔ میرتھن کے اختتام پے آصف ہمیں وہ کاسل دکھانے لے گۓ جہاں فلم “ہیری پوٹر” کی شوٹنگ ہوئ تھی۔ اُسی وقت ان کے ہسپتال سے ایک بہت بیمار بچی کے سلسلے میں کال آگئ جسے پھیپڑوں کی تبدیلی کی ضرورت تھی اور یہ پھیپھڑےسوئیڈن سے آ رہے تھے۔ ایک بچے کی حادثاتی موت کے سبب اس کے والدین نے عطیہ کئے تھے۔ ڈاکٹر آصف نے کاسل دیکھنے ،دکھانے کا پروگرام ملتوی کیا اور ہم سب واپس آگۓ۔ آپریشن ہوا اور بچی صحت یاب ہوگئ۔
ڈاکٹر شعیب نے اپنے دوست کے بارے میں بات کرتے ہوۓ بہت عقیدت سے بتایا کہ “ آصف کا گھر ہسپتال سے چند قدم کے فاصلے پر ہے لیکن کسی بھی بچے کی سرجری کے بعد وہ کئ ، کئ دن icu ہی میں رہتا ہے کہ بچوں کے معاملات بہت نازک ہوتے ہیں”۔ وہ کہتے ہیں “ ہر کام یاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے “ والا محاورہ آصف کی زندگی پے بالکل پورا اترتا ہے ان کی زندگی کی ساتھی نینسی پیشے کے اعتبار سے ایک نرس ہیں۔ جب آصف خود کو icu میں مقید کرلیتے ہیں تو ان حالات میں وہ انھیں نہ صرف کھانا پینا پہنچاتی ہیں ان کے دکھ سکھ کاپورا خیال رکھتی ہیں۔ نینسی نے اپنے شوہر کو گھر کی ہر ذمہ داری سے مبرا کیا ہوا ہے۔
ڈاکٹر شیر شاہ کے پروگرام “ علم وآگہی کا سفر” میں جب دل اس سے جڑے معاملات پے گفتگو ہورہی تھی تو ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر آصف نے بتایا “ نوزائدہ بچے کا دل سنگترے کے برابر ہوتا ہے” پھر خود ہی ہنستے ہوۓ کہنے لگے کہ آج کی نسل کو تو شاید ہی پتہ ہو کہ سنگترہ کسے کہتے ہیں۔ چند سکینڈ تک سنگترے کی ہیت پے گفتگو کرنے کےبعد ڈاکٹر شعیب کی ایک بات کے جواب میں انھوں نےصوفی تبسم کا یہ شعر پڑھا۔

دستک سی در دل پے محسوس ہوئ کیسی
کیا پھر سے ہرے ہوں گے زخم شناسائ

ڈاکٹر آصف نے پروگرام میں بتایا کہ ایوارڈ لینے والوں میں ان کا نمبر آخری تھااور وہ خود کو اس ایوارڈ کے قابل نہیں سمجھتے کیوں کہ وہ تو صرف اپنا کام کرتے رہے ہیں۔ بحثیت ڈاکٹر یہ ان کا فرض اور ڈیوٹی ہے۔ جب کے میرے ساتھ جن دیگر افراد کو ایوارڈ دئیے گۓ انھوں نے اپنی جان پے کھیل کے دوسرے لوگوں کی جانیں بچائ ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پہلی ایوارڈ یافتہ خاتون ایک جنرل پریکٹس کرنے والی ڈاکٹر ہیں۔ انھوں نے ایک ٹرین حادثے میں زخمی ہونے کے باوجود اپنے ٹوٹے ہو ۓ ہاتھ سے کئ زخمیوں کو ڈبوں سے باہر نکالا۔ ایسے ہی ایوارڈ یافتہ ایک لڑکا جس نے سینیگال پے حملے کے وقت خود بے انتہا زخمی ہوتے ہوۓ سینیگال کا دروازہ بند کیا اور درجنوں لوگوں کی زندگی بچائ۔ آصف کے مطابق یہ اصل ہیرو ہیں کہ انھوں نے اپنی زندگی کی پرواہ نہیں کی۔
ڈاکٹر آصف کا کہنا ہے دلوں کی درستگی کا پیشہ انھوں نے نہیں چنا بلکہ پیشے نے انھیں چنا ہے۔ انھوں نے اپنی بیماری کے بارے میں گفتگو کرتے ہو ۓ بتایا کہ جب وہ تعلیم کے لئے برطانیہ پہنچے تو مشکل سے ہفتے یادس دن بعد ایک رات انھیں پھر سے خون کی الٹی ہوئ۔ وہ وقت ان کے لئے بہت مشکل تھا۔ وہ خود کو اندر سے بالکل خالی ،کھو کھلا محسوس کر تے تھے اور شدت سے ایک ہم احساس چاہتے تھے جو ان کے اندرونی ہیجان کو سمجھ سکے۔ انھیں لگا کہ ان کا ٹی بی کا مرض پھر سے جاگ گیا ہے۔
وہ کہتے ہیں جب ہم تکلیف یا پریشانی میں ہوتے ہیں تو ہمیں گڑ دینے والے کی نہیں، گڑ جیسی بات کی ضرورت ہوتی ہے۔ طب کے پیشے میں کام کرنے والوں کے لئے بہت ضروری ہے کہ وہ یہ بات سمجھ سکیں۔ بیمار بچوں کے والدین کی اندرونی کیفیت کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ خواہ ہم دل کھول رہے ہوں یا کسی اور مرض کا علاج کر رہے ہوں۔ تیس ، پینتیس سال پہلے ہمارے شعبے میں اتنی آسانیاں نہیں تھیں جو آج ہیں۔
انھوں نے دوران پروگرام ایک سولہ سال پرانا واقعہ سناتے ہوۓ بتایا کہ ایک بچی کے دل کے مسائل بہت ہی پیچیدہ تھے اور اس وقت اس کے لئے امریک سے ایک سرجن خاص طور پے آۓ تھے، آپریشن ہوالیکن دوسرے دن بچی کو دل کا دورہ پڑگیا جس کی وجہ سے اس کے گردوں نے کام کرنا چھوڑ دیا ،اس کا پیری ٹونیل ڈائیلسس کیا گیا۔ اس میں فنگس ہوگیا۔ بے تحاشہ مسائل تھے۔ ان حالات میں بچی کے والدین نے ان سے رابطہ کیا، وہ ان کے ہسپتال آئ علاج ہوا، صحت یاب ہوئ، آج اسٹیج پے آنے والے بچوں میں وہ پہلی بچی تھی۔
بچوں کے علاج کے دوران قانونی پیچیدگیاں آئیں۔ ڈاکٹر آصف کے خلاف مقدمے بنے لیکن برطانوی پارلیمنٹ نے بحث مباحثہ کے بعد بل پاس کر کے انھیں ہمیشہ کے لئے حل کردیا۔
برطانیہ میں life achievement award کا آغاز 1999 میں Daily mirror نے کیاتھا۔ اس ایوارڈ کے لئے پورے برطانیہ سے زندگی کے مختلف شعبوں سے 50,000 افراد کو نامزد کیا جاتا ہے۔ نامزدگی کے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد دس افراد کو ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر آصف اس سے قبل کئ بار ا س نامزدگی سے خود کو علیحدہ کر چکے ہیں۔ یہ ان کے مریضوں کا اسرار تھاکہ وہ ایوارڈ لیں۔
ڈاکٹر آصف کاکہنا ہے “ زندگی میں ہر فرد کے کچھ نہ کچھ مشاغل ضرور ہونے چاہئیے۔ وہ گھر میں کبھی مریضوں یا ہسپتال کی بات نہیں کرتے۔ غالب، فیض اور اقبال کی شاعری انھیں محبوب ہے۔ ان کی بیٹی سبین ڈاکٹر نہیں ہے”۔

نوٹ! تحریر کی طوالت کے پیش نظر ڈاکٹر آصف کا انٹرویو اس میں شامل نہیں کیا جارہا ہے انتظار فرمائیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں