ایک مشہور کہاوت ہے کہ ‘ تھوتھا چنا باجے گھںا ‘۔ یہ کہاوت اتنی عام ہے کہ اسکا مفہوم بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ لیکن اس محاورے کا اطلاق بہت سے ایسے لوگوں پہ ہو رہا ہوتا ہے جو خود ڈھول کی مانند اندر سے خالی ہوتے ہیں لیکن وہ اپنے آپ کو دوسروں پر فائق پیش کرنے کی ہر کوشش کرتے ہیں۔۔ وہ بہت چلتر ہوتے ہیں انکے ظاہر اور باطن میں چوراسی ہاتھ کے برابر بڑا فرق نظر آتا ہے۔ کوئی کمزور و ناتواں شخص چبوترے پہ کھڑا ہو کر دعویٰ تو طاقتور ہونے کا کرے لیکن کسی پہلوان سے مقابلہ کرے تو پہلے ہی داؤ پیچ پر چاروں شانے چت ہو جاتا ہے۔۔ جس معااشرے میں اس طرح کے لوگوں کی تعداد بڑھ جائے وہاں معاشرہ جمود کا شکارہوجاتا ہے اور اس کی بہتری اور ترقی کے دروازے چٹخنی کے ساتھ بند ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ وہاں آگے بڑھنے اور بہتر کارکردگی دکھانے کا چانس محض ظاہر داری کی وجہ سے ترقی کی چوکھٹ پر پڑا رہ جاتا ہے۔
اسی طرح ایک اور ضرب المثل لوگوں کی زبان پر اکثر آتی ہے کہ ‘چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات ‘. واقعی ہر ذی روح کی زندگی بے ثبات اور عارضی ہوتی ہے بلکہ اکثر یوں کہا جاتا ہے کہ ہماری زندگی چار روزہ ہے، یہ ہم پہ منحصر ہے کہ اس مختصر سی زندگی میں دوسروں کو چکمہ دینے میں گزار دیں یا چوری چکاری میں بسر کریں یا چند روزہ زندگی کو روزہ نمازمیں گزاریں۔ ہمیں اللہ کو اس کی ایک ایک چلن کا حساب دینا ہو گا۔ چنانچہ راستے کا صحیح چناؤ بہت ضروری ہے۔ انسان کے اچھے اعمال کی خوشبو چمپا اور اور چنبیلی کی طرح ہوتی ہے۔ ضروری نہیں کہ انسان خود کو دوسروں کے سامنے اچھا دکھانے کے لئے خوش لباسی اور استری شدہ پیراہن پر انحصار کرے۔ اصل چیز اخلاق کی چاشنی ہوتی ہے۔ اگر آپ کے کپڑوں پہ جا بجا سلوٹیں اور چنٹیں پڑی ہوں, مگر دوسروں کے ساتھ آپ کا عمل ٹھیک ہو اور نیکی کا چال چلن ہو تو لوگ آپکو اس طرح دیکھتے ہیں جیسے آپ کی شخصیت روشن اور چمک دار ہے, اتنی روشن جسے دیکھیں تو آنکھوں میں چاہت کے دریا موجزن ہو جائیں۔
چاند ہمارے لئے خوشی کا استعارہ ہوتا ہے۔ اسے ہمیشہ خوشی اور پیار سے تعبیر کیا جاتا ہے عید کا چاند دیکھنے کے لئے سب لوگ بیقرار اور بیتاب ہوتے ہیں۔ چاند 🌙 نظر آجاۓ تو خوشی، راحت اور جوش خروش کا سماں چار سو بندھ جاتا ہے۔ چاند سےمحبت کا چرچا چہار دانگ عالم میں ہوتا ہے۔ تبھی تو ہم اپنے کم سن بچے کو چندا کہہ کر پکارتے ہیں۔
اس پکار میں پیار، محبت اور چاہت کی میٹھی چٹنی پوشیدہ ہوتی ہے۔ اسی طرح آپ کسی کو بہت زیادہ خوبصورت سمجھتے ہوں تو اسے چودھویں کا چاند کہنے لگتے ہیں۔ بچوں کو بہلانے کے لئے چندا ماموں دور کے، بڑے پکائیں بور کے، آپ کھائیں تھالی میں، منے کو دیں پیالی میں کا راگ سناتے ہیں۔۔۔۔۔۔ یہ لاڈ پیار کا گیت ہوتا ہے۔ ہم بچے کو چمکارتے جاتے ہیں اور اس کے گالوں کو فرط محبت سے چومتے رہتے ہیں۔ یہ تو ہوئی بچوں سے لاڈ پیار کی بات۔ بڑے لوگ بھی چاندنی رات میں چندن کی چوبی چارپائی پر بچھی سفید چاندنی کے بستر پر لیٹے ہوۓ گنگناتے دکھائی دیتے ہیں کہ ” کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تیرا- کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ تیرا۔ ایسے عشقیہ گیت گانے کا مزا اس وقت زیادہ دو بالا ہو جاتا ہے جب بڑے میاں کو گمان ہونے لگے گویا کوئی چنچل شہزادی، چمپا کلی پہنے اپنی چنری لہرا کر اس چنتا کے ساتھ ہم کلام ہو رہی ہے کہ۔ ” حضور آپ کو ہماری نظر نہ لگے کہ آپ چندے آفتاب، چندے ماہتاب ہیں , واللہ آپکو دیکھ کر تو ہماری آنکھیں چندھیا رہی ہیں “۔ بڑے میاں یہ سن کر شرماتے ہوۓ کہتے ہیں ” چل جھوٹی”.لیکن ان کے دل میں لڈو پھوٹ رہے ہوتے ہیں اور زبان سے کہنا چاہتے ہیں کہ تمہارے مونہہ میں گھی اور چم چم۔ مگر یہ کیا انہیں زور کی چھینک آجاتی ہے اور اس صورت حال میں شہزادی چپکے سے چمپت ہو جاتی ہے اور فقط چڑیوں کی چہچہاہٹ باقی رہ جاتی ہے۔ حالانکہ ابھی تو خوابوں کی شہزادی کا، اپنی چوڑیوں کی چھنکاہث اور اور چمکیلے بالوں پہ رنگ دار چوٹی کو شانوں پہ لہرا نا باقی تھا۔ بڑے میاں کیا کرتے وہ اس صورتحال پہ چونکے ضرور مگر اس خیال سے کہ کہیں چارپائی کی چولیں نہ ہلنے لگیں چار و ناچار چوں چرا کئے بغیر کر چلتے بنتے ہیں۔
کہیں بھی سفر کرنا درکار ہو تو راستے کا چناو احتیاط سے کرنا ہوتا ہے۔ ہم جس چورنگی یا چوراہے پر پہنچتے ہیں، وہاں اندھیرا ہو تو وہیں ٹہر جانا چاہئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ چین جانے کے لئے ایئرپورٹ جانا ہو اور آپ چیچو کی ملیاں یا چیچا وطنی پہنچ جائیں۔ چوکوں پر اندھیرا لوڈ شیڈنگ سے ہوتا ہے اور لوڈ شیڈنگ وہاں ہوتی ہے جہاں اندھیر نگری چوپٹ راج ہوتا ہے۔ لہٰذا چالبازی اور چالاکی سے نہیں بلکہ عقلی چلت پھرت سے کام لینا چاہئے۔
جو خواتین گھر میں چپاتی بناتی ہیں، انکی انگلیوں پہ جلنے کی نشان چولہے کے شعلوں اور چنگاریوں کی وجہ سی نظر آتے ہیں کیونکہ انکے باورچی خانےمیں روٹی پلٹنے کے لئے کوئی چمٹا نہیں ہوتا۔ کیا ایسے گھر چپڑ چپڑ چپاتی کھانے والے چٹورے مردوں کو اتنی بھی توفیق نہیں ہوتی کہ گھر والی کو ایک چمٹا لاکر ہی دے دیں۔ ویسے اگر رفیقہ حیات چاہیں تو گھر میں چپاتی بنانے سے بہتر ہے کہ وہ روٹی تندور سے منگا لیا کریں۔ بس تھوڑی سی چالاکی اور ہوشیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں چپقلش بالکل نہیں ہونی چاہئے بلکہ مزاج کی چلبلی سے ہی کام لینا ہوتا ہے۔


