اختلاف نہیں، آئین کی بات: مولانا فضل الرحمٰن کی تقریر کیوں زیرِ بحث ہے؟- محمد امین اسد

پاکستان کی سیاست میں بعض تقاریر محض جلسوں کا حصہ نہیں ہوتیں بلکہ قومی مکالمے کا رخ متعین کرتی ہیں۔ ضلع قصور میں مولانا فضل الرحمٰن کی حالیہ تقریر بھی اسی نوعیت کی ایک تقریر ہے، جس نے سیاسی، آئینی اور قومی سلامتی سے متعلق کئی اہم سوالات کو دوبارہ زیرِ بحث لا کھڑا کیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ تقریر کے مجموعی پیغام پر سنجیدہ بحث کرنے کے بجائے اس کے چند جملوں کو سیاق و سباق سے الگ کرکے سوشل میڈیا پر پیش کیا گیا، اور ایک منظم انداز میں ایسا تاثر دیا گیا جیسے پوری تقریر کا مقصد صرف ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا تھا، حالانکہ مکمل تقریر کا مطالعہ اس تاثر کی تائید نہیں کرتا۔

مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کے مؤقف پر علمی تنقید بھی کی جا سکتی ہے، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ وہ پاکستان کے ان چند رہنماؤں میں شامل ہیں جو نصف صدی سے زائد عرصے سے پارلیمانی سیاست، آئینی جدوجہد اور جمہوری عمل کا حصہ ہیں۔ ان کی گفتگو کا بنیادی وصف یہ ہے کہ وہ اپنے مؤقف کو واضح، بے لاگ اور دلیل کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مخالفین بھی ان کی سیاسی بصیرت، پارلیمانی تجربے اور قومی معاملات پر گہری نظر کا اعتراف کرتے ہیں۔

قصور کی تقریر میں سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والا جملہ وہ تھا جس میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ریاست نے دفاع، امن و امان اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے مخصوص ادارے قائم کیے ہیں، انہیں وسائل، اختیارات، تنخواہیں اور مراعات دی جاتی ہیں، تو پھر عام شہریوں سے یہ توقع کیوں رکھی جائے کہ وہ خود اسلحہ اٹھا کر لشکر تشکیل دیں اور مسلح گروہوں کے خلاف جنگ کریں؟ اس سوال کو بعض حلقوں نے جان بوجھ کر شہداء کی قربانیوں کی نفی یا دفاعی اداروں کی توہین کا رنگ دینے کی کوشش کی، حالانکہ مولانا کے الفاظ کا مرکزی نکتہ اس سے بالکل مختلف تھا۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ جس فریضے کی ذمہ داری اور معاوضہ کسی ادارے یا شعبے کو دیا گیا ہے، اس کی ادائیگی بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کو پورا کرنا کسی پر احسان نہیں بلکہ آئینی اور اخلاقی فرض ہے۔

یہ اصول صرف دفاعی اداروں تک محدود نہیں۔ ایک استاد نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے لیے تنخواہ لیتا ہے، ایک ڈاکٹر مریضوں کے علاج کے لیے، ایک جج انصاف فراہم کرنے کے لیے، ایک انجینئر تعمیر کے لیے اور ایک پولیس اہلکار قانون نافذ کرنے کے لیے۔ ہم کبھی کسی مزدور سے دل کا آپریشن کرنے کی توقع نہیں رکھتے، نہ کسی مستری سے میزائل بنانے کی، نہ کسی ڈاکٹر سے پل تعمیر کرنے کی۔ اسی طرح عام شہری سے یہ توقع بھی غیر منطقی ہے کہ وہ ریاست کی جگہ مسلح کارروائیاں کرے یا اپنی حفاظت کے لیے نجی لشکر تشکیل دے۔ تقسیمِ کار ہی ہر مہذب ریاست کی بنیاد ہے، اور جب یہ اصول کمزور ہوتا ہے تو ادارہ جاتی ذمہ داریاں بھی دھندلا جاتی ہیں۔

مولانا کا اصل اعتراض بھی یہی تھا کہ اگر کہیں امن و امان کی صورتحال خراب ہے، اگر دہشت گردی بڑھ رہی ہے، اگر شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں، تو اس کی ذمہ داری عوام پر منتقل نہیں کی جا سکتی۔ عوام ٹیکس دیتے ہیں، ریاستی اداروں کو وسائل فراہم کیے جاتے ہیں، دفاع اور داخلی سلامتی کے لیے قومی بجٹ مختص ہوتا ہے، اس لیے امن قائم رکھنا ریاست اور متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ناکامی کی صورت میں احتساب بھی اسی تناظر میں ہونا چاہیے، نہ کہ عوام کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے۔

ان کی تقریر کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ انہوں نے ریاست کے تمام ستونوں کو ان کے آئینی دائرۂ اختیار کی یاد دہانی کرائی۔ ایک مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جہاں ہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرے، پارلیمنٹ قانون سازی کرے، عدلیہ انصاف فراہم کرے، انتظامیہ نظم و نسق سنبھالے اور دفاعی ادارے ملکی سلامتی کو یقینی بنائیں۔ یہی آئین کا تقاضا ہے اور یہی جمہوری ریاست کا بنیادی اصول بھی۔

پختونخوا اور بلوچستان کے حوالے سے مولانا نے جو سوالات اٹھائے، وہ بھی محض سیاسی نعرے نہیں بلکہ وہاں کے عوام کے حقیقی خدشات اور احساسات کی ترجمانی ہیں۔ برسوں سے دہشت گردی، بدامنی اور جان و مال کے نقصانات کا سامنا کرنے والے علاقوں میں لوگ یہ سوال ضرور کرتے ہیں کہ امن کب بحال ہوگا اور ان کی جان و مال کا تحفظ کس کی ذمہ داری ہے۔ ان سوالات کو محض سیاسی مخالفت قرار دے کر نظر انداز کرنا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ ان پر قومی سطح پر سنجیدہ گفتگو ہونی چاہیے۔

افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ مولانا کی تقریر پر سب سے زیادہ اعتراض وہ حلقے کر رہے ہیں جن کی اپنی تقاریر، ویڈیوز اور بیانات میں ریاستی اداروں، خصوصاً فوج، پر اس سے کہیں زیادہ سخت زبان استعمال ہو چکی ہے۔ اس وقت انہی بیانات کو آزادیِ اظہار، جمہوری حق اور سیاسی تنقید قرار دیا جاتا تھا، لیکن آج اگر ایک سیاسی رہنما آئینی ذمہ داریوں اور ریاستی کارکردگی پر سوال اٹھاتا ہے تو اسے غداری، اشتعال انگیزی یا اداروں کے خلاف مہم قرار دیا جاتا ہے۔ یہ دوہرا معیار نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہے بلکہ قومی مکالمے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

سیاسی اختلاف کا جواب دلیل سے دیا جانا چاہیے، کردار کشی، گالم گلوچ، تنخواہ دار پروپیگنڈے یا ویڈیوز کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے نہیں۔ کسی تقریر کے چند جملے نکال کر پوری گفتگو کا مفہوم بدل دینا علمی دیانت کے خلاف ہے۔ اگر مولانا کے کسی مؤقف سے اختلاف ہے تو اس کا جواب بھی آئین، قانون، حقائق اور اعدادوشمار کی بنیاد پر دیا جانا چاہیے، کیونکہ مضبوط دلائل ہمیشہ مضبوط قوموں کی پہچان ہوتے ہیں۔

پاکستان کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ الزام تراشی نہیں بلکہ قومی مکالمہ، ادارہ جاتی احتساب، آئینی بالادستی اور سیاسی برداشت ہے۔ اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے اسے سنا جائے، تنقید کو دشمنی نہ سمجھا جائے، اور ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ریاست کو مضبوط، عوام کو مطمئن اور جمہوریت کو مستحکم بناتا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی قصور تقریر سے اتفاق یا اختلاف ہر شہری کا حق ہے، لیکن اس تقریر کا جواب سیاق و سباق سے ہٹ کر تراشے گئے کلپس، گالیوں یا جذباتی مہمات سے نہیں بلکہ علمی استدلال، آئینی منطق اور جمہوری اخلاقیات سے دیا جانا چاہیے۔ یہی انصاف کا تقاضا ہے، یہی سیاسی بلوغت کی علامت ہے اور یہی وہ روایت ہے جس سے پاکستان میں ایک صحت مند اور بالغ سیاسی کلچر فروغ پا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں