بڑھتی ہوئی بے روزگاری / ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

پاکستان سمیت دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے غریب لوگوں کو فاقوں پر مجبور کر دیا ہے۔ کسی گھر میں ایک وقت کی اور کسی گھر میں دو وقت کی روٹی میسر ہے۔ رہی صحیح کسر بجلی، گیس، پانی اور انٹرنیٹ کے بل نکال دیتے ہیں۔ اگر کرائے کا گھر ہے تو صورت حال اور زیادہ ابتر ہے۔بے جا ٹیکسوں کا بڑھتا ہوا بوجھ جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہا ہے۔ تنخواہ ایسے ختم ہو جاتی ہے جیسے راتوں رات دیمک چاٹ گئی ہو۔ ہر کوئی اپنی اپنی جگہ پریشان ہے۔کسی کو کوئی خبر نہیں کہ اس کی نوکری کب چلی جائے گی؟ سرکاری سطح سے لے کر پرائیویٹ اداروں تک معاملات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ پتہ نہیں کہ کل نوکری پر آنا ہے یا نکالنے کے صدمے سے دوچار ہونا ہے۔روز مرہ زندگی میں کوئی ایسا دن نہیں جس میں بے روز گاری کی خبر نہ ملی ہو۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خبریں ، ریڈیو پر نشر ہونے والی خبریں ، سرکاری اور غیر سرکاری چینلز پر نشر ہونے والی خبریں چونکا رہی ہیں۔ اداروں کی نجکاری سے لے کر گولڈن شیک تک آفر کی سیل لگی ہوئی ہے۔ پڑھا لکھا طبقہ ہاتھوں میں ڈگریاں اٹھائیں رب کریم سے دعا مانگ رہا ہے کہ خدارا ! انہیں کوئی نوکری مل جائے۔البتہ ان کی پریشانیوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔نوجوانوں کے ایک ہاتھ میں ڈگریاں ،دوسرے ہاتھ میں بے روزگاری کی ریکھا ، لبوں پہ دعائیہ کلمات ، دلوں میں وسوسے ، آنکھوں میں بے بسی کی تصویر ، دماغ فکر و تردد میں ڈوبا ہوا۔ جگہ جگہ انٹرویوز اور ٹیسٹوں کی چکی میں پس کر غیر یقینی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔شاید ماضی میں ایسی بھیانک صورت حال نہ تھی۔ عصر حاضر میں بے روزگاری کا جو کرب بڑھ رہا ہے۔ اس کی شدت برداشت سے باہر ہے ۔ایک طرف یونیورسٹیز ہر سال لاکھوں ڈگریز کا اجرا کر رہی ہیں اور دوسری طرف مارکیٹ میں نوکریوں کا نام و نشان تک نہیں ہے۔رواں برس داخلوں کی شرح میں نمایاں کمی ہے۔نوجوانوں کا سوشل میڈیا کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے۔وہ ایسی ایسی بے حیا ویڈیوز بنا رہے ہیں جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ معاشرے میں انتہا درجے کی تشویش بڑھ رہی ہے۔خودکشی کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔مایوسی بھی پیدا ہو رہی ہے۔ غم و غصہ بھی ابتر ہو رہا ہے۔
ان ساری باتوں کے پس پردہ بنیادی محرک بے روزگاری ہے۔ جس کا درجہ حرارت ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ادارے اپنی اپنی جگہ بے بسی کا رونا رو رہے ہیں۔جب کہ ضرورت مند اپنی فکروں کی داستان سنا رہے ہیں۔ کیا مستقبل میں بے روزگاری کا موثر حکمت عملی سے حل ممکن نہیں۔چین اور بھارت کی آبادی کا تناسب تو ہم سے بہت زیادہ ہے۔اس امر کے باوجود بھی وہاں روزگار موجود ہے۔عوام مختلف شعبہ جات سے منسلک ہیں۔ لوگ رزق روٹی کما کر اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں۔ احساس ذمہ داری کا ثبوت فراہم کر رہے ہیں۔ایمانداری کا مظاہرہ کر رے ہیں۔ایک دوسرے کے کام آ رہے ہیں۔انسان دوست پالیسیوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ شب و روز محنت کر رہے ہیں۔ تعلیم ، ہنر ، زراعت اور تجارت میں سرگرم ہیں۔ ان کی ذاتی دل چسپی اور گہری وابستگی کامیابی کا بھرپور انعام ہے۔بڑھنا اور مسلسل بڑھنا یہی کامیابی کا گر ہے۔ دنیا میں وہی قومیں سرخرو ہوئی ہیں جنہوں نے محنت کو اپنے نصب العین میں شامل کیا ہے۔پھر انہوں نے نہ دن دیکھا نہ رات دیکھی بلکہ تواتر و تسلسل کے ساتھ ڈٹ کر محنت کی ہے۔ایمان داری کے پودے لگا کر خاطر خواہ پھل حاصل کیا ہے۔پھل حاصلات کا ثمر ہے۔کیوں کہ حرکت میں برکت کا تصور پوشیدہ ہے۔
ملکی صورت حال کو دیکھتے ہوئے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اب نوکریوں کے خواب چھوڑ کر کاروبار کریں۔تجارت شروع کریں۔ زرعی پیداوار پر توجہ دیں۔ تعلیم ایک حد تک ضروری ہے اس کے بعد ہنر سیکھ لیں۔ بہت پڑھنے کے بعد بے روزگاری کا کشکول تھامنا ناکام زندگی کی علامت ہے۔چھوٹے چھوٹے کام سیکھ کر زندگی کو استحکام بخشا جا سکتا ہے۔خاندان کی کفالت کی جا سکتی ہے۔ بگڑی ہوئی معشیت کو سدھارا جا سکتا ہے۔
وقت کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے قدم ایک ایسے مقصد کی طرف موڑیں جہاں سکون کی پرچھائیوں کا سایہ ملے۔ذہنی دباؤ برائے نام ہو۔ مایوسی کی کیفیت پیدا نہ ہو بلکہ خوشی اور دلی اطمینان حاصل ہو۔

اپنا تبصرہ لکھیں