ضابطہ فوجداری اور روٹی /محمد فاروق نتکانی

غربت جب اپنے پیٹ پر بندھی ہوئی اینٹ کو تقدیر کا پتھر سمجھنے لگے، جب فاقہ آدمی کی غیرت کو دیمک کی طرح چاٹ جائے، جب مزدور کے ہاتھوں کی لکیروں میں رزق کے بجائے چھالے اگ آئیں، اور جب ریاست اپنے شہریوں کے آنسوؤں کو محض اعداد و شمار کے قبرستان میں دفن کر دے، تب معاشرہ صرف مفلس نہیں رہتا، وہ بیمار ہو جاتا ہے۔ ولادی میر لینن نے شاید اسی کیفیت کو دیکھ کر کہا تھا کہ: “جب غربت انقلاب پیدا نہیں کرتی تو جرائم پیدا کرتی ہے۔”

یہ فقرہ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں، انسانی تاریخ کا وہ کربناک نوحہ ہے جو ہر اس بستی سے بلند ہوتا ہے جہاں بھوک، قانون سے بڑی طاقت بن جائے۔ انسان جب روٹی کے لیے دروازے کھٹکھٹاتا ہے اور جواب میں اسے وعظ، تسلی یا ڈنڈا ملتا ہے تو پھر اس کے اندر کا آدمی مرنے لگتا ہے۔ اور یاد رکھیے! جب انسان کے اندر کا آدمی مر جائے تو باقی صرف حیوان بچتا ہے، اور حیوان کو اخلاقیات نہیں، صرف ضرورت چلایا کرتی ہے۔

آج ہمارے شہروں کے چوراہوں پر جو جیب تراش کھڑے ہیں، گلیوں میں جو منشیات بکتی ہیں، بازاروں میں جو دھوکہ فروشی ہے، اور ایوانوں میں جو بدعنوانی کا سیلاب ہے، یہ سب کسی ایک فرد کی اخلاقی شکست نہیں؛ یہ اُس اجتماعی نظام کا جنازہ ہے جس نے انصاف کو امیروں کی لونڈی بنا دیا۔ بھوک کبھی تنہا نہیں آتی، وہ اپنے ساتھ بے بسی، ذلت، نفرت اور پھر جرم کو بھی جنم دیتی ہے۔

ایک مزدور کا بچہ جب اسکول کے بجائے ہوٹل کے برتن مانجتا ہے تو معاشرہ اپنے مستقبل کا گلا خود گھونٹتا ہے۔ جب نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے در در کی خاک چھانتا ہے اور اسے روزگار نہیں ملتا، تو پھر اس کے ہاتھ میں یا تو پتھر آتا ہے یا پستول۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے غریبوں کو انصاف نہیں دیا، وہاں جیلیں آباد اور درسگاہیں ویران ہوئیں۔

یہ بھی عجیب المیہ ہے کہ دولت مند طبقہ غربت کو اخلاقی کمزوری سمجھتا ہے، حالاں کہ غربت اکثر معاشی ظلم کی ناجائز اولاد ہوتی ہے۔ محلوں میں بیٹھے ہوئے لوگ جب جھونپڑیوں کے صبر کا امتحان لیتے ہیں تو پھر سڑکوں پر ہنگامے جنم لیتے ہیں۔ انقلاب دراصل بھوک کی وہ آخری چیخ ہے جسے مسلسل دبایا گیا ہو۔ مگر اگر اس چیخ کو شعور، قیادت اور انصاف نہ ملے تو وہ جرائم کے اندھے کنویں میں گر جاتی ہے۔

یہی سبب ہے کہ بعض معاشروں میں غربت نے چی گویرا پیدا کیے، اور بعض میں جیب کترے۔ کہیں بھوک نے مزدور کو پرچم تھما دیا، اور کہیں اسی بھوک نے اس کے ہاتھ میں نشہ یا اسلحہ پکڑا دیا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ ایک معاشرے میں ظلم کے خلاف راستہ موجود تھا، دوسرے میں صرف اندھی گلیاں تھیں۔

آج ضرورت اس امر کی نہیں کہ ہم صرف جرائم کی مذمت کریں؛ ضرورت اس بات کی ہے کہ اُن اسباب کا گریبان پکڑیں جو جرائم کو جنم دیتے ہیں۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کو روٹی، تعلیم، علاج اور عزت نہ دے سکے تو پھر قانون کی سختیاں بھی بے معنی ہو جاتی ہیں۔ بھوک زدہ آدمی کو ضابطۂ فوجداری نہیں، ایک وقت کی روٹی زیادہ سمجھ آتی ہے۔

قومیں توپوں سے نہیں، انصاف سے محفوظ ہوتی ہیں۔ جب تک معاشرے میں دولت چند ہاتھوں کی لونڈی اور غربت کروڑوں انسانوں کی تقدیر بنی رہے گی، تب تک جرائم کے پودے اگتے رہیں گے۔ غربت اگر انقلاب نہ بنے تو پھر بارود بن جاتی ہے، اور بارود جب پھٹتا ہے تو صرف گلیاں نہیں، تہذیبیں بھی جل اٹھتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں