دل بہ یار، دست بہ کار/ ڈاکٹر اظہر وحید

عجب اتفاق ہے، لاہور سے سردار محمد احمد صاحب نے اور نیوزی لینڈ سے مہتاب قمر نے اس ہفتے ایک ہی نوعیت کا سوال کیا ہے۔ اسے محض اتفاق کہیں یا حسنِ اتفاق — یہ آپ کا خیال اور حسنِ خیال ہے۔ ان دونوں جوانوں کے سوالات کا خلاصہ یہ رہا: ”فی زمانہ ہمارا کام ہمیں اپنی طرف کھینچ لیتا ہے، ہمارے ذہنی و جسمانی قویٰ سب کے سب اس کام کے لیے گویا وقف ہو جاتے ہیں، ایسے میں بزرگوں کا وہ مقولہ کیسے قابلِ عمل بنایا جائے کہ ہاتھ کام کاج کی طرف ہو اور دل یار کی طرف“۔ یہ بہت ہی طویل سوال کی ایک گونہ تلخیص ہے۔ اس سوال میں شامل دورِ حاضر کی یہ پیچیدگی بھی شامل ہے کہ فی زمانہ ہائی ٹیک قسم کے کام ایسے ہیں جن میں تخلیقی صلاحیت درکا ر ہوتی ہے۔ اپنے شعبے میں اپ ٹو مارک رہنے کے لیے ، اپنی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے جدید ترین ٹولز اور جدید طریقہ ہائے کار مسلسل سیکھنے پڑتے ہیں، جس کا لازمی تقاضا یہ ہوتا ہے کہ کسی کمپنی میں کام کرنے والا ملازم پوری دل جمعی سے وہ کام ہمہ وقت سیکھنے میں محو رہے۔ جتنی بڑی پوسٹ ہوتی ہے، اسی قدر بڑا تقاضا ہوتا ہے کہ اپنا کام میں جدت پیدا کرو، اور مزید بھی سیکھتے چلےجاؤ۔ اس صورتِ حال میں دل کے پاس یہ فرصت کہاں سے آئے کہ وہ وقفِ یار یا وقفِ یاد ہو سکے۔ سوال یقینی طور پر ایک عملی نوعیت کا ہے۔ سردار صاحب کے سوال میں ایک الگ سے منظر یہ بھی تھا کہ اپنے کام کے سلسلے میں مسلسل کمپیوٹر اسکرین کے ساتھ مشغول رہنے سے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے انسان اپنی روحانیت سے دُور ہو چلا ہے— قلبی کیف اور کیفیت گویا ختم سی ہو کر رہ جاتی ہے۔ اقبالؒ اپنے دَور میں ، جب مشینوں کے آلات ہنوز اِس قدر برق انداز اور سبک اندام نہ تھے، عہدِ موجوو کا یہ مرثیہ کہہ چکے ہیں کہ
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

مصروفیت کی اس عفریت سے بچنے کے لیے سب سے اہم کام فرصت پانا ہے ، اور پھر اس فرصت کی حفاظت کرنا ہے۔ آج اگر ہم کسی طور فرصت پا بھی لیں تو اپنی فرصت کو موبائل اسکرینوں کی نذر کر دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے ہمیں ڈی سوشل de-social کر دیا ہے۔ دور دراز کے انسانوں سے رابطہ کرنے کی ہوس میں ہم اپنے پاس بیٹھے ہوئے انسانوں سے غافل ہوئے چلے جا رہے ہیں۔ فرصت کی حفاظت کے لیے لازم ہے کہ ہم اپنے وقت کی درست تقسیم کریں۔ مثلاً معاشیات کے لیے ہمیں چوبیس گھنٹوں سے صرف آٹھ گھنٹے وقف کرنے کی اجازت ہے۔ اگر ہمارا کام، ہمارا دفتر یا کاروبار ہمارے پورے دن پر شب خون مارنا شروع کر دیتا ہے تو سمجھ لیں کہ ہم خود سے دُور ہو گئے — اور پھر اقبالؒ صاحبِ حال کا وہی شکوہ ہم پہ یوں صادق آئے گا کہ
تُو اگر میرا نہیں بنتانہ بن، اپنا تو بن

اپنے وقت کو وقف ِ معیشت کرنے میں افراط و تفریط ہمیں راہِ عدل سے دور کر رہی ہے۔ عدل کی تعریف یہ ہے کہ ہر شے کو اُس کے درست مقام پر رکھا جائے۔ روحانیت کو روحانیت کے مقام پر، معاشرت کو معاشرت کے مقام اور معیشت کو معیشت کے مقام پر رکھنا از حد ضروری ہے۔ وہ لوگ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ معیشت کے درست ہونے سے معاشرت بھی درست ہو جائے گی، وہ تصورِ باطل پر ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید دولت انسان کے جذبات کو خرید سکتی ہے۔ دولت کے پاس یہ قوتِ خرید نہیں کہ وہ انسانی دل بھی خرید سکے۔ انسانی دِل مائل کرنے میں جو کام اِخلاق ، اخلاص اور محبت کرتے ہیں، وہ دولت ، قوت اور منصب کے بس میں کہاں؟ ہمارے بہن بھائیوں کو ہماری دولت سے زیادہ اس عزت کی ضرورت ہوتی ہے جو ہم دینے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ دولت میں یہ استطاعت ہی نہیں کہ وہ کسی کا دل جیت سکے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں:” پیسہ صرف نگاہ کو خیرہ کرتا ہے“ ۔ معلوم ہوا کہ دولت صرف دماغ کو متاثر کرتی ہے ، دماغ ہی خراب کرتی ہے —اور پھر اپنی چکاچوند چھوڑ کر آگے کسی خراب خانے کی طرف بڑھ جاتی ہے!

عدل کا تقاضا ہے کہ جسم کو جسم کے مقام پر رکھا جائے اور روح کو روح کے مقام پر۔ لازم ہے کہ انسان اپنی روح کے تقاضوں کی حفاظت کرے، کہیں ایسا نہ ہو کہ جسم کے تقاضے نبھاتے نبھاتے وہ اپنی روح کو پژمردہ و پامال کر لے۔ قلب کا تعلق روح کی دنیا کے ساتھ ہے، اور دماغ کا تعلق جسم اور جسمانی دنیا کے ساتھ۔ جسم کی دنیا میں معیشت اہم ہے اور روح کی دنیامیں خیال— ! خیال کو چھوڑ کر — روحانی خیال کی قیمت پر دنیا کا خیال حاصل کرنا ایک خسران کہلائے گا۔ خسارے کی تجارت یہی ہے۔ تجارت میں یہ خیال رہے کہ یہ خسارے کی تجارت نہ ہو۔ سودا طے کر تے ہوئے بھی انسان دیکھے کہ وہ کہیں گھاٹے کا سودا نہ کر بیٹھے۔ دولت ، منصب اور ترقی کی قیمت اگر سکونِ قلب اور پامالی ِ قلب ہے، تو یہ ایک بہت بھاری قیمت ہے۔ دراصل ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ سکون، خیال اور لطافت ِ روح — کی بھی کوئی قیمت ہوگی— اس کی جو بھی قیمت ہو، ادا کر نے میں تامل نہیں کرنا چاہیے۔

اب آتے ہیں، اصل کہانی کی طرف— کہ آخر ایسا کیوں ہوتا کہ معیشت اور سامانِ معیشت ہمارے خیال پر شب خون مارے۔ ہمارا دن ہماری رات کو برباد کرے۔ دراصل دل کو دل کی دنیا کے ساتھ مشغول رہنا چاہیے — اور جسم کو جسم کی دنیا سے متعلق — نوجوانان کہہ سکتے ہیں کہ یہ کہنا آسان ہے لیکن اِس تک پہنچنا دشوار! دراصل یہ ترجیحات کا فرق ہے جو ایک ہی کام کو آسان اور اسی کام کو مشکل بنا دیتا ہے۔ اپنے دل کی دنیا میں جھانک کر دیکھیں، یہاں ترجیحِ اوّل کیا ہے— دین یا دنیا؟— دل یا شکم؟ — روح یا جسم ؟ اگر ترجیحِ اوّل دنیا ہے تو یہ دل بھی دنیا میں مصروف اور مشغول ہو جائے گا — اور مصروفیت اور مشغولیت کا اصل نام غفلت ہے۔ اگر ترجیحِ اوّل دین ، روح ، سکونِ قلب اور روحانی و اخلاقی اقدار ہیں تو فیصلے کا لمحہ مختصر ہو جائے گا۔ انسان ہر اُس کام کو ترک کر دے گا جو اُس کی حالتِ بیداری پر ڈاکہ ڈال رہا ہے۔

بازارِ معیشت میں کام کرنے کے عمل کو اپنے روز مرہ کاموں سے زیادہ اہمیت نہیں دینا چاہیے۔ یوں سمجھیں جیسے آپ ہر روز کھانا کھاتے ہیں، کپڑے پہنتے ہیں، پانی پیتے ہیں، گھر والوں سے گفت و شنید کرتے ہیں ، اسی طرح اپنے مرکزِ تجارت پر جا کر بیٹھ جائیں— اور وہاں دیانت داری سے روز کا کام روز کرنے کے بعد دفتر کو تالا لگا کر گھر واپس آجائیں۔ اِس میں ذرا بھی مشکل نہیں— لیکن اگر تجارت کے مقاصد میں دوسروں سے آگے بڑھنا ، دولت کے انبار جمع کرنا اور اپنا معیارِ زندگی کسی ایفل ٹاور کی طرح بلند کرنا شامل ہے تو ایسے میں وہی تجارت ایک گلے کی پھانس بن جائے گی۔ اگر مقصدِ تجارت مخلوقِ خدا کو سہولت فراہم کرنا ہے تو وہی کارِ تجارت ایک کارِ عبادت بن جائے گا۔ حدیثِ مبارکہ ہے کہ ایک سچا اور دیانت دار تاجر (بروزِ قیامت ) انبیاء ، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہو گا۔
بازارِ معیشت میں زندگی آسان کرنے کے لیے — اپنے دل کی دنیا آباد کرنے کے لیے— دل کو وقفِ یار کرنے کے لیے— لازم ہے کہ ہمارے کسی کام کا محرک خوف اور لالچ نہ ہو۔ خوف اور لالچ دونوں دل میں نقب لگاتے ہیں۔ دل محلِّ نیّت ہے۔ نیّت کی نگہبانی کی جائے— روزانہ کی بنیاد پر نیّت کا آڈٹ کیا جائے تو روزمرہ کا کام ہلکا پھلکا ہو جائے گا — نیّت میں جس قدر گراوٹ آتی جائے گی، وہی کام ایک سوہانِ روح بن کر رہ جائے گا۔
فراق ہو یا وصال — زندگی — حقیقی زندگی — دل کی داستان ہے— جہاں دل کی دھڑکن خاموش ہونے لگے، وہاں خطرہ ہے!

اپنا تبصرہ لکھیں