میری، گھر والوں سے ایک قسم کی لڑائی چلتی رہتی ہے۔عموماً گھر میں کھانے کے اوقات مقرر ہیں یعنی سب کو پتہ ہے کہ صبح کی چائے ساڑھے سات بجے ملنی ہے مگر صبح کی چائے چونکہ میں اپنے اور بیگم کے لیے خود بناتا ہوں اس لیے اس کے بارے میں مجھے کوئی شکایت نہیں ہوتی۔میں چائے بھی ٹھنڈی کر کے پیتا ہوں اور نماز بھی۔چائے میرے سامنے ہوتی ہے مگر میں اس انتظار میں ہوتا ہوں کہ وہ اس قدر ٹھنڈی ہو جائے کہ میرے ہونٹوں کو اس کی گرمی محسوس نہ ہو۔میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جب چائے میرے ہونٹوں کو جلاتی ہے تو وہ میرا تالو بھی اس کی گرمی میں زد آ جاتا ہے اور وہاں چھوٹے چھوٹے دانے سے بن جاتے ہیں۔یہ دانے نظر تو نہیں آتے البتہ محسوس بہت ہوتے ہیں۔جب چائے میرے مزاج کے مطابق ٹھنڈی ہو جاتی ہے تو میں چائے کی سِپ نہیں لیتا گھونٹ بھرتا ہوں اور خدا کا شکر ادا کرتا ہوں۔ناشتے اور دوپہر کے کھانے کو اب برنچ کہا جاتا ہے اس کا سلیس ترجمہ اردو دانوں کے سینے پر مونگ دلتا رہتا ہے مگر اس کا ترجمہ کسی کے نصیب میں نہیں۔ماں بولی میں اس برنچ کا تصور ہی نہیں تھا۔پچاس سال پہلے تک پنجاب کے دیہات میں صبح دس بجے تندور تپ جاتے اور چُنگیں اکٹھی ہونا شروع ہو جاتیں۔روٹی تندور سے چنگیر پر اترتی اور چنگ تندور لگی روٹیاں لے کر گھر چلی جاتی۔گھر جاتے تک روٹیوں کی گرمی اڑ چکی ہوتی۔یہی گیارہ ساڑھے گیارہ بجے دوپہر کا کھانا کھا لیا جاتا۔برنچ نے میرے لیے دوپہر کا کھانا موقوف کر دیا ہے۔برنچ کے بعد رات کا کھانا اور کبھی موڈ بنے تو بس چائے کا ایک ٹھنڈا کپ۔
میں گیارہ بجے کے قریب برنچ کرتا ہوں اس کے بعد رات کا کھانا جو میں بہت جلد کھا لیتا ہوں۔
اب گھروں میں یوں کلچر بن گیا ہے کہ ادھر کھانے کا وقت ہوا اور ادھر توے سے گرم گرم روٹی ٹیبل پر پہنچ گئی۔ان گرم روٹیوں سے پہلے تو میری انگلیوں کی پوریں جلتی ہیں۔میں گندم کی روٹی کی طرف دیکھتا ہوں اور کافی دیر اس پر از خود بنے پھول پتے دیکھنے لگتا ہوں۔ان میں مجھے ستارے سے بھی نظر آتے ہیں۔روٹی کے آسمان پر کھلے ستارے گننا لگتا ہوں۔جب ان کی گنتی سو تک پہنچ جاتی ہے تو روٹی کی گرمی کافور ہو چکی ہوتی ہے۔میں اپنی مرضی کا لقمہ بناتا ہوں اسے شوربے میں تھوڑی دیر بھگوتا ہوں اور مستی سے زبان پر رکھتا ہوں۔ٹھنڈی روٹی اور ٹھنڈا شوربہ میرے جسم کو تروتازہ کر دیتا ہے۔گرم روٹی کھانا مزاج کو بھی گرم اور تیز کرنے کا کام کرتا ہے۔جب گھر والے کھانا کھا چکتے ہیں تو میں دوسرا لقمہ اٹھاتا ہوں۔اسے انگلیوں سے نرم کرنے میں جو لطف آتا ہے اور گرم لقمے سے انگلیاں جلانے کا موازنہ۔جنہوں نے سکون اور آرام سے کھانا کھانا ہو انہیں گرم چیزوں سے ہاتھ کھینچ لینا چاہیے۔ اسے کہتے ہیں ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔
جسے میں برنچ کہہ رہا ہوں اس کے لیے میں کھانے کی میز کی طرف اس وقت نہیں جاتا جب تک مجھے یقین نہ ہو کہ کھانا مرے مزاج کے مطابق ” تیار” ہو چکا ہے۔کھانا میز پر چن دیا جاتا ہے اور مجھے ایک قسم کی اطلاع دے دی جاتی ہے۔آواز آتی ہے کھانا لگ گیا ہے۔یہ آواز میری بیگم کی ہوتی ہے۔میں آواز سن کر بھی ان سنی کر دیتا ہوں اور اپنے کام میں مگن رہتا ہوں۔کچھ توقف کے بعد کچن سے آواز آتی ہے بتایا کہ نہیں کہ کھانا لگا دیا ہے۔تب مخلص میرے کمرے کے دروازے پر کھڑا ہو جاتا ہے۔مجھے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ مجھے یہی کہنے آیا ہے کہ کھانا کھا لیں مگر اسے نظر انداز سا کرتا اپنے دھیان لگا رہتا ہوں۔کچھ دیر بعد میں اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتا ہوں۔مخلص مجھے بتاتا ہے کہ کھانا کب کا لگ چکا۔اس دوران مجھے یقین ہو چکا ہوتا ہے کہ اب کھانا اس قدر ٹھنڈا ہو چکا ہے کہ میں من مرضی کا لقمہ لے سکتا ہوں۔بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کھانے کی میز پر بیٹھتا ہوں اور گرم گرم روٹی میرے سامنے رکھ دی جاتی ہے۔گندم کی خوشبو میرے چاروں اور پھیل جاتی ہے مگر میرا دل ایسا کٹھور ہے کہ بھولے سے بھی گرم چپاتی کی طرف نہیں دیکھتا۔کبھی چپاتی کا پیٹ پھولا ہوتا ہے اور اس پیٹ میں سوئی کی نوک داخل کریں تو گرم اور سفید دھواں اس سے برآمد ہوتا ہے۔میں اس سفید دھوئیں کی شکل کو تو سراہ سکتا ہوں اس سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔تب میری بیگم میری اس عادت سے واقف کہ میں گرم لقمہ منہ میں نہیں ڈال سکتا، آتی ہے اور گرم چپاتی کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیتی ہے۔میں اس کی محبت کو تشکر بھری نظروں سے دیکھتا ہوں۔بیگم کی انگلیوں کی پوریں سرخ ہو جاتی ہیں مگر وہ میرے لیے یہ معرکہ سر انجام دیتی ہیں۔اسے معلوم ہے کہ ٹھنڈا کھانا کھانا میری بچپن کی عادت تھی اور اب عادت ِثانیہ ہے۔وہ جانتی ہیں کہ یہ عادت مجھے جیسے گھٹی میں ملی تھی۔ وہ یوں کہ ہمارے دو گھر تھے اور ان کے درمیان ایک آدھ فرلانگ کا فاصلہ تھا۔والدہ کو معلوم تھا کہ ہمارا سکول جانے کا وقت کیا ہے۔اسی لحاظ سے وہ ناشتہ تیار کرتیں۔جب ہم ” حویلی” سے والدہ کے پاس پہنچتے کھانا تیار بھی اور ٹھنڈا بھی ہو چکا ہوتا۔ہمارا سکول چھ سات کلومیٹر کے فاصلے پر تھا دوپہر کے لیے والدہ ایک پونے میں ایک پراٹھا اور ایک اچار کی ڈلی رکھ دیتیں۔دوپہر تک وہ “لنچ” ہمارے بستے میں پڑا رہتا۔جب بھی بستے سے کوئی کتاب یا پن پنسل نکالنی ہوتی تو ٹھنڈے دیسی گھی اور پراٹھے کی مشترکہ خوشبو جیسے بے چین کر دیتی۔دوپہر ہوتی سکول میں وقفہ ہوتا جو تفریح کے نام سے جانا جاتا تھا، تب پونے سے ٹھنڈی روٹی باہر آتی اسے ہاتھ لگاتے ہی ہمارے ہاتھوں سے بھی ٹھنڈے گھی اور گندم کی خوشبو آتی۔رات کا کھانا عین پانچ بجے تیار ہو جاتا جب ہم کھیل کود سے واپس آتے کھانا ٹھنڈا کیا یخ ہو چکا ہوتا۔لکڑیوں کا چولہا شام کو بجھتا اور صبح کو جلتا۔کھانا گرم کرنے کا تصور تک نہیں تھا۔
صبح کا ناشتہ سورج کی کنی چڑھتے تیار ہو جاتا اور شام کا کھانا پانچ ساڑھے پانچ بجے۔یہی عادت اب میرے خمیر میں شامل ہو چکی ہے۔گرم روٹی میرے حلق سے نیچے ہی نہیں اترتی۔ ماں کے کھردرے مگر پاک ہاتھوں سے بنا پیڑا توے سے اترتا کافی دیر کھجی سے بنی چنگیر میں پڑا رہتا۔اب بھی میں چاہتا ہوں کھانے کو ہاتھ لگاؤں تو اس کا ٹھار سینہ ٹھار دے۔ٹھنڈا لقمہ حلق سے اترے تو آنکھیں روشن ہوں۔توے سے اتری گرم روٹی اور گرم سالن میرا تالو بھی جلاتا ہے اور میری روح بھی See less


