میتھ اور اڑتے پاپڑ۔ ایک بہت نامور معیاری سرکاری ہائ سکول میں میتھ پڑھاتی تھیں۔ وہ ایک عام صورت عورت تھیں۔ مگر ان کی آواز تھی یا حلاوت اور لجاہت کا شربت گھولتی۔ کبھی میتھ کی ٹیچر نرم آواز نہیں ہوتی۔ مگر وہ نرم آواز تھیں۔ بلیک بورڈ پر میتھ کے فارمولے لکھتے وقت وہ ہندسوں کو اور الجبرا کے” لا” کو ادا کرتیں تو لگتا کہ موسیقی کا ” الاپ” ادا کر رہی ہیں ۔ نہ جانے ان کو اتنے اعلی سرکاری ہائی سکول میں کیسے نوکری مل گئی۔ شاید وہ بہت قابل تھیں۔ چھٹی جماعت سے آٹھویں جماعت کے پری سائنس سیکشن کے طالبات کو میتھ میں ہوشیار کرکے سائنس گروپ کے لئے تیار کرتی تھیں۔۔ ان کی شاگرد لڑکیاں ان سے ڈرتی نہیں تھیں ۔ سب ان کا احترام سے پیار کرتی تھیں ۔ ان کی شاگردوں میں زیادہ تر اونچے گھرانوں کی فیشن ایبل لڑکیاں تھیں ۔ مگر وہ سادہ لباس اور پردے میں لپٹی ٹیچر کے لئے سب ادب سے کھڑی ہوجاتی تھیں ۔ لمبے بالوں والی یہ خوش آواز جب اپنی پشت کرکے بلیک بورڈ پر “لا” اور ہندسے لکھتیں تو لڑکیاں بالوں میں لپٹ جاتیں ۔ وہ پیچھے مڑتیں اور لڑکیوں کو اپنے بالوں میں لپٹی پاتی تو پیار سے انہیں تختہ سیاہ کی طرف متوجہ کرواتی ۔ لڑکیاں ان کا کہنا نہ ٹالتیں ۔ فیشن سے آزاد وہ سب کو میتھ کی مشکلوں سے آزاد کراتیں ۔ کچھ طالبات کو اپنے پاس بلا کر خاص توجہ سے وقت لگا کر میتھ سمجھاتیں۔ وہ ایک پیاری ٹیچر تھیں۔ ان کا نام بھی پیارا تھا ” گلنار” مس گلنار پیدل ہی اس اعلی تعلیمی ادارے تک پڑھانے آتیں اور پیدل ہی واپس گھر جاتیں۔ ان کا گھر بہت سی لڑکیوں کو معلوم تھا۔ سکول سے گھروں کو پیدل جانے والی لڑکیاں جانتی تھیں کہ وہ کہاں رہتی ہیں۔ وہ ایک دن ان کی مداح شاگرد لڑکیوں کے لئے بہت دلگیر تھا ۔ وہ پاپڑ بیل کر گھر کو چلی جا رہی تھیں ۔ سڑک پار کرنے سے پہلے ان کے راستے میں ایک پاپڑ بیچنے والا آرہا تھا ۔ پیچھے بے فکری طالبات تیز چلتی طالبات۔۔۔ مستیاں کرتی قہقہے لگاتی لڑکیوں نے دیکھا مس گلنار نے اب چلنا بند کردیا تھا ۔وہ اب رکی ہوئی اس پاپڑ والے سے پاپڑ خرید رہی تھیں۔ پھر انہوں نے اپنے بڑے سے بیگ سے پیسے نکالے اور پاپڑ والے کو دئیے ۔ اور پاپڑ اس سے لے کر بغیر کسی تھیلے کے ہاتھوں میں تھام کر نرمی سے اپنے ساتھ لگا لئے ۔ کراچی کی تیز سمندری ہوائیں ہوں اور 3 بجے کا وقت ہو تو نازک پاپڑ توڑنے سے پہلے ہی ٹوٹ جاتے ہیں ۔ گلنار نے ایک ہاتھ سے پرس سنبھال رکھا تھا ۔ اپنے کھلے سے پردے کے نقاب کو درست کرنے لگیں تو بے رحم ہوائی جھونکوں نے ریت کے ساتھ ان کے نرمی سے تھامے پاپڑوں کو بھی اپنی اٹھکھیلیوں سے ان کے نازک ہاتھوں سے گرادیایا ۔ گلنار سڑک پر گرے پاپڑوں کو اٹھانے کے لئے دھیرے دھیرے اپنے پرس سمیت بھاگنے لگیں۔ مگر جوں ہی وہ پاپڑ اٹھانے جھکتیں اور ہاتھ ٹوٹے بکھرے پاپڑوں تک پہنچتا سمندری ہوائیں پاپڑ کو اور آگے اڑا دیتیں ۔ ساری طالبات اپنی گلنار استاد کی یہ توہین برداشت نہ کرسکیں۔ سب نے قہقہے چھوڑ چھاڑ بھاگ بھاگ کر محترم استاد کے پاپڑ پھرتی سے اکٹھے کئے ۔ کل چھ پاپڑ تھے ۔ ان میں سے چار پورے سلامت بچ گئے۔ دو میں سے ایک کے دو ٹکڑے ہوگئے ۔ ایک مکمل ٹوٹ کر چکنا چور ہوگیا ۔جن کو اٹھانا مشکل تھا ۔ اب گلنار کے پاس کل چار سالم پاپڑ تھے خستہ ۔ اور ایک پاپڑ میتھ کے دو نصف دائروں میں موجود تھا ۔ اور ایک نفی ہوچکا تھا ۔ وہ اپنی شاگردوں کے سامنے شرمسار اور بیچارگی محسوس کر رہی تھیں۔ ایک لڑکی بولی ” مس آپ چلئے میں آپ کے گھر تک پکڑے رکھتی ہوں ۔ گلنار ہچکچائیں۔ شرمندہ سی ہوئیں۔ بولیں نہیں میں لے جاوں گی۔ ان کا گھر اسی سڑک کے پار بالکل سامنے والا گھر تھا ۔ سامنے ان کی شرمندگی کھڑی تھی۔ ان کا نکھٹو شوہر ۔ ٹوٹے پھوٹے گھر کے سامنے چارپائی پر اپنی موٹی توند کے ساتھ لیٹا تھا ۔ لڑکی نے پاپڑ تھام کر گلنار کے ساتھ سڑک پار کرکے گلنار کو پاپڑ تھمائے۔ انہوں نے شاگرد کا شکریہ ادا کیا ۔ اتنے میں گھر کے باہر دن دیہاڑے بچھی چارپائی پر بیٹھی ان کی اصل کی شرمندگی نے اپنے ارد گرد بھنبھناتے چار گندے مندے ننگے بچوں کو اشارہ کیا کہ تمہاری ماں آگئی ہے۔ وہ لڑکی جس نے پاپڑ پہنچانے میں مدد کی تھی ۔وہ نو عمر آٹھویں کی طالبہ دم بخود رہ گئی ۔ اس کی محبوب اور لائق و مہربان ٹیچر گلنار کے اتنے سارے بچے ہیں ۔اتنے گندے ۔اور گھر ایسا جیسے کسی “سلم ایریا” کی جھونپڑی۔اور چارپائی پر لیٹا موٹی توند والا کہیں میتھ پڑھانے نہیں جاتا ۔ گلنار کے ہاتھوں سے پاپڑ لینے کے لئے چاروں ننگے بچے نہ جانے کب سے بھوکے ہوں گے ،پاپڑوں پر جھپٹ پڑے ۔اور گلنار نے باہر کھڑے کھڑے ہی وہ پاپڑ ان میں تقسیم کردئیے ۔شاید انہیں یہ ڈر ہو کہ سمندری ہوائیں ان پر میتھ کے فارمولے لگا کر مزید تقسیم نہ کردیں ۔اور ویسے بھی سمندری ہوا کی نمی ان کی خستگی کا مزا بھی خراب کر دیتی ہے ۔ بچوں نے وہ حسابی پاپڑ منہ میں ٹھونسنے شروع کئے ۔ گلنار اپنی شاگرد کے سامنے اپنی غربت کی شرمندگی پر پاپڑوں کی طرح ٹوٹ گئی ۔ شاگرد کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ اف یہ پاپڑ کمانے کے لئے مس گلنار نے میتھ سیکھا تھا ۔ اس کا دل چاہا کہ وہ موٹی توند والے نکھٹو کو مار مار کر الجبرا کا “لا” بنادے اور اس کو فنا کردے ۔ وہ طالبہ میتھ کی ٹیچر کو پاپڑوں کی طرح چیٹختے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ ۔۔۔ صادقہ نصیر رانا ۔۔


