ایک اعلیٰ تعلیمی ڈگری کی بے توقیری/ڈاکٹر محمد شافع صابر

پاکستان میں تعلیم کی اعلیٰ ڈگریاں اب محض کاغذ کا ایک ٹکرا بن کر رہ گئی ہیں ۔ ایف ایس سی پری میڈیکل بعد تین میجر ڈگریاں ہیں، ایم بی بی ایس/ بی ڈی ایس،ڈی فارمیسی ( ڈاکٹر آف فارمیسی) اور ڈی پی ٹی ( ڈاکٹر آف فزیو تھراپی)۔
الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے بھی کافی کورسز ہو رہے ہیں ۔ یہ تینوں میجر ڈگریاں اب oversaturated ہو چکی ہیں ۔ ہر سال اتنے ڈاکٹرز، فارماسسٹ اور فزیو تھراپسٹ فارغ التحصیل ہو کر مارکیٹ میں رہے ہیں کہ انکو accommodate کرنے کے لیے نا ہی نوکریاں ہیں اور نا ہی سرکار کے پاس اتنے وسائل ۔
ایم بی بی ایس / بی ڈی ایس کی طرح ڈی فارمیسی ( ڈاکٹر آف فارمیسی) کا شعبہ بھی روز بروز بدحالی کا شکار ہو رہا ہے۔ سب سے زیادہ افسوناک امر ہے کہ یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل فارماسسٹ اب نوکری نا ہونے کی وجہ سے میڈیکل کمپنیوں کے بطور نمائیندہ ( میڈیکل ریپ ) کام کر رہے ہیں ۔
ایک شعبہ جس کا تعلق ادوایات کے ساتھ تھا،مخدوش معاشی حالات کی وجہ سے اسکے فارغ التحصیل طلبہ اب فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی مارکیٹنگ کر رہے ہیں۔ ایک فارماسسٹ گریجویٹ اب سب سے جونئیر ڈاکٹر ایچ او ( ہاوس آفیسر) ایم او ( میڈیکل آفیسر) اور پی جی آرز ( پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز) سے او پی ڈی میں درخواست کر رہے ہوتے ہیں کہ ہماری کمپنی کی یہ نئی دوائی لازمی لکھیں۔
کیا پڑھے لکھے طبقے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ گریجویٹس کا اس سے بڑھ کر کوئی اور استحصال ہو سکتا ہے؟ شاید اسی وجہ سے دنیا انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیکنیکل تعلیم پر زور دے رہی ہے کہ کل کو ان طلبہ کو نوکری نا ملنے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا نا کرنا پڑے اور وہ سکون سے باعزت روزگار کما سکیں ۔
لیکن پاکستان میں گنگا الٹی بہتی ہے،یہاں نوکری نا ملنے کی وجہ سے لوگ پی ایچ ڈی تک کر لیتے ہیں اور بعد میں احساس ہوتا ہے کہ پی ایچ ڈی کرنے کے باوجود بھی نوکری نہیں مل رہی۔
زرا اس دل کی کیفیت جاننے کی کوشش کرے کہ جب ایک فارماسسٹ، ڈاکٹر سے وقت لینے کے لیے انتطار کر ہوتا ہے تاکہ وہ نئی دوائی کی چند پرچیاں نکلوا سکے،تاکہ اسی نوکری بچ سکے۔ کیا اس سے زیادہ کوئی اور افسوناک منظر ہو سکتا ہے؟ جبکہ اسی فارماسیوٹیکل کمپنی کا بزنس مین سیٹھ سکون سے اربوں کما رہا ہے۔
اگر آپ ڈی فارمیسی کرنے کا ارداہ رکھتے ہیں تو آپ کے پاس اتنی انوسٹمنٹ لازمی ہونی چاہیے کہ ڈگری لینے کے بعد آپ اپنی خود کی فارمیسی بنا کر کاروبار کر سکیں ، یا اپنی تعلیمی کارکردگی اور ریسرچ اتنی اچھی کریں کہ ڈگری لینے کے بعد فوراً باہر کا کوئی امتحان پاس کر کے اُدھر نکل جائیں۔
پاکستان میں اتنے اچھے شعبے کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ ایک اچھے خاصے شعبے کا بیڑا غرق کر دیا گیا ہے۔ تعلیم کی اتنی بے قدری پوری دنیا میں نہیں جتنی پاکستان میں ہے،تو جلد از جلد یہاں سے نکلنے کی کوشش کریں ۔ تعلیم کے دوران ہی اتنی سیونگ لازمی کریں کہ باہر کے امتحانات کی فیس دی جا سکے ۔

اپنا تبصرہ لکھیں