ہمارے دیہی علاقوں میں صدیوں سے قائم باہمی انحصار کی معیشت صرف روزگار کا نظام نہیں تھی بلکہ سماجی تحفظ، باہمی ذمہ داری اور اعتماد کا بھی ایک ڈھانچہ تھی۔ اسی نے وہ اقدار تشکیل دی تھیں جو معاشی تبدیلیوں کے باوجود برسوں بلکہ بعض اوقات نسلوں تک اپنا تسلسل برقرار رکھتی تھیں۔ سماجی تبدیلی کی یہی سست رفتاری، یا سماجی جڑت، ایک طرف معاشی سیڑھی پر اوپر چڑھنے والوں کو فوری طور پر اپنا سماجی رتبہ تبدیل نہیں کرنے دیتی تھی، لیکن دوسری طرف اسی کے باعث نیچے رہ جانے والوں کو بھی ایک دیرپا سماجی تحفظ حاصل رہتا تھا۔
پنجاب میں ٹیکنالوجی کی آمد، زرعی معیشت میں تبدیلی، اور غربت کے دباؤ نے متعدد مسلمان برادریوں کو اپنے روایتی پیشے تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔ اس کے نتیجے میں وہ کام، جن میں مسیحی محنت کشوں کی ضرورت زیادہ تھی، سکڑنے لگے۔ مونجی لگانا، روڑی کو کھیتوں میں پھیلانا، مویشیوں کے باڑوں کی صفائی، شہروں میں گھروں سے کوڑا اٹھانا، میونسپلٹی کے صفائی کے کام، اینٹوں کے بھٹوں پر مزدوری—یہ سب شعبے رفتہ رفتہ بدلتے گئے۔ جب مسیحی محنت کشوں کی معاشی ضرورت کم ہوئی تو انہیں سماجی طور پر بھی مزید حاشیے پر دھکیلا جانے لگا۔ لیکن یہ عمل اچانک نہیں ہوا۔ اس معاشی ڈھانچے کے ٹوٹنے کو سماجی اور ثقافتی رویوں میں تبدیل ہونے، اور توہینِ مذہب جیسے الزامات کو ایک سماجی ہتھیار کی شکل اختیار کرنے میں کئی دہائیاں لگیں۔
اسلام آباد میں صورتِ حال یکسر مختلف تھی۔ یہ شہر تو خود دیہات کی قبر پر تعمیر کیا گیا تھا، جہاں مختلف علاقوں سے آنے والے لوگوں کو ان کے اپنے سماجی ڈھانچوں سے الگ کر کے بسایا گیا۔ ایک لحاظ سے یہ ایسا نیو لبرل شہر تھا جو نیو لبرلزم کے سیاسی غلبے سے بھی پہلے وجود میں آ گیا تھا۔ یہاں تعلقات کی بنیاد برادری، خاندان یا باہمی ذمہ داری کے بجائے افادیت، معاشی منطق اور شہری منصوبہ بندی تھی۔ شہر کا نقشہ بھی انہی ضرورتوں کے مطابق بنتا اور بدلتا رہا، اور اس میں ہمیشہ معاشی و سماجی سیڑھی پر اوپر موجود طبقوں کی ضروریات کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔
اسلام آباد میں جب پشتون محنت کشوں کی ضرورت کم ہوئی تو ان کی بستیاں مسمار کی گئیں، اور اب مسیحی آبادیوں کو بھی انہدام کے نوٹس مل رہے ہیں۔ اس عمل کی تفصیل عاصم سجاد اختر، عالیہ امیر علی اور دوسرے سماجی کارکنوں اور محققین کے کام میں دیکھی جا سکتی ہے۔ ایسی مثالیں مغل دور کے شہروں میں بھی ملتی ہیں، لیکن ان شہروں کے اندر پرانے دیہات اور مقامی سماجی ڈھانچے بھی کسی نہ کسی صورت موجود رہتے تھے۔ اسلام آباد اس لحاظ سے ایک مختلف تجربہ تھا۔
اسلام آباد میں جب کسی نئے سیکٹر کے کسی حصے کی تعمیر شروع ہوتی تو قریب ہی تعمیراتی سامان کی دکانیں، مزدوروں کے کھانے اور چائے کے ہوٹل، اور دوسری ضرورت کی چھوٹی چھوٹی دکانیں بھی وجود میں آ جاتیں۔ پشتون محنت کشوں کی جغرافیائی نقل و حرکت ہمیشہ سے بہت سی دوسری برادریوں کے مقابلے میں زیادہ رہی ہے، اس لیے عموماً ایک ترپال کے نیچے روزمرہ استعمال کی اشیا بیچنے والے کسی ‘پٹھان’ کی دکان بھی کھل جاتی۔ پھر جیسے جیسے گھروں میں لوگ آباد ہونا شروع ہوتے، اس دکان میں فروخت ہونے والی اشیا بھی بڑھتی چلی جاتیں۔
یہ ‘پٹھان’ مکان کی تعمیر سے لے کر اس میں زندگی بسنے تک کے پورے عمل کا حصہ بن جاتا۔ مجھے یاد ہے، ایسے ہی ایک تعمیر ہوتے ہوئے سیکٹر میں ، ایک دن میں قریب کے ایسے ہی ایک ‘پٹھان’ سے سگریٹ لینے گیا تو اس نے بڑی سادگی سے بتایا کہ گلی میں رہنے والی آپ کی خاتون دوست کا کراچی والا دوست کل سے آیا ہوا ہے۔ ایک لمحے کو میرا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ یہ ایک اکیلی خاتون کی نجی زندگی میں مداخلت کیوں کر رہا ہے؟
پھر فوراً خیال آیا- نہیں، یہ معاملہ کچھ اور ہے۔ یہ تو ہمارے اس نئے اور چھوٹے سے بنتے ہوئے سماج کا ویسا ہی کردار ہے جیسا کسی گاؤں کے دکاندار کا ہوتا ہے۔ وہ خاتون بھی کبھی کبھار اس سے خریداری کرتی ہوگی۔ کراچی سے آنے والا مہمان بھی غالباً کل گولڈ لیف کے دو سگریٹ لینے اسی کے پاس آیا ہوگا، اور اسی دوران معمول کی خیریت دریافت ہوئی ہوگی۔ یہ ریاستی یا اخلاقی نگرانی نہیں تھی، بلکہ اعتماد، روزمرہ تعلقات اور غیر رسمی معلومات کے تبادلے کا وہی نظام تھا جو دیہی معاشروں میں فطری طور پر موجود ہوتا ہے۔
لیکن پھر ایک اور مرحلہ آتا۔ جب سیکٹر کے اس حصے میں کافی گھر بن جاتے تو ساتھ ہی ‘چھوٹی مارکیٹ’ بھی تعمیر ہونا شروع ہو جاتی۔ پھر مارکیٹ میں پہلا جنرل سٹور کھلتا۔ ‘پٹھان’ سوچتا کہ وہ مزید مال ڈال کر اس سٹور کا مقابلہ کر لے گا۔ کچھ لوگ کامیاب ہو کر اسی مارکیٹ میں کرائے کی دکان بھی خرید لیتے، لیکن اکثر ایسا نہیں ہوتا۔ پھر کسی دن سی ڈی اے کو درخواست چلی جاتی کہ اس دکان کی موجودگی سے ہماری عورتیں اور بچے خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
گروہوں اور افراد کے ساتھ یہ رویہ اس منصوبہ بند نیو لبرل شہر کی نفسیات کا حصہ ہے۔ اشرافیہ تو اپنے طبقاتی مفادات کی وجہ سے ایسا کرتی ہی ہے، لیکن اسی شہر کے سٹرگلرز، سستے سیکٹروں میں کرائے پر رہنے والے، اور متوسط طبقے کے نئے شہری بھی آہستہ آہستہ اسی منطق کو اپنا لیتے ہیں۔ اپنے دیہات سے آنے والے مہمانوں کے ساتھ، دفتر کے ساتھیوں کے ساتھ، ہمسایوں کے ساتھ، بیرون اسلام آباد کے دوستوں کے ساتھ ۔۔۔ہر تعلق رفتہ رفتہ مستقل سماجی رشتے کے بجائے ضرورت پر مبنی عارضی تعلق میں بدلنے لگتا ہے۔ مسلسل خود کو بہتر ثابت کرنے، اور اشرافیہ کی نقل کرتے کرتے وہ واقعی یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ کمیونٹی اور فرد سے تعلق بذاتِ خود کوئی قدر نہیں، بلکہ صرف اس وقت تک اہم ہے جب تک اس سے کوئی عملی یا معاشی فائدہ حاصل ہو۔


