جنوبی ایشیائی معاشرے آج بھی ریپ جیسی ایک حقیقت کے ساتھ جی رہے ہیں مگر جس کا سامنا کرنے سے وہ مسلسل کترا بھی رہے ہیں۔ دہلی میں جیوتی سنگھ کے اجتماعی ریپ اور قتل کو تیرہ برس گزر چکے ہیں۔ مگر جب بھی وہ واقعہ یاد آتا ہے غصہ کی لہر اٹھتی ہے اور بیٹھ جاتی ہے۔ قوانین سخت ہوتے جاتے ہیں۔ حکومتیں انصاف کے وعدے کرتی ہیں۔ سزائیں دی جاتی ہیں۔ مگر ریپ اسی دردناک تسلسل کے ساتھ جاری ہے ایسے جیسے کچھ بدلا ہی نہ ہو۔بھارت نے جیوتی سنگھ کے مجرموں کو پھانسی دی۔ پاکستان نے نور مقدم کے قاتل کی سزائے موت برقرار رکھی۔ زینب کے قاتل کو انجام تک پہنچایا۔ موٹروے کیس میں سخت سزائیں سنائیں۔ اس سے پہلے نواب پور اور مظفرگڑھ کے واقعات نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ہر بار عوام غم اور غصے میں اٹھے۔ ہر بار ریاست کبھی بریت اور کبھی سخت سزا کے درمیان جھولتی رہی مگر سماج نے بالعموم اور مستقل یہ پیغام دیا کہ ایسی سفاکی برداشت نہیں کی جانی چاہیے لیکن تشدد تاحال جاری ہے۔ دہلی سے لاہور تک، خاموش دیہاتوں میں بھی اور بڑے شہروں میں بھی۔۔۔ یہ ایک ایسے آسیب کی طرح محسوس ہوتا ہے جو جانے کا نام نہیں لیتا۔ اس کا تسلسل ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ شاید ہم اصل مسئلے کو سمجھ ہی نہیں پائے۔
عوامی بحث اکثر پرانے دلائل کے گرد گھومتی ہے۔ کچھ اسے بے قابو جنسی خواہش قرار دیتے ہیں۔ کچھ مذہبی اور اخلاقی اقدار کا زوال سمجھتے ہیں اور کچھ عورتوں کے لباس کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ایک گروہ جنسی گھٹن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
ان سب میں کچھ جزوی صداقت ضرور ہے مگر یہ سب مل کر بھی پاکستان اور بھارت میں دکھائی دینے والی غیر معمولی سفاکی کی وضاحت نہیں کرتے۔جنسی گھٹن کا نظریہ اس وقت دم توڑ جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ جرائم کون کرتا ہے۔ ان جرائم کی مرتکب افراد کی بڑی تعداد نچلے اور بالائی طبقات سے آتی ہے جو جنسی گھٹن کے شکار نہیں ہوتے۔ متوسط طبقہ جو اپنی خواہشات پر ضرورت سے زیادہ قابو رکھتا ہے ایسے جرائم میں کم ملوث ہوتا ہے۔ اگر گھٹن اصل وجہ ہوتی تو درمیانے طبقے کے افراد ان جرائم میں زیادہ ملوث ہوتے۔ لیکن معاملہ مختلف ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسئلہ کہیں اور ہے۔صرف خواہش یہ نہیں بتا سکتی کہ کیوں بچوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور کیوں مکمل پردے میں موجود خواتین کو۔ کیوں مذہبی طلبہ اور حاشیے پر موجود افراد کو۔ اور پھر جنسی زیادتی کے بعد سفاکی کے ساتھ قتل اور تشدد۔ یہ سب عوامل ایک مختلف تصویر بناتے ہیں۔ ایسے میں نفسیات زیادہ بامعنی نقطہ آغاز فراہم کرتی ہے۔
سوزن براؤن ملر نے کہا تھا کہ ریپ بے قابو جنسی خواہش نہیں بلکہ غلبے، غصے اور طاقت کا اظہار ہے۔ نکولس گروتھ نے اس میں اضافہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے پیچھے غصہ، غلبہ اور دوسروں کو نقصان پہنچانے کی خواہش پر مبنی جارحیت جیسے محرکات ہوتے ہیں۔ اس نے ریپ کو ایک ایسے جنسی عمل کے طور پر سمجھا جس میں جنسی رویہ اصل میں غیر جنسی محرکات کا اظہار ہوتا ہے جیسے تحقیر اور غصہ، اور انتقام۔جدید فرانزک نفسیات نے گروتھ کے خیالات کو رد نہیں کیا بلکہ اس کو مزید واضح کیا ہے۔ میساچوسٹس ٹریٹمنٹ سینٹر کی درجہ بندی موقع پرستی، غصہ، اذیت پہنچانے اور انتقامی جذبوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ سب اس حقیقت کو گہرا کرتے ہیں کہ ریپ طاقت، انتقام اور کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش کا جنسی اظہار ہے۔ زبان بدل گئی ہے مگر محرکات وہی ہیں جن کی جانب نکولس گروتھ نے اشارہ کیا تھا۔
ایک شخص جو صرف جسمانی تسکین چاہتا ہے اور ایک شخص جو غلبہ چاہتا ہے دونوں ایک ہی عمل کر سکتے ہیں مگر ان کے محرکات یکسر مختلف ہوتے ہیں۔ یہی فرق جنوبی ایشیا میں دکھائی دینے والی شدید سفاکی کو سمجھاتا ہے۔ دہلی کا واقعہ اس کی ایک نمائندہ مثال ہے۔ اس کیس کے ایک مجرم نے جیوتی کے لباس کا بہانہ بنایا مگر حملہ ریپ سے کہیں آگے نکل گیا تھا۔ ایک دوسرے مجرم نے اس تشدد کی وجہ جیوتی کے عدم تعاون کو قرار دیا یہ گویا جیوتی کی نافرمانی کی سزا تھی۔
یہاں عوامی بحث کمزور پڑ جاتی ہے۔ مختلف ملکوں کے ریپ کے اعداد و شمار محرکات نہیں بتاتے۔ مغربی دنیا میں اکثر واقعات میں واقف لوگ ملوث ہوتے ہیں جو خاتون کی اجازت کو سمجھنے سے قاصر رہنے کی بنیاد پر اس حرکت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ مغرب میں قتل اور تشدد کم ہوتا ہے جب کہ جنوبی ایشیا میں قتل اور تشدد عام ہے۔ ماحول اور محرکات مختلف ہیں اس لیے موازنہ بے معنی ہے۔جواب شاید فرد کی نفسیات سے آگے سماج میں ہے۔
پاکستان اور بھارت نے نوآبادیاتی اور سخت گیر طاقت کے سماجی ڈھانچے وراثت میں لیے ہیں۔ دونوں معاشرے تکثیریت پر مبنی سیاست، بڑھتی ہوئی سماجی ناہمواری، کمزور اداروں اور طاقت پر مبنی اقدار سے تشکیل پاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں طاقت ایک ثقافتی قدر بن جاتی ہے۔ لوگ سیکھتے ہیں کہ قوت انصاف پر غالب آتی ہے۔ اختیار اخلاق سے بھاری ہوتا ہے۔ کمزور ہونا خطرہ بن جاتا ہے۔ریپ اسی وسیع تر سماجی نفسیات کا اظہار بن جاتا ہے۔ وہی ذہنیت جو طاقتور گروہوں کو کمزوروں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت دیتی ہے۔
شکلیں بدلتی رہتی ہیں مگر اصول ایک ہی رہتا ہے۔ ریاستیں عوام کی شرکت کے بغیر فیصلے کرتی ہیں۔ اکثریت اقلیت کو ڈراتی ہے۔ اشرافیہ جوابدہی سے بالاتر رہتی ہے۔ دولت مند طبقے مراعات کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہر جگہ سبق ایک ہی ہے کہ طاقت کمزوروں پر تصرف کی اجازت دیتی ہے۔یہ نقطہ نظر ایک تضاد کو حل کرتا ہے۔ بہت سے مجرم معاشی طور پر پسماندہ طبقات سے آتے ہیں۔ روایتی نظریات سمجھ نہیں پاتے کہ طاقت سے محروم افراد طاقت کے محرک سے جرم کیوں کرتے ہیں۔ مگر جب ہم تحقیر کو دیکھتے ہیں تو تضاد ختم ہو جاتا ہے۔ جو لوگ مسلسل ناکامی اور محرومی جھیلتے ہیں وہ کسی ایسے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں وہ کسی اور کو زیر کر کے اپنی بے بسی کو الٹ پلٹ سکیں۔ ریپ ان کے لیے نفسیاتی طور پر معنی خیز ہو جاتا ہے کیونکہ وہ لمحاتی طور پر کمزور کو طاقتور بنا دیتا ہے۔عوامی بحث اکثر دو انتہاؤں میں بٹ جاتی ہے۔ کچھ اسے جنسی گھٹن کہتے ہیں۔ کچھ اسے صنفی جنگ بنا دیتے ہیں۔ مگر پاکستان اور بھارت میں ان دونوں عوامل کی بجائے ریپ طاقت کی غیر مساوی تقسیم کا نتیجہ ہے۔ بچے اور عورتیں جو طاقت کی درجہ بندی کے سب سے نچلے حصے میں ہیں سب سے زیادہ نشانہ بنتے ہیں۔ ان کی کمزوری اسی طاقت کے ڈھانچے سے پیدا ہوتی ہے جو سماجی زندگی کو چلاتا ہے۔اجتماعی حملہ صرف جنسی عمل نہیں رہتا بلکہ طاقت کا اجتماعی مظاہرہ بن جاتا ہے۔ ایسے افراد کے لیے جو اپنی زندگی میں بہت کم اختیار رکھتے ہیں یہ تشدد نفسیاتی طور پر خوش کن ہو جاتا ہے کیونکہ وہ ان کی اپنی بے بسی کو الٹ دیتا ہے۔ کم آمدنی والے مجرم طاقت اور غصے کے ماڈل کو کمزور نہیں کرتے بلکہ اسے مضبوط کرتے ہیں۔
ریپ صرف فوجداری مسئلہ نہیں۔ یہ ان معاشروں کی نشاندہی کرتا ہے جہاں جبر معمول ہے، ادارے کمزور ہیں، جوابدہی ندارد ہے، انصاف مہنگا ہی نہیں بلکہ غریب کے لیے ناممکن ہے اور اسی لیےطاقت قانون پر غالب آتی رہتی ہے اور سخت سزائیں اکثر ناکام رہتی ہیں۔
پھانسیاں وقتی غصہ تو کم کر دیتی ہیں مگر وہ ان ثقافتی اور نفسیاتی حالات کو نہیں بدل سکتیں جو ایسے جرائم کو ممکن بناتے ہیں۔جب تک بحث لباس اخلاق یا جنسی گھٹن پر رہے گی ہم مسئلے کو غلط سمجھتے رہیں گے۔ اصل سوال نفسیاتی اور سماجی ہیں۔
غلبہ اتنا پرکشش کیوں ہے۔ کمزور کی تحقیر کیوں برداشت کی جاتی ہے۔ متاثرہ فرد کو کیوں کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے صرف اسی کی غلطیاں کیوں نشان زد کی جاتی ہیں جبکہ اصل میں تو مجرم کو قانون کے سامنے ہونا چاہیے۔ سماج طاقت کو کیوں انعام دیتا ہے چاہے وہ کتنی ہی مہلک کیوں نہ ہو۔جب تک یہ سوال سامنے نہیں آئیں گے ریپ وہی رہے گا جو وہ جنوبی ایشیا میں دکھائی دیتا ہے۔ ایک گہری ثقافتی خرابی کی علامت جس میں طاقت کو انصاف سے زیادہ وقار حاصل ہے اور غلبے کو انسانیت سے زیادہ کشش۔ اگر ریپ غلبے کی ثقافت کی علامت ہے تو اس کا حل صرف سخت سزا نہیں۔ فوجداری نظام علامات کو ٹھیک کرتا ہے اسباب کو نہیں۔بڑا چیلنج ثقافتی ہے۔ سماج کو طاقت کی پرستش کی بجائے انصاف کرنا ہوگا۔ بے لگام قوت کے بجائے جوابدہی کو، غلبے کے بجائے کمزور کی داد رسی کو فروخت دینا ہوگا۔ اداروں کو دکھانا ہوگا کہ کمزور ہونا جنسی استحصال کی دعوت نہیں۔
اسکول، مذہبی ادارے، خاندان اور سیاسی قیادت سب طاقت کے سامنے رضامندی کے رویوں کو تشکیل دیتے ہیں۔ ہر بار جب توجہ مجرم کے عمل سے ہٹ کر متاثرہ فرد کے رویے پر جاتی ہے سماج کو اسے واپس ظلم کی طرف موڑنا ہوگا کیونکہ ریپ کے خلاف جدوجہد ایک ذہنیت کے خلاف جدوجہد ہے۔ ہر معاشرے کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ طاقت کی منطق سے چلنا چاہتا ہے یا انصاف کی روح سے۔ جہاں طاقت کی پوجا ہو وہاں کمزور ہمیشہ کسی نہ کسی استحصال کے لیے دستیاب ہو جاتے ہیں۔ کبھی ان کی محنت لوٹی جاتی ہے۔ کبھی ان کی آواز خاموش کر دی جاتی ہے۔ کبھی ان کے جسم وہ جگہ بن جاتے ہیں جس پر غلبے کا اظہار کیا جاتا ہے۔ جب تک ہم اس ثقافت کو چیلنج نہیں کریں گے ہم علامات کو اصل سمجھتے رہیں گے۔
ریپ کا المیہ صرف یہ نہیں کہ وہ متاثرہ شخص کے ساتھ کیا کرتا ہے بلکہ یہ بھی کہ وہ اس سماج کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے جو اسے پیدا کرتا ہے۔اس پس منظر میں ریپ کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ جسم کی توہین ہے جس کے ذریعے ایک فرد اپنا غلبہ جتاتا ہے۔ دبا ہوا غصہ نکالتا ہے یا وہ طاقت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو زندگی نے کہیں اور فراہم نہیں کی۔ یہ جنسی عمل نہیں بلکہ وہ لمحہ ہے جب مجرم کسی انسان کے جسم کو اپنی محرومیوں، اپنی تحقیر کے بدلے اور اپنے بے قابو غصّے پر مبنی خوابوں کا اظہار بنا دیتا ہے۔ یہ نفسیاتی قوتیں اکثر خود مجرم کے لیے بھی ناواقف اور غیر مرئی ہوتی ہیں مگر انہیں طاقت اور غصے کی نفسیات کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔ جب تک یہ تعلق قائم رہے گا یہ نئی سفاکیوں کو جنم دیتا رہے گا۔


