خیبر پختونخوا میں انجینئرنگ کی تعلیم کا بحران: ہزاروں سیٹس، مگر طلبہ کہاں ہیں؟-اے وسیم خٹک

خیبر پختونخوا میں انجینئرنگ کی تعلیم ایک ایسے بحران کی طرف بڑھ رہی ہے جس پر حکومت، یونیورسٹیوں، والدین اور تعلیمی پالیسی سازوں کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

دستیاب اعداد و شمار اور سوشل میڈیا پر زیرِ گردش رپورٹس کے مطابق، صوبے میں انجینئرنگ کی تقریباً 6 ہزار داخلہ سیٹس کے مقابلے میں صرف 5372 طلبہ نے انجینئرنگ انٹری ٹیسٹ دیا، جبکہ ان میں سے محض 918 امیدوار مطلوبہ معیار پر پورا اتر سکے۔

اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں تو صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔

یعنی ہزاروں انجینئرنگ سیٹس کے لیے اہل امیدوار ہی موجود نہیں۔

سادہ حساب لگائیں تو تقریباً 85 فیصد ٹیسٹ دینے والے امیدوار مطلوبہ معیار تک نہیں پہنچ سکے، جبکہ دستیاب سیٹس کے مقابلے میں کامیاب اُمیدواروں کی تعداد صرف تقریباً 15 فیصد بنتی ہے۔

مسئلہ صرف یہ نہیں کہ طلبہ ٹیسٹ پاس نہیں کر رہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ طلبہ انجینئرنگ کی طرف آ ہی کیوں نہیں رہے؟

ایک وقت تھا جب انجینئرنگ پاکستان کے ذہین ترین طلبہ کی پہلی ترجیح ہوا کرتی تھی۔ انجینئر بننا ایک باعزت، محفوظ اور روشن مستقبل کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ آج صورتحال بدل چکی ہے۔

بڑی تعداد میں طلبہ Computer Science، Artificial Intelligence، Data Science، Cyber Security، Software Engineering، Business اور دیگر شعبوں کی طرف جا رہے ہیں۔

وجوہات بھی واضح ہیں۔ پاکستان میں روایتی انجینئرنگ گریجویٹس کے لیے روزگار کے محدود مواقع، کم ابتدائی تنخواہیں، صنعتوں کی سست ترقی، یونیورسٹیوں اور انڈسٹری کے درمیان کمزور رابطہ اور بیرونِ ملک بہتر مواقع نے انجینئرنگ کی کشش کو شدید متاثر کیا ہے۔

اگر واقعی University of Engineering and Technology, Peshawar اور صوبے کے دیگر انجینئرنگ اداروں میں ہزاروں سیٹس موجود ہیں جبکہ اہل امیدواروں کی تعداد ایک ہزار سے بھی کم رہ گئی ہے، تو صرف داخلہ پالیسی تبدیل کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

اب اطلاعات ہیں کہ داخلوں کا دائرہ وسیع کرکے پاکستان کے دوسرے صوبوں کے طلبہ کو بھی زیادہ مواقع دیے جا رہے ہیں۔ یہ اقدام خالی سیٹس پُر کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: خیبر پختونخوا کے طلبہ انجینئرنگ سے دور کیوں ہو رہے ہیں؟

اگر کسی یونیورسٹی کے پاس عمارتیں، لیبارٹریاں، پروفیسرز اور ہزاروں سیٹس موجود ہوں، لیکن طلبہ داخلہ لینے کے لیے تیار نہ ہوں، تو مسئلہ طلبہ کا نہیں بلکہ پورے تعلیمی اور معاشی نظام کا ہے۔

ہمیں چند سنجیدہ سوالات پوچھنے ہوں گے:
– کیا ہماری انجینئرنگ ڈگریاں موجودہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہیں؟
– کیا چار سال انجینئرنگ پڑھنے کے بعد ایک نوجوان کو مناسب ملازمت ملتی ہے؟
– کیا یونیورسٹیوں میں وہ جدید ٹیکنالوجیز پڑھائی جا رہی ہیں جن کی پاکستان اور عالمی مارکیٹ میں طلب ہے؟
– کیا Civil Engineering، Electrical Engineering، Mechanical Engineering اور Chemical Engineering جیسے روایتی شعبوں کو AI، Automation، Robotics، Renewable Energy، Semiconductor Technology اور جدید Manufacturing کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے؟

اور سب سے اہم سوال: کیا ہم صرف یونیورسٹیوں کی سیٹس بھرنا چاہتے ہیں، یا واقعی ایسے انجینئر تیار کرنا چاہتے ہیں جن کی مارکیٹ میں ضرورت ہو؟

پورے پاکستان کے طلبہ کے لیے داخلے کھول دینا وقتی طور پر خالی سیٹس کا مسئلہ حل کر سکتا ہے۔ لیکن اگر انجینئرنگ گریجویٹس کے لیے روزگار، صنعت، تحقیق اور بہتر تنخواہوں کے مواقع پیدا نہ کیے گئے تو چند سال بعد پورے ملک میں انجینئرنگ یونیورسٹیوں کو یہی بحران درپیش ہوگا۔

پاکستان کو انجینئرز کی ضرورت ہے۔ لیکن ایسے انجینئرز کی، جن کے علم اور مہارت کی مارکیٹ میں حقیقی قدر ہو۔

سیٹس بھرنا تعلیمی پالیسی نہیں ہوتی۔ ایسا نظام بنانا جس میں نوجوان انجینئرنگ پڑھنے کے بعد اپنا مستقبل محفوظ دیکھ سکیں، اصل تعلیمی پالیسی ہے۔

اب آپ کے خیال میں طلبہ  کے انجینئرنگ سے دور ہونے کی اصل وجہ روزگار کی کمی، کم تنخواہیں، پرانا نصاب، یا نوجوانوں کی ترجیحات بدل جانا ہے؟

اپنا تبصرہ لکھیں