بعض سیاسی تقاریر وقتی سیاسی ضرورت پوری کرتی ہیں اور چند دن بعد تاریخ کے حاشیوں میں گم ہو جاتی ہیں، لیکن بعض خطابات ایسے ہوتے ہیں جو اپنے اندر ایک پورا سیاسی مقدمہ، ایک فکری مؤقف اور ریاست و سیاست کے تعلق پر ایک جامع نقطۂ نظر سموئے ہوتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کا وکلا کنونشن سے حالیہ خطاب اسی دوسری نوعیت کی تقریر ہے۔ اسے محض ایک سیاسی ردعمل یا انتخابی بیان قرار دینا اس کی معنویت کو محدود کر دینے کے مترادف ہوگا، کیونکہ اس میں پاکستان کی آئینی سیاست، ریاستی کردار، داخلی سلامتی، خارجہ پالیسی، جمہوری اداروں کی حیثیت اور قومی بیانیے کے متعدد پہلو ایک مربوط تسلسل کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے اپنی گفتگو کا آغاز ایک ایسے آئینی اصول سے کیا جس پر بظاہر کسی اختلاف کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر سیاسی جماعت اور ہر شہری کو آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے نظریے، فکر اور سیاسی مؤقف کی تبلیغ کا حق حاصل ہے۔ یہی نکتہ پوری تقریر کی بنیاد بھی ہے، کیونکہ اس کے بعد انہوں نے جس شدت اور صراحت کے ساتھ مختلف قومی معاملات پر تنقید کی، اسے اسی آئینی حق کے دائرے میں رکھ کر جائز قرار دیا۔ گویا ان کا بنیادی استدلال یہ تھا کہ اختلافِ رائے ریاست دشمنی نہیں بلکہ جمہوری معاشروں کی ناگزیر ضرورت ہے، اور اگر تنقید کے دروازے بند ہو جائیں تو آئین کی روح بھی مجروح ہو جاتی ہے۔
تقریر کا سب سے اہم فکری پہلو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر تھا۔ انہوں نے اس مسئلے کو صرف مذہبی یا داخلی خرابی قرار دینے کے بجائے اسے بین الاقوامی سیاست، بڑی طاقتوں کی حکمت عملی اور ریاستی فیصلوں کے تاریخی تسلسل میں دیکھا۔ ان کے مطابق مذہبی طبقات کو عسکری راستے پر ڈالنے، پھر اسی عمل کو اسلام کے خلاف عالمی بیانیے کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری مسلم دنیا کو سنگین نتائج سے دوچار کیا۔ خواہ اس تجزیے سے مکمل اتفاق کیا جائے یا اختلاف، یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ اس نے ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ دہشت گردی کے اسباب کو صرف داخلی عوامل سے سمجھا جا سکتا ہے یا اس کے پس منظر میں بین الاقوامی طاقتوں اور ریاستی پالیسیوں کا کردار بھی زیرِ بحث آنا چاہیے۔
شہداء کے حوالے سے پیدا ہونے والا تنازع بھی تقریر کا ایک بنیادی موضوع رہا۔ مولانا فضل الرحمن نے نہ صرف اپنے بیان کی وضاحت کی بلکہ یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان کی گفتگو کو سیاق و سباق سے الگ کر کے ایک ایسا تاثر پیدا کیا گیا جو حقیقت کی درست ترجمانی نہیں کرتا۔ اپنی جماعت کے سینکڑوں شہداء کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ جو جماعت خود دہشت گردی کا نشانہ بنی ہو، اس پر شہداء کی بے حرمتی کا الزام عائد کرنا انصاف کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اسی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کارگل کے واقعات کا حوالہ دیا اور یہ سوال اٹھایا کہ قومی تاریخ کے بعض حساس مراحل میں ریاست نے اپنے شہداء کے ساتھ کیا طرزِ عمل اختیار کیا تھا۔ اس اندازِ استدلال نے تقریر کو محض دفاعی وضاحت سے نکال کر قومی حافظے کے ایک وسیع تر مباحثے میں تبدیل کر دیا۔
ریاستی اداروں کے کردار پر ان کی گفتگو بھی خصوصی توجہ کی مستحق ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ریاست کی مضبوطی کا راستہ آئینی حدود کی پاسداری سے گزرتا ہے۔ ان کے نزدیک پالیسی سازی منتخب سیاسی قیادت کا اختیار ہے، جبکہ دیگر اداروں کی ذمہ داری آئین کے مقرر کردہ دائرۂ کار کے اندر رہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دینا ہے۔ اگر کوئی ادارہ اس حد سے تجاوز کرے تو اس کی نشاندہی ریاست دشمنی نہیں بلکہ آئین سے وفاداری کا اظہار ہے۔ پارلیمنٹ میں اپنی تقریر نشر نہ ہونے اور اظہارِ رائے پر عائد غیر محسوس پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے دراصل یہ سوال اٹھایا کہ اگر منتخب نمائندوں کی آواز ہی محدود کر دی جائے تو جمہوری نظام اپنی حقیقی روح کیسے برقرار رکھ سکے گا؟
خارجہ پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے پاکستان کے علاقائی تعلقات کا نہایت تنقیدی جائزہ پیش کیا۔ چین، ایران، افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے یہ تاثر دیا کہ پاکستان تدریجاً سفارتی تنہائی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان کے نزدیک خارجہ پالیسی کی کامیابی کا معیار صرف وقتی سفارتی بیانات نہیں بلکہ ہمسایہ ممالک اور عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن، باوقار اور قومی مفادات پر مبنی تعلقات ہوتے ہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ خطے میں بدلتی ہوئی صورتِ حال کے دوران پاکستان اپنی آزاد اور خودمختار خارجہ پالیسی کو کس حد تک برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔
خیبر پختونخوا کی امن و امان کی صورتِ حال پر ان کے تحفظات بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے بعض اضلاع کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ریاست عوامی لشکروں یا غیر رسمی عسکری انتظامات پر انحصار کرنے لگے تو اس کے نتائج ماضی کی طرح مستقبل میں بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ سقوطِ ڈھاکہ کے تاریخی تجربے کا حوالہ دے کر انہوں نے دراصل یہ اصول واضح کیا کہ ریاستی ذمہ داریوں کا متبادل غیر ریاستی قوتیں نہیں ہو سکتیں۔ امن، قانون اور طاقت کا استعمال ہمیشہ ریاستی اداروں کے منظم اور آئینی ڈھانچے کے اندر ہی ہونا چاہیے۔
یہ تقریر درحقیقت صرف حکومت یا کسی ایک ادارے پر تنقید نہیں بلکہ ریاستی نظم و نسق کے پورے فلسفے پر ایک سوالیہ نشان بھی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کا بنیادی مقدمہ یہی ہے کہ ریاست کی اصل قوت ہتھیاروں، طاقت یا اختیار کے ارتکاز میں نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری، قانون کی حکمرانی اور اداروں کے درمیان واضح آئینی توازن میں مضمر ہے۔ جب یہ توازن متاثر ہوتا ہے تو سیاسی بحران جنم لیتے ہیں، اداروں کے درمیان بداعتمادی بڑھتی ہے اور قوم تقسیم در تقسیم کا شکار ہو جاتی ہے۔
اب اصل سوال یہ نہیں کہ مولانا فضل الرحمن کے ہر دعوے سے اتفاق کیا جائے یا اختلاف، بلکہ یہ ہے کہ انہوں نے جن آئینی، سیاسی اور ریاستی سوالات کو اٹھایا ہے، کیا ان پر سنجیدہ قومی مکالمہ ہوگا یا انہیں بھی محض روزمرہ کی سیاسی کشمکش کا حصہ بنا کر نظرانداز کر دیا جائے گا؟ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جن قوموں نے اپنے بنیادی سوالات کو دبانے کی کوشش کی، وہ مسائل وقت گزرنے کے ساتھ مزید پیچیدہ ہوتے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تقریر کو محض ایک سیاسی خطاب نہیں بلکہ ریاست اور جمہوریت کے باہمی تعلق پر ایک نئے مباحثے کی دعوت کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے۔


