قومی مفاد یا سیاسی مفاد؟-مصور خان

جمہوریت میں سیاسی اختلاف ایک فطری عمل ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافِ رائے ہی جمہوری نظام کو متحرک رکھتا ہے، لیکن جب سیاست کا مقصد صرف اقتدار کا حصول یا مخالفین کو شکست دینا بن جائے اور قومی مفادات پسِ پشت چلے جائیں تو اس کا نقصان صرف سیاسی جماعتوں کو نہیں بلکہ پوری قوم کو اٹھانا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہمارے فیصلوں میں قومی مفاد کو ترجیح دی جا رہی ہے یا سیاسی مفاد کو؟

قومی مفاد سے مراد وہ تمام فیصلے اور پالیسیاں ہیں جو ریاست کے استحکام، عوام کی فلاح، معیشت کی مضبوطی، قومی سلامتی، آئین کی بالادستی اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کو یقینی بنائیں۔ اس کے برعکس سیاسی مفاد کا محور عموماً اقتدار، انتخابی کامیابی یا جماعتی برتری ہوتا ہے۔ جب سیاسی مفاد قومی مفاد پر حاوی ہو جائے تو ترقی کا سفر رک جاتا ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ سیاسی عدم استحکام نے ہمیشہ قومی ترقی کو نقصان پہنچایا۔ حکومتیں بدلتی رہیں، پالیسیاں تبدیل ہوتی رہیں اور قومی منصوبوں کا تسلسل متاثر ہوتا رہا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ معیشت کمزور ہوئی، سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوا اور عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔

معیشت کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ اگر معاشی فیصلے وقتی سیاسی فائدے کے لیے کیے جائیں تو اس کے اثرات برسوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح خارجہ پالیسی، قومی سلامتی، تعلیم، صحت، پانی، توانائی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے معاملات بھی ایسے نہیں جنہیں سیاسی کشمکش کی نذر کیا جا سکے۔ ان پر قومی اتفاقِ رائے اور پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے۔

دنیا کی کامیاب جمہوریتوں میں حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، مگر قومی مفادات تبدیل نہیں ہوتے۔ بنیادی معاشی سمت، قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور ریاستی اداروں کے استحکام پر وسیع اتفاقِ رائے برقرار رکھا جاتا ہے۔ یہی سیاسی بلوغت کسی بھی ملک کو مضبوط بناتی ہے۔

پاکستان کو بھی اسی سوچ کی ضرورت ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شفافیت، جوابدہی اور عوامی فلاح کو اپنی ترجیح بنائے، جبکہ اپوزیشن کا کردار صرف مخالفت نہیں بلکہ تعمیری تنقید اور قومی معاملات میں مثبت تعاون بھی ہونا چاہیے۔ اسی طرح میڈیا، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں اور عوام پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو مقدم رکھیں۔

تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب ان کی قیادت ذاتی اور جماعتی مفادات سے بلند ہو کر ریاست کے وسیع تر مفاد میں فیصلے کرتی ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر قومی مفاد پر اتفاق جمہوریت کی طاقت ہے۔

آج پاکستان کو ایسے سیاسی کلچر کی ضرورت ہے جہاں اقتدار سے زیادہ ریاست، جماعت سے زیادہ قوم اور وقتی فائدے سے زیادہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو اہمیت دی جائے۔ اگر تمام سیاسی قوتیں آئین، قانون اور قومی مفاد کو اپنی سیاست کا مرکز بنا لیں تو پاکستان نہ صرف اپنے داخلی مسائل پر قابو پا سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مضبوط، مستحکم اور باوقار ریاست کے طور پر ابھر سکتا ہے۔

آخرکار، یہ فیصلہ ہر سیاسی جماعت، ہر ادارے اور ہر شہری کو کرنا ہے کہ وہ تاریخ میں کس کردار کے ساتھ یاد رکھا جانا چاہتا ہے۔ قومی مفاد کو مقدم رکھنے والی قومیں ہی ترقی، استحکام اور عزت کی منزل حاصل کرتی ہیں، جبکہ سیاسی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دینے والی قومیں طویل عرصے تک بحرانوں سے نکل نہیں پاتیں۔ پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی اسی میں ہے کہ ہر فیصلہ، ہر پالیسی اور ہر سیاسی عمل کا محور صرف اور صرف قومی مفاد ہو۔

اپنا تبصرہ لکھیں