قومی آبادی کونسل یا ایک اور نمائشی کمیٹی؟- محمد امین اسد

پاکستان میں جب بھی کوئی سنگین قومی مسئلہ حد سے بڑھ جاتا ہے تو اس کے حل کے لیے عملی اقدامات کے بجائے ایک نئی کونسل، نئی کمیٹی یا نئی اتھارٹی قائم کر دی جاتی ہے۔ تازہ ترین مثال “نیشنل پاپولیشن کونسل” ہے، جس کی سربراہی وزیراعظم کریں گے اور جس میں آرمی چیف سمیت مختلف اعلیٰ حکومتی شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں آبادی کا مسئلہ واقعی کسی نئی کونسل کی کمی سے پیدا ہوا تھا، یا مسئلہ ریاستی نااہلی، ناقص حکمرانی اور مسلسل عدمِ عمل درآمد کا ہے؟

آبادی میں بے ہنگم اضافہ پاکستان کا حقیقی مسئلہ ضرور ہے، لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اس موضوع پر پالیسیاں، ادارے، محکمے، سیکڑوں اجلاس، اربوں روپے کے منصوبے اور بے شمار سرکاری ملازمین پہلے ہی موجود ہیں۔ اگر ان سب کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے تو ایک نئی کونسل قائم کرنے سے اچانک کون سا معجزہ رونما ہو جائے گا؟

اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز یا آرمی چیف کی آئینی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں آبادی کی منصوبہ بندی کہاں شامل ہے؟ مسلح افواج کا بنیادی فریضہ ملکی دفاع، قومی سلامتی اور بیرونی خطرات سے تحفظ ہے۔ اگر ہر قومی مسئلے کے حل کے لیے عسکری قیادت کو ہی مرکزی کردار دیا جائے تو پھر متعلقہ وزارتیں، محکمے اور منتخب حکومتیں کس مقصد کے لیے قائم کی گئی ہیں؟ کیا یہ طرزِ حکمرانی ادارہ جاتی ذمہ داریوں کو مزید مبہم نہیں بناتا؟

اسی طرح چاروں وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزارتیں اور متعلقہ سرکاری ادارے پہلے بھی اپنی آئینی اور انتظامی ذمہ داریوں کے تحت یہی کام کرنے کے پابند تھے۔ ان کی جاب ڈسکرپشن میں پالیسی سازی، منصوبہ بندی، وسائل کی تقسیم، صحت، تعلیم اور آبادی جیسے شعبے پہلے سے شامل ہیں۔ اگر یہ ذمہ داریاں اب تک پوری نہیں ہو سکیں تو نئی کونسل بن جانے سے کون سی نئی صلاحیت پیدا ہو جائے گی؟

اصل کام نہ اسلام آباد کے کانفرنس ہالوں میں ہوتا ہے اور نہ ہی سرکاری اعلامیوں سے۔ آبادی پر مؤثر کنٹرول اس وقت ممکن ہوتا ہے جب بنیادی صحت کے مراکز فعال ہوں، تعلیم عام ہو، خواتین کو بااختیار بنایا جائے، خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات ہر گھر تک پہنچیں، اور مقامی سطح پر تربیت یافتہ عملہ مسلسل کام کرے۔ یہ سب کام ڈاکٹر، نرسیں، لیڈی ہیلتھ ورکرز، اساتذہ، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکمے کرتے ہیں، نہ کہ اعلیٰ سطح کی نمائشی کونسلیں۔

خدشہ یہ بھی ہے کہ ایسی کونسلیں اکثر ایک اور بجٹ، ایک اور سیکریٹریٹ، ایک اور انتظامی ڈھانچہ اور مزید سرکاری اخراجات کا سبب بنتی ہیں۔ عوام کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کیا اس نئے ادارے پر بھی کروڑوں بلکہ اربوں روپے خرچ ہوں گے، جبکہ نتیجہ وہی رہے گا جو گزشتہ کئی دہائیوں سے سامنے آ رہا ہے؟

پاکستان کو آج آبادی کے مسئلے سے زیادہ حکمرانی کے بحران کا سامنا ہے۔ اگر موجودہ ادارے اپنی ذمہ داریاں دیانت داری، اہلیت اور جوابدہی کے ساتھ ادا کریں تو شاید نئی کونسلوں کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ لیکن اگر ہر ناکامی کا جواب ایک نئی کمیٹی اور ہر بحران کا علاج ایک نئی کونسل ہے، تو پھر مسائل حل ہونے کے بجائے صرف سرکاری فائلوں کا حجم بڑھتا رہے گا۔

پاکستان اس وقت معاشی دباؤ، بے روزگاری، مہنگائی، تعلیم، صحت اور وسائل کی شدید قلت جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں عوام کو نئی کونسلوں کے قیام سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ موجودہ ادارے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کریں، اپنی کارکردگی کا حساب دیں اور عملی نتائج سامنے لائیں۔ قوم اب اعلانات نہیں، جوابدہی چاہتی ہے؛ نئے عہدے نہیں، مؤثر حکمرانی چاہتی ہے؛ اور نئی کمیٹیاں نہیں، ایسے فیصلے چاہتی ہے جو واقعی ملک کو بحرانوں سے نکال سکیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں