ٹرانسکرپشن کے اصول کیا ہو سکتے ہیں؟-قاسم یعقوب

کسی تقریر یا زبانی کلام کو ضابطہء تحریر میں لانا Transcription کہلاتا ہے۔کیمرے، آئیڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کی سہولیات کی وجہ سےتقریری گفتگوئوں کی موجودگی سے گزشتہ چند دہائیوں سے ٹرانسکرپشن ایک ضرورت کے طور پر نیا میڈئم پیدا ہوا ہے۔ تحریر کی شکل میں تقریری مواد کو زیادہ وقیع اور تادیر محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ تقریر پر تحریر کی فوقیت کے بارے میں دریدائی فکر کا حوالہ یہاں اصل موضوع سے ہٹ جائے گا مگر ٹرانسکرائب کی تحریری متن میں منتقلی سے تقریری مواد کی جدید، نئی اور وسیع معنیاتی و لفظیاتی دریافتوں نے اسے آج کی ضرورت بنا دیا ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس کے اصول کیا ہوں گے۔ اردو میں ٹرانسکرپشن کے اصول و ضوابط پر مواد نہ ہونے کے برابر ہے۔ میں خود اپنے طالب علموں سے اس مسئلے پر الجھا رہتا ہوں۔
اس حوالے سے چند ایک باتیں ہیں، جنھیں میں ملحوظِ خاطرر کھتا ہوں:
۱۔ تقریر اور تحریر کی نفسیاتی اور معنیاتی حدودکا خیال رکھے بغیر ہم دونوں کو ایک دوسرے میں منتقل نہیں کر سکتے۔ یاد رہے کہ تحریر اپنے مصنف کے وجودی حوالوں سے لاتعلق ہوتی ہے، جب کہ تقریری متن اپنے مصنف کی موجودگی کے معنیاتی ابعاد کے بغیر نامکمل رہتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم تقریری یا زبانی کلام کو اُس کے مقرّر یا تخلیق کار کے بغیر سمجھ ہی نہیں سکتے جب کہ تحریر کے لیے اُس کے مصنف کی وجودی شبیہ ہونا لازمی نہیں۔جب ہم سرشار ، غالب یا منٹو پڑھ رہے ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ مصنف کا وجود نہیں ہوتا بلکہ متن حاوی تحرک کے طور پر اپنے معنیاتی وجود کا اثبات کروا رہا ہوتا ہے۔
۲۔ تحریر پڑھتے ہوئے ہم تحریر کو پہلے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اپنے دماغ کے اُن کوڈز سے مطابقت تلاش کر رہےہوتے ہیں جو زبان کے لاشعوری نظام کا حصہ ہوتے ہیں۔زبان کے کوڈز ہم اپنے دماغ کے اندر ڈی کوڈ کرتے ہیں۔یوں تحریر پڑھتے ہوئے اسے دیکھا بھی جا رہا ہوتا ہے۔زبان کا تحریری نظام ، تقریری نظام سے مختلف وجود رکھتا ہے۔ ہم بولتے ہوئے ہرگز اُس نظام کے تابع نہیں ہوتے جو تحریری نظام تقاضا کرتا ہے۔ اسی طرح جب ہم سن رہے ہوتے ہیں تو ہمارا لاشعوری نظامِ فہم صوتی کوڈز کے مطابق زبان کی تفہیم کر رہا ہوتا ہے۔ یوں ٹرانسکرپشن کے ضمن میں اس بات کی تفہیم سامنے رکھنی لازمی ہے کہ تقریر کو من و عن تحریر کا لبادہ نہیں پہنایا جا سکتا۔
۳۔تقریر یا زبانی گفتگو کا متن جب تحریری متن میں ڈھلتا ہے تو وہ سب کچھ ایک جیسا ہونے کے باوجود ایک شعریات سے دوسری شعریات کے تابع ہو جاتا ہے۔ تقریر کی شعریات زبانی کلامیہ کی شعریات ہے جب کہ تحریر کی شعریات عکسی (Imagist) یا کثیر معنوی متن کی شعریات ہے جو کبھی ایک معنی تک محدود نہیں رہ سکتی۔
۴۔ یہ بھی دلچسپ امر ہے کہ شمس الرحمن فاروقی صاحب نے داستان پر کام کرتے ہوئے زبانی کلامیہ پر اپنی تھیوریٹیکل بنیاد رکھی ہے مگر اُن کے سامنے داستانِ امیر حمزہ کا جتنا متن ہے وہ تحریری تھا۔ تحریری متن کبھی بھی تقریری متن کے برابر نہیں ہو سکتا۔ دونوں کے شعریات ہی الگ ہیں۔ دونوں کو جانچنے اور پرکھنے کا معیار بھی الگ الگ ہوگا۔
۵۔اب ٹرانسکرپشن کی بات کی جائے تو گفتگو یا زبانی متن جب ٹرانسکرائب کیا جائے تو اس کا وہ تمام مواد جو تحریری شکل میں اپنے مفاہیم میں غیر واضح ، مبہم یا بے ترتیب دکھائی دے اُسے تحریری متن کا حصہ بنانا چاہیے۔ ہم ہوبہو تقریری لفظوں کو تحریری متن میں منتقل نہیں کر سکتے۔ تقریری کلام کی جمالیات، تحریری اسلوب جیسی نہیں ہوتی۔ایسا مصنف جو تقریری سطح پر بہت اچھا ہو، لازم نہیں کہ وہ تحریری متن میں بھی اچھا ہو۔ بلکہ تقریری متن تحریر میں منتقل ہوکے اپنا سارا جمالیاتی نظام کھو دیتا ہے، کیوں کہ تحریر میں مقرر نہیں رہتا، مصنف بن جاتا ہے۔ مصنف متن پر حاوی نہیں ہوتا۔ سیاقی حوالوں کے علاوہ اُس کی حیثیت قائم نہیں رہتی۔
۶۔ مقرر کے تقریری متن کو من وعن تحریری متن میں منتقل کرکے ذرا ایک نظر دیکھیے۔ لگتا ہے تقریر کا سارا جادو ایک دم ختم ہو گیا ۔ اس کی بڑی یہ ہے کہ مقرر ہی نہیں مقرر کے ساتھ وہ سارا ماحول جس میں تقریری متن پیش کیا جا رہا ہوتا ہے، یک دم غائب ہو جاتا ہے۔مقرر کی Pragmaticsبھی لفظوں سے الگ ہو جاتی ہے۔زبانی گفتگوکو تحریری متن اپنی شعریات کے تابع لا چکا ہوتا ہے۔
ٹرانسکرپشن کرتے ہوئے اس ایک اصول کو مدنظر کھنا ضروری ہے۔ اس اصول کو سامنے رکھ کرہی ہم ٹرانسکرپشن کے Line Editingکے اصولوں کو واضح کر سکتے ہیں۔اس ضمن میں ہم ٹرانسکرپشن کے وقت مندرجہ ذیل تبدیلیاں کر سکتے ہیں:

۱۔ اگر مصنف کوئی بات بھول گیا ہو ، کچھ توقف کے بعد، کسی کے یاد کروانے یا خود ہی کچھ مزید باتیں یاد کرنے کے بعدبھولی بات یاد کرلے اور اسے دورانِ گفتگو بتا کےبات جاری رکھے تو تحریر میں اس جھنجھلاہٹ کی وضاحت کرنا ضروری نہیں۔
۲۔ متن کو تحریری اصولوں کے مطابق لکھا جائے تقریری اصولوں کے مطابق نہیں۔ یعنی جملوں کی ترتیب نحوی کو توڑنا لازمی نہیں، بلکہ غلط ہے۔
۳۔ کسی بات کو اگر تقریر میں بار بار دُہرایا جا رہا ہو، جذباتی انداز اپنایا جا رہا ہو، غصے، قہقہے یا مسکراہٹ کا بے دریغ استعمال ہو توضروری نہیں کہ اُسے ضابطۂ تحریر میں لاتے ہوئے بھی انھی کیفیات کے ساتھ تروڑ مروڑ کے لکھا جائے۔تحریر میں ان سب کیفیات کا آنا مقرر کا اچھا تاثر نہیں پیش کرے گا۔ ہاں اسے حاشیہ میں واضح کیا جا سکتا ہے۔
یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ تقریر کے الفاظ یا متن ایک ایسا مائع ہے جو تحریر کے برتن میں انڈیلتے ہی اپنی شکل بدل لے گا۔ یاد رہے کہ متن کو تبدیل کردینااور متن کو تحریری اصولوں کے تابع کرنا ؛ دو مختلف باتیں ہیں۔یہاں متن کے تحریری شکل اختیار کرنے کی بات کی جا رہی ہے تبدیل کرنے کی نہیں۔ تقریری برتن کا مائع برتن بدلتے ہی تحریری برتن کے مطابق بن جائے گا، مائع وہی رہے گا۔وہاں اگر مستطیلی تھا تو یہاں چوکور ہو گیا وغیرہ۔
ٹرانسکرپشن کے اصولوں پر ایک طویل گفتگو کی ضرورت ہے تاکہ تقریری متن کو تحریر کا حصہ بناتے ہوئے جدید اصولوں اور آج کی ضرورت کو سامنے رکھا جا سکے تاکہ ایسے متون جو تقریر میں محدود ہیں ،تحریر میں ڈھل کے کثیر معنوی حدود میں داخل ہو سکیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں