ہماری زبان، ہمارا مستقبل /علی عباس کاظمی

تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ قوموں کے وجود کو سب سے پہلے احساسِ کمتری دیمک کی طرح چاٹتا ہے، پھر زوال خود اُن کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔کسی قوم کی اصل شکست اُس وقت شروع ہوتی ہے جب اُس کے بچے اپنی زبان بولنے سے شرمانے لگیں، اپنے لباس کو کمتر سمجھیں اور اپنی تہذیب پر فخر کرنے کے بجائے دوسروں کی نقل کو اپنی کامیابی کا زینہ بنا لیں۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب غلامی جسموں پر نہیں، ذہنوں پر مسلط ہو جاتی ہے۔ جب اُن کے والدین اپنی تہذیب کو “پرانا” اور دوسروں کی ہر چیز کو “ترقی” سمجھنے لگیں اور جب شناخت ایک نعمت کے بجائے بوجھ محسوس ہونے لگے۔ انسان اپنی زبان صرف بولتا نہیں، اُس میں سوچتا بھی ہے، اپنے خواب بھی اسی میں دیکھتا ہے اور اپنے دکھ بھی اسی میں بیان کرتا ہے۔اگر کوئی قوم اپنی سوچ کی زبان سے ہی بیگانہ ہو جائے تو پھر اُس کے خیالات پر کس تہذیب کا رنگ چڑھتا ہے اور اُس کے مستقبل کی کہانی آخر کون لکھتا ہے؟

زبان محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی۔ یہ صدیوں کے تجربات، تہذیبوں کے سفر، ماؤں کی لوریوں، بزرگوں کی نصیحتوں اور اجتماعی شعور کی امانت ہوتی ہے۔ دنیا کی ہر خوددار قوم نے اپنی زبان کو صرف رابطے کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اپنی شناخت کا پرچم بنایا۔ ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ وہاں لوگ دنیا کی کئی زبانیں سیکھتے ہیں، مگر اپنی قومی زبان پر کبھی شرمندہ نہیں ہوتے۔ وہ غیر ملکی زبان کو علم کا وسیلہ سمجھتے ہیں، اپنی شخصیت کا متبادل نہیں۔ہمارا مسئلہ شاید انگریزی، عربی، فارسی، چینی یا کسی دوسری زبان سیکھنا نہیں۔ اصل مسئلہ اُس لمحے سے شروع ہوتا ہے جب زبان قابلیت کے بجائے برتری کا معیار بن جائے۔ جب کسی بچے کی ذہانت اُس کے خیالات سے نہیں بلکہ اُس کے لہجے سے ناپی جائے۔ جب کسی شخص کی عزت اُس کے کردار سے نہیں بلکہ اُس کی زبان، لباس یا تلفظ سے وابستہ کر دی جائے۔پھر معاشرہ علم کی آبیاری نہیں کرتا، بلکہ نمود و نمائش کی فصل اگاتا ہے۔ وہاں کردار کی مضبوطی کے بجائے ظاہری تاثر کی قیمت بڑھ جاتی ہے اور انسان اپنی حقیقت سے زیادہ اپنی نمائش میں زندہ رہنے لگتا ہے۔

یہ عجیب تضاد ہے کہ ہم اپنے بچوں کو سچ بولنے سے پہلے اچھا انگریزی بولنا سکھانے لگتے ہیں۔ اُنہیں کتاب سے زیادہ لہجے کی فکر ہوتی ہے۔ اسکول کے پہلے دن سے یہ احساس اُن کے ذہن میں بٹھا دیا جاتا ہے کہ اگر تم فلاں زبان روانی سے بولتے ہو تو تم “مہذب” ہو، اور اگر اپنی مادری زبان میں اظہار کرتے ہو تو شاید تم ابھی ترقی کے راستے پر نہیں آئے۔ یہ احساسِ کمتری آہستہ آہستہ شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنا چاہیے کہ کیا ترقی لباس بدل لینے سے آتی ہے؟ کیا کسی اور زبان میں گفتگو کرنا انسان کو خودبخود زیادہ باوقار بنا دیتا ہے؟ کیا شخصیت کی قیمت لہجے سے طے ہوتی ہے یا کردار سے؟ اگر صرف زبان ہی کامیابی کی ضمانت ہوتی تو دنیا کے تمام فلسفی، سائنس دان اور مصلحین ایک ہی زبان میں پیدا ہوتے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ عظمت ہمیشہ فکر سے پیدا ہوتی ہے، زبان اُس فکر کی سواری ضرور بنتی ہے مگر خود منزل نہیں ہوتی۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں زبان صرف اظہار کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ سماجی طبقہ بندی کا ہتھیار بھی بن گئی ہے۔ ایک ہی شہر میں رہنے والے دو بچے، ایک ہی عمر، ایک جیسی ذہانت، ایک جیسے خواب۔۔۔ مگر اگر ایک انگریزی ذریعۂ تعلیم سے ہو اور دوسرا سرکاری اسکول سے، تو معاشرہ پہلے ہی دن اُن دونوں کے درمیان ایک غیر مرئی دیوار کھڑی کر دیتا ہے۔ یہ دیوار اینٹوں کی نہیں، احساسِ کمتری کی ہوتی ہے۔اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم اپنی مقامی زبانوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر دیتے ہیں۔ پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، سرائیکی، براہوی، بلتی، کشمیری اور اردو۔۔۔یہ سب پاکستان کی ثقافتی دولت ہیں، مگر ہم اکثر انہیں شناخت کے بجائے تقسیم کا عنوان بنا دیتے ہیں۔ حالانکہ ایک درخت کی شاخیں جتنی زیادہ ہوں، اُس کا سایہ اتنا ہی وسیع ہوتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ جڑ ایک ہو۔ قومی وحدت کا مطلب یہ نہیں کہ تنوع ختم کر دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ مختلف رنگ ایک ہی پرچم کے نیچے اپنی خوبصورتی برقرار رکھیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ بیرونی ثقافتوں سے سیکھنے میں کوئی قباحت نہیں۔ دنیا ایک دوسرے سے سیکھنے ہی کے عمل سے آگے بڑھی ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب سیکھنا تقلید بن جائے اور تقلید احساسِ کمتری میں تبدیل ہو جائے۔ جب ہم دوسروں کی اچھی عادتیں اپنانے کے بجائے اُن کی ظاہری نقل کو ترقی سمجھنے لگیں۔ لباس بدلنے سے ذہن نہیں بدلتا اور لہجہ بدلنے سے کردار بلند نہیں ہوتا۔

والدین کی ذمہ داری یہاں سب سے اہم ہے۔ اگر گھر میں بچہ اپنی مادری زبان بولنے پر ٹوکا جائے اور غیر ملکی زبان بولنے پر داد پائے تو اُس کے ذہن میں یہ تاثر لازماً پیدا ہوگا کہ اُس کی اصل شناخت کم تر ہے۔ اسی طرح تعلیمی ادارے اگر طلبہ کو اپنی زبان میں سوچنے، لکھنے اور تحقیق کرنے کی ترغیب نہ دیں تو وہ معلومات تو حاصل کر لیں گے، مگر علمی خود اعتمادی شاید کبھی نہ پا سکیں۔میڈیا بھی اس معاملے میں ایک خاموش کردار ادا کرتا ہے۔ اشتہارات، ڈراموں، سوشل میڈیا اور روزمرہ گفتگو میں اکثر ایک ایسا ماحول بنا دیا جاتا ہے جہاں “جدید” ہونے کا مطلب اپنی جڑوں سے دور ہونا سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ جدیدیت اور بے شناختی ایک چیز نہیں۔ جاپان، چین، ترکی، فرانس اور بے شمار ممالک نے دنیا کے ساتھ چلتے ہوئے بھی اپنی زبان، اپنی تاریخ اور اپنی تہذیب کو سینے سے لگائے رکھا۔ انہوں نے دنیا سے علم لیا، مگر اپنی پہچان گروی نہیں رکھی۔

بحث یہ نہیں کہ ہم کتنی زبانوں میں بات کر سکتے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی زبان کو عزت، محبت اور فخر کے ساتھ اپنانے کا حوصلہ رکھتے ہیں یا نہیں؟کیا ہم اپنے بچوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ اُن کی مادری زبان بھی عزت اور علم کی زبان ہے؟ کیا ہم انہیں یہ سکھاتے ہیں کہ دوسری زبان سیکھنا خوبی ہے، مگر اپنی زبان سے شرمندہ ہونا کمزوری؟شاید ہمیں اپنی سوچ کا زاویہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ زبانوں کے درمیان مقابلہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ صلاحیتوں کے درمیان ہونا چاہیے۔ ایک اچھا ڈاکٹر، ایماندار استاد، باکردار جج، دیانت دار صحافی یا قابل انجینئر اُس زبان سے بڑا ہوتا ہے جس میں وہ گفتگو کرتا ہے۔ زبان اُس کی مددگار ہے، اُس کی عظمت کی واحد دلیل نہیں۔

وقت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اصل اور نقل کے درمیان فرق دھندلا دیا ہے۔ ہم دوسروں کے لہجے اپنانے میں برسوں لگا دیتے ہیں، مگر اپنی تاریخ، اپنے ادب، اپنی شاعری اور اپنی تہذیب سے واقف ہونے کے لیے چند لمحے بھی نہیں نکالتے۔ شاید اسی لیے ہمارے پاس معلومات تو بہت ہیں، مگر خود اعتمادی کم ہے۔۔۔ ڈگریاں بہت ہیں، مگر شناخت دھندلی ہے۔اگر دنیا کی ہر قوم اپنی زبان، اپنی ثقافت اور اپنی شناخت پر فخر کرنا چھوڑ دے تو کیا دنیا واقعی زیادہ خوبصورت ہو جائے گی، یا پھر وہ ایک ایسی منڈی بن جائے گی جہاں ہر چہرہ ایک جیسا اور ہر آواز بے رنگ محسوس ہوگی؟

قومیں اُس دن بڑی نہیں بنتیں جب وہ دوسری قوموں جیسی نظر آنے لگیں، وہ اُس دن بڑی بنتی ہیں جب وہ اپنی شناخت کے ساتھ دنیا کے سامنے کھڑی ہونے کا حوصلہ پیدا کر لیں۔ دوسری زبانیں ضرور سیکھئے، دنیا سے ضرور جڑیے، نئے علوم ضرور حاصل کیجیے، مگر اپنی زبان، اپنی تہذیب اور اپنی شناخت کو کبھی اس قیمت پر مت چھوڑیے کہ آئینے میں اپنا ہی چہرہ اجنبی لگنے لگے۔ کیونکہ جو قوم اپنے آئینے سے نظریں چرا لیتی ہے، تاریخ ایک دن اُس کا نام بھی دھندلا دیتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں