دریچے
لکھنا اس لیے بھی ضروری ہے چونکہ جب قلم کی نوک صفحے سے دو انچ فاصلے پہ کانپ رہی ہوتی ہے دراصل ذہن کو اکسا رہی ہوتی ہے۔ انسانی ذہن تمام تر پیچیدگیوں کے باوجود اتنا بھی پیچیدہ نہیں ہے چونکہ اِن پُٹ، آؤٹ پُٹ کے کلیے پہ کام کرتا ہے۔ یہ پیچیدگیاں دراصل باہر ہیں۔ گھڑی جاتی ہیں۔ یہ کاروبار ہے۔ دھندے بنانے بگاڑنے کا نظام ہے۔ مفادات کا نظام ہے۔ یہ تنقید نہیں ہے، محض حقیقت ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پیچیدگیاں نہیں ہیں۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے سمپلیفیکیشن ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیچیدگی پیچیدگی ہوتی ہے اور سمپلیفیکیشن سمپلیفیکیشن ہوتی ہے اور یہ کنٹیکسٹچولی ویری بھی کرسکتی ہے۔ اس لیے کسی نے کہا:
One should not simplify what is complicated, and one shouldn’t complicate what is simplified..
اور زیر زبر معاف، کسی نے یہ بھی کہہ دیا:
One should think about ‘nothing’ to remain calm…
That means in personal case: there is no time and time management sometimes.. to be the flow, to be with the flow maybe, merely insignificant to signify, quote or echo your past and even present, sometimes.. future doesn’t even exist because when one does anything at any point in time in future, that’s actually the given moment of time.. that’s present.. that’s why someone said: absence of evidence is not evidence of absence.. it means things sometimes happen without being recorded because imitation is maybe limitation.. things vary, however.. one phase of one’s time doesn’t necessarily apply in all the cases, and that’s why we have to respect the ‘otherness’ of other people..
اگر ہم شعور، لاشعور، اور دیگر شعور کے دریچوں مثلاً گروتھ، فکسڈ مائنڈ سیٹ یا توانائی کا نظام یا دیگر سطحوں کو سمجھ جائیں تو ہم مشین اور ٹولز کو مینیج کرتے ہیں اگرچہ مشکل ہے اور ہم ٹائم کو مینیج کرتے ہیں، ٹائم ہمیں مینیج نہیں کرتا کیونکہ وقت کائناتی تصور ہے۔۔ یونیورسل ہے۔۔ لیکن گھڑیاں اپنی اپنی ہیں۔۔ میرے فون میں ٹائم کی سہولت ہے لیکن کلائی میں گھڑی اپنی جگہ موجود ہے۔۔۔ دونوں میں وقت کا ہلکا فرق بھی ہے اور دونوں میں وقت دیکھنے کا مزاج بھی مختلف ہے۔۔ مزید برآں دنیا بہت بڑی ہے۔۔ دن اور رات کا فرق ہے۔۔ لہذا وقت کی کنٹیکسٹچول سگنی فیکنس بھی بدل جاتی ہے۔۔ لکھنا اس لیے ضروری ہے چونکہ یہ جذبات کا اظہار ہے۔۔ یہ سوچنے پہ اکساتا ہے۔۔ یہ کم از کم نئے زاویے دیتا ہے تبھی کوئی, زیر زبر اپنی جگہ، کہہ رہا تھا:
Writing is important because writing is thinking…
ہمارے ہاں تاریخ کا سبق تو پڑھایا جاتا ہے لیکن تاریخ میں آنے والے اتار چڑھاؤ کا واضح، دو ٹوک، ڈیفینیٹ ڈیٹا کہیں بھی میسر نہیں ہے۔۔ جیسے ایک انسان سے پوچھیں تو وہ باپ دادا یا ان کے دادا کا نام تو جانتا ہو گا، اس سے پیچھے کی کہانیاں ہمارے سامنے نہیں ہیں، بلکہ بہت دور جانے کی بجائے صبح، شام کے رد و بدل یا سرگرمیوں کا بھی مفصل یا ایگزیکٹ ڈیٹا نہیں ہے۔۔ اس وقت دنیا محض تعصب کی عینک سے دیکھی جا رہی ہے اور یہ تعصب تاریخی اتار چڑھاؤ کا نتیجہ ہے۔۔
ابھی ایک درخت پہ ایک پرندہ گنگنا رہا تھا۔۔ ساتھ ہی مرغا بھی نغمہ سرائ میں مشغول تھا۔۔۔ یہ جو گنگنا رہا تھا۔۔ ہر سال گزرتا ہے لیکن اس کی آواز نہیں بدلتی۔۔ ہر سال ایک ہی پرندہ نہیں آتا، بدلتے رہتے ہیں۔۔ مختلف ناموں سے ایک ہی پرندے بھی آتے ہیں مثلاً جمیل اور اجمل کی آواز میں رتی برابر بھی فرق عدم ہے لیکن جو فرق محسوس ہوا ہے وہ اثر کا ہے، سحر کا ہے۔۔ سحر انگیزی کا ہے۔۔ شعوری کیفیات یا لاشعوری، تحت الشعوری ملاوٹ کا بھی ہو سکتا ہے۔۔ اگر ہم ان ڈائمینشنز کو سمجھ جائیں تو زندگی میں مطلب پیدا ہو سکتا ہے۔۔ پھر کوئی چیز بے معنی نہیں رہتی۔۔ اگر چیونٹی رقص کرے گی تو مطلب ہو گا۔۔ کوا گانا گائے گا تو میننگ ہو گا۔۔ بادل روئے گا تو مطلب ہو گا۔۔ اور بازار میں مچھلی بیچنے والا بھی سبق آموز ہے۔۔ پانی پیتے بھی ہیں، منہ بھی اسی پانی سے دھوتے ہیں اور یہی پانی بہتا بھی ہے۔۔ ندی میں مختلف راگ الاپتا ہے، سمندر بھی الگ سرور پیدا کرے گا اور دریا کا پانی ایک مختلف ڈھول کی تھاپ ہے، نہریں مختلف رنگوں میں ناچتی ہیں۔۔ اسی پانی سے شربت بھی بنتا ہے۔۔ سرخ بھی ہے۔۔ زرد بھی ہے۔۔ گلابی بھی ہے۔۔ اور سفید بھی ہے۔۔ یہی پانی بارش بھی ہے، برف بھی ہے اور اولے بھی ہیں۔۔ انہی پانیوں میں مچھلیوں کی ایک لمبی فہرست ہے، ان کے نظام کی ایک منفرد داستان ہے۔۔ ہر سال شہد کی مکھی آتی ہے۔۔ جب بہت ساری آجاتی ہیں اور شہد پک چکا ہوتا ہے تو پتہ چلتا ہے۔۔ اس بار پہلی مکھی کو دیکھا ہے جو فی الحال کچھ دوستوں کے ساتھ مٹی جمع کر رہی ہے اور چھوٹے چھوٹے گھڑے بنارہی ہے۔۔ ابھی تیتر سُر لگا رہا ہے جب تحریر کی آخری سطر رقم ہو رہی ہے!


