کیا سائیکوتھراپی کے ساتھ آپ کا تجربہ منفی رہا ہے؟-ندا اسحاق

سب سے پہلے تو جو لوگ اس سوچ کے ساتھ سائیکوتھراپی میں آتے ہیں کہ وہ تھراپی میں ”اچھا“ محسوس کریں گے انہیں سائیکوتھراپسٹ کے پاس نہیں بلکہ کسی ”اسپا“ یا ”مساج سینٹر “جانا چاہیے۔ کیونکہ سائیکوتھراپی آپ کو ”اچھا“ محسوس کروانے کے لیے نہیں بنی بلکہ آپ کی نفسیات اور موجودہ سوچوں کی بنیادیں ہلانے اور اگر ضرورت پڑے تو گرانے کے لیے اسکا جنم ہوا ہے تاکہ آپ اپنی حقیقت کو سمجھتے ہوئے زندگی میں بدلاؤ اور اسٹریس سے نمٹنا سیکھ سکیں۔

اب شروع کرتے ہیں تحریر۔۔۔۔

ایک جناب نے سوال پوچھا کہ اگر کوئی سائیکولاجسٹ وڈیوز اچھی بناتا ہو لیکن اسے سیشن بہتر طور پر کرنے نہیں آتے تو کیا اس سے کاؤنسلنگ لینی چاہیے؟

ان جناب نے ایک بہت ہی اعلیٰ سوال پوچھا ہے… اسکا جواب ویسے تو بہت پیچیدہ ہے، البتہ کچھ اہم نکات پیش کیے جاسکتے ہیں کہ کیا واقعی میں وہ سائیکالوجسٹ اپنے کام میں اچھا نہیں یا پھر یہ معاملہ اتنا آسان نہیں جتنا معلوم ہوتا ہے…..

(اہم نوٹ: اگر کوئی تھراپسٹ آپ کو جنسی، جسمانی یا جذباتی طور پر ہراساں کررہا یا کررہی ہے تو اس کے خلاف آپ کو ایکشن لینا چاہیے…. لیکن اگر آپ کو صرف ایسا ”محسوس “ہورہا ہے کہ اسکو سیشن بہتر طور پر سرانجام دینے نہیں آتا تو ضروری نہیں کہ وہ نااہل ہے بلکہ اسکی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں سے چند کا ذکر اس آرٹیکل میں کروں گی)

سائیکوانالیسس کے بانی سگمنڈ فرائیڈ کو ایک ہی بات کھائے جاتی تھی کہ ان کی وفات کے بعد سائیکوانالیسس کو لوگ ڈگری بناکر سائیکیاٹری کے ساتھ جوڑ کر اسے مٹی میں ملا دیں گے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ سائیکوانالیسس جو کئی سال چلنے تک والی طویل تھراپی ہوا کرتی تھی (زیادہ تر انسانی کی منفی اور بیالوجیکل خصوصیات پر مبنی تھی)، کی شہرت ختم ہوتی گئی اور اسکی جگہ آٹھ سیشن اور بارہ سیشن والی ”بیہیورئل تھراپی“ اور ”ہیومینسٹک تھراپی“ نے لے لی (جو سائیکوانالیسس کے مدِمقابل انسان کی نفسیات میں مثبت خصوصیات پر مبنی تھی جس کے بانی کارل روجرز تھے)…… آج کے دور میں آپ کو سی-بی-ٹی، ڈی-بی-ٹی تھراپسٹ بھی نظر آتے ہونگے، اور اب اے-آئی کے زمانے میں سب سے زیادہ خطرے کا سامنا انہی تھیراپیز کو ہے۔ (سائیکوتھراپی کی تھوڑی بہت سرسری تاریخ معلوم ہونا ضروری ہے)

اب مغرب نے تو اس پورے سفر کو بخوبی طے کیا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں تھراپسٹ ہوں یا عام عوام، انہوں نے بھی ان تمام تبدیلیوں کا سامنا کیا؟؟

پاکستان میں تھراپسٹ یا عوام، سائیکوتھراپی کا حقیقی مقصد کتنا بہتر طور پر سمجھتے ہیں؟؟

کسی بھی انسان کے اپنے تھراپسٹ سے مطمئن نہ ہونے یا اس کی سروسز سے شکایات ہونے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ جن میں سے چند میں نے اپنی پریکٹس میں بھی نوٹ کی ہیں۔

مسئلہ نمبر ۱

سب سے پہلے تو ہمارے یہاں زیادہ تر سائیکالوجسٹ کو ”ٹرانسفرنس اور کاؤنٹرٹرانسفرنس“ کی سمجھ نہیں اور نہ ہی انہیں اسکی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ تھراپی سیشن میں کلائنٹ اور تھراپسٹ کے درمیان ”لاشعوری احساسات اور لاشعوری رویے ہوتے ہیں“….

مثال کے طور پر اگر کسی کلائنٹ کا بچپن ایک ایسے والد کے ساتھ گزرا ہے جو سخت تنقید کرتے تھے، اور چونکہ تھراپسٹ کے پاس سیشن میں بہت اتھارٹی اور طاقت ہوتی ہے (بلکل آپ کے والدین کی طرح) تو بہت ممکن ہے کہ تھراپسٹ کا معمولی سا تنقیدی سوال یا تھراپسٹ کی آواز (اگر اسکی آواز میں حاکمیت ہے) بھی کلائنٹ کو ”محرک“ (trigger) کردیتی ہے۔ کلائنٹ اپنے لاشعوری احساسات اس تھراپسٹ پر ”پروجیکٹ“ (project) کرے گا، اور بہت ممکن ہے کہ تھراپسٹ اسے بلکل پسند نہ آئے (اپنے والد کی طرح)۔

بلکل یونہی تھراپسٹ بھی ”کاؤنٹر ٹرانسفرنس“ کرتا ہے، فرض کریں کہ کسی تھراپسٹ کا کلائنٹ جو سیشن میں اپنی تھراپسٹ پر تنقید کرتا ہے اور چونکہ تھراپسٹ کی تربیت ایک ایسی والدہ نے کی ہے جو کبھی اس سے خوش نہیں ہوتیں تھیں اور تنقید کرتی تھیں۔ تھراپسٹ کو اس کلائنٹ پر شدید غصہ آتا ہے اور وہ ان احساسات کو کلائنٹ پر پروجیکٹ کرنے لگتی ہے۔ کلائنٹ کی باتیں، اسکی کہانی یا انداز اکثر تھراپسٹ کے لاشعور میں دبے جذبات سطح پر لے آتی ہے۔ اور تھراپسٹ اس کلائنٹ کی جانب وہی رویہ رکھ سکتی ہے جو بچپن میں اپنی والدہ کی جانب رکھتی تھی۔

ٹرانسفرنس اور کاؤنٹرٹرانسفرنس کو پکڑنا ایک بہت بڑی مہارت ہے، کیونکہ یہی تھراپی میں رکاوٹ لیکن کسی بھی تھیراپیوٹک الائینس (therapist alliance ) کی جان بھی اسی پراسس میں ہوتی ہے۔ جو کلائنٹ اور تھراپسٹ اس پراسس کو کامیابی سے پار کرلیتے ہیں (اسکے طریقہ کار ہوتے ہیں، یہ پیچیدہ عمل ہے) وہ ایک بہتر اور لچکدار (flexible) تھیراپیوٹک الائنس بناتے ہیں جس کی بنیاد پر کلائنٹ شفایاب ہوتا ہے۔

مسئلہ نمبر ۲

ہمارے یہاں لوگوں کو لگتا ہے کہ سائیکوتھراپی چند سیشن کا نام ہے، سائیکولاجسٹ کے پاس کوئی جادوہے جس سے ان کے سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ سائیکوتھراپی کو بہت ممکن ہے کہ آپ کو کئی مہینے یا کئی سال جاری رکھنا پڑے، کیونکہ آپ کے بچپن سے اب تک کی زندگی کو سمجھنا کوئی دو دن کا معاملہ نہیں، یہ سب طویل عرصہ چلتا ہے، تہہ در تہہ معاملات سامنے آتے رہتے ہیں۔ تھراپسٹ اینالائیز کرتا رہتا ہے۔ اس سب میں وقت لگتا ہے( انسانی دماغ یادیں/یاداشت کو بہت مختلف طریقے سے تشکیل دیتا ہے، یادوں میں ہی بچپن کی پوری فلم موجود ہوتی ہے جسے ڈی-کوڈ کرنا تھراپسٹ کا کام ہوتا ہے)۔
آپ کا اپنے سائیکوتھراپسٹ کے ساتھ ایک مضبوط اور بہتر ”تھیراپیوٹک الائنس“ (therapeutic alliance ) کسی علاج سے کم نہیں۔
سائیکوتھراپی ایک بہت آہستہ رفتار عمل (slow process) ہے۔ اور کبھی کبھار بدلاؤ اتنے چھوٹے اور گہرے ہوتے ہیں کہ کلائنٹ نوٹس ہی نہیں کرتے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ان کی زندگی میں بھی فلموں کی طرح بڑا کلائمیکس (climax) ہوگا۔

مسئلہ نمبر ۳

اکثر لوگوں کی امیدیں ان کے سائیکولاجسٹ سے بہت غیر حقیقت پسندانہ ہوتی ہیں، انہیں لگتا ہے کہ ان کی کئی نسلوں یا بچپن سے ملنے والے ٹروما اور پیٹرن کو وہ سیشن میں آکر فوراً سے توڑ دیں گے۔ ایسے کلائنٹ انسانی نفسیات یا سائیکوتھراپی کی پیچیدگیوں کو نہیں سمجھتے اور اسے ”لائف کوچنگ “ کی طرح سمجھتے ہیں۔ جبکہ سائیکوتھراپی کوئی لائف کوچنگ نہیں۔

مسئلہ نمبر ۴

”سومیٹک ورک“….. اکثر لوگوں کو لگتا ہے کہ نالج حاصل کرکے وہ ٹھیک ہوجائیں گے، اکثر تھراپسٹ کو بھی لگتا ہے کہ سائیکولاجیکل انٹروینشن کسی جادو کی طرح کام کریں گی لیکن ایسا نہیں ہوتا….. ٹاک تھراپی اور سائیکوایجوکیشن نہایت اہم ہیں لیکن جسمانی احساسات کے ساتھ جڑنا اور اس نالج یا بصیرت (insight) کو کلائنٹ کی باڈی میں ضم (integrate) کرنے کے لیے سومیٹک تھراپی بہت ضروری ہے۔ جو بھی آپ نے آج تک سمجھا اس پر عمل کرنا اور اس سے منسلک مشکل اور تکلیف دہ جذبات کو محسوس کرنا بھی سائیکوتھراپی کا ایک اہم حصہ ہے۔

اس لیے نالج چاہے وڈیو میں دی جائے یا سیشن میں….. اسکا کوئی زیادہ فائدہ نہیں جب تک کہ اس سے منسلک احساسات اور جذبات کو پراسس نہ کیا جائے۔
ویسے بھی یہ دور کسی کی نالج سے متاثر ہونے کا بلکل نہیں، کیونکہ اگر بات نالج کی آئے تو اے-آئی سے مقابلہ کرنا ناممکن ہے۔

مسئلہ نمبر ۵

سائیکوتھراپی بہت مہنگا پراسس ہے اس کے لیے اچھے وسائل کی ضرورت پڑتی ہے۔ کیونکہ نفسیات اور جذبات کو سمجھنا مشکل عمل ہے، جسمانی صحت سے منسلک مسائل دوائی کھانے سے ٹھیک ہوجاتے ہیں لیکن جب بات ”جذبات“ (emotional body) کی ہو تو اس میں وقت، توانائی اور زیادہ وسائل لگتے ہیں۔ مختصراً، طویل سائیکوتھراپی کے لیے اچھے خاصے پیسوں کی ضرورت پڑتی ہے۔

مسئلہ نمبر۶

کیا مسائل کسی سائیکولاجسٹ کے ساتھ بھی درپیش ہوسکتے ہیں کہ وہ اپنے کام میں ماہر نہیں؟؟
ہاں بلکل ہوسکتے ہیں، بہت ممکن ہے کہ اس کا آپ کے ساتھ تھیراپیوٹک الائنس منفی ہو، اور آپ کا تجربہ اس کے ساتھ مندرجہ بالا دی گئی وجوہات کی وجہ سے بن نہ سکا ہو یا پھر اکثر بہترین اور مشہور نفسیات دان یہی کہتے پائے جاتے ہیں کہ

”کوئی بھی سائیکالوجسٹ اپنے کلائنٹ کو صرف اسی سطح پر سمجھ سکتا ہے جس سطح پر اس نے خود کو سمجھا ہے“

مطلب یہی کہ جتنا گہرا انسان ہوگا وہ آپ کو اسی گہرائی تک لے کر جائے گا۔
آج سے پہلے جب میں اپنی ٹریننگ کے اوائلی دنوں میں تھی، میں بھی اپنے کلائنٹ کو انکی نفسیات اور نفسیاتی الجھنوں کی گہرائی میں اسی لیول/سطح تک لے کر جاتی جہاں تک میں خود جاچکی تھی۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، میں مزید اپنی نفسیات کی گہرائیوں میں جاتی گئی (یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا) ویسے میری پریکٹس بہتر ہوتی گئی، لیکن آج بھی بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے، آج بھی بہت کچھ سمجھنا ہے اور سیکھنا ہے۔

یقیناً میں نے بھی ایک طالبعلم ہونے کے ناطے غلطیاں کی ہیں، یا میں بھی کاؤنٹرٹرانسفرنس کرتی تھی، لیکن………سائیکوتھراپی میں وقت کے ساتھ ”بہتر اور گہرا“ ہونا ضروری ہے نہ کہ ”پرفیکٹ“ بننا۔ کیونکہ ”پرفیکشن“ اپنے آپ میں ایک نفسیاتی الجھن ہے۔

کوئی کلائنٹ یا تھراپسٹ برے یا اچھے نہیں ہوتے، جو آپ کو اچھا لگے عموماً دوسروں کو گراں گزر سکتا ہے کیونکہ……

سائیکوتھراپی کے سیشن ہوں یا عام زندگی، ہم لاشعوری طور پر ”ٹرانسفر نس اور کاؤنٹرٹرانسفرنس“ کرتے رہتے ہیں، البتہ فرق یہ ہے کہ تھراپسٹ اس عمل کو سیشن میں شعور میں لاکر آپ کے پیٹرن کو توڑنے میں مدد کرسکتا ہے، جبکہ عام زندگی میں لوگوں کے ساتھ آپ آٹوپائیلٹ پر ان تمام رویوں کو دہراتے رہتے ہیں۔

پوائنٹ تو اتنے ہیں کہ شاید کتاب لکھ دوں!

لیکن اس جواب کو یہیں ختم کرنا ہوگا…..

اپنا تبصرہ لکھیں