میں نے خدا کو دیکھا / پروفیسر فضل تنہا غرشین

زیر نظر تحریر مصنفہ میری مرے بوسروک کی انگریزی کتاب ‘آئی سا گاڈ’ کا اردو خلاصہ ہے۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ بہت پہلے پرفیکٹ نامی ایک دور افتادہ خوب صورت جزیرہ ہوا کرتا تھا، جو کسی جنت سے کم نہ تھا۔ یہاں کے باشندوں کی آپس میں محبت دیدنی اور مثالی تھی۔ لالچ، بغض، عناد اور نفرتوں سے ان کا دور دور تک کوئی واسطہ نہ تھا۔ اس جزیرے میں پولیس، وکیل، جنگ، جرم اور تشدد کا نام و نشان تک نہ تھا۔ خواتین، جانوروں اور پرندوں کی بڑی قدر ہوا کرتی تھی، اور وہ صرف اپنی بقا کے لیے شکار کیا کرتے تھے۔ بھوک مٹانے کے بعد وہ خوراک کی پوجا کرتے اور شکر ادا کرتے۔
ان میں زمین مشترک اور مقدس ہوا کرتی تھی۔ وہ زمین کا اور زمین ان کا خیال رکھتی تھی۔ وہ کھیتی باڑی اور مال مویشی کا فن بھی جانتے تھے۔ بچوں کو خدا کا عطیہ سمجھ کر ان پر شفقت کی جاتی تھی، اور وہ بھی بڑوں کی عزت کیا کرتے تھے۔ وہ ایک دوسرے پر مہربان تھے اور ایک دوسرے کو سلام اس لیے کرتے تھے کہ ان کے اندر خدا بستا تھا، اور خدا سب کا سانجھا تھا۔
وہ سردیوں میں جھونپڑیوں میں اور گرمیوں میں نیلے آسمان تلے سوجایا کرتے تھے۔ وہ ہر لمحہ بادل، رم جھم، بارش، سبزہ، سورج، چاند، ستاروں، جانوروں کی آوازوں، پرندوں کی چوں چوں اور قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ یہ سب کچھ خدا نے بنایا ہے اور جو کچھ خدا نے بنایا ہے وہ اچھا اور مفید ہے۔ وہ موسیقی اور رقص سے پیار کرتے تھے۔ ماما اور پاپا ان کو دل چسپ کہانیاں سناتے تھے، موسیقی سیکھاتے تھے اور ان کے لیے لکڑیوں سے خوب صورت مجسمے تراشتے تھے۔
پرفیکٹ جزیرہ یوں تو مجموعی طور پر خوش حال اور پُرامن ہوا کرتا تھا اور اس میں ہمہ وقت شانتی ہوا کرتی تھی، مگر کبھی کبھار قدرتی آفات، وبائیں اور دیگر مصائب بھی جزیرے کا رخ کیا کرتے تھے۔ وہ انفرادی طور پر ان حالات کا کبھی مقابلہ نہیں کرسکتے تھے، لہذا وہ ان حالات میں خدا سے رجوع کرتے، خدا کو یاد کرتے اور خدا کی پرستش کرتے۔ انھوں نے خدا کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ جب تک وہ خدا کی دیدار سے محروم تھے، تب تک وہ آپس میں شانتی سے رہتے تھے۔ پرفیکٹ جزیرے میں جب کوئی بیمار پڑتا، تو ماما جڑی بوٹیوں سے اس کا علاج کرتی۔ جب کسی بچے کا ہاتھ یا پاؤں ٹوٹتا، تو پاپا اس کو جوڑ دیتا۔ غروب آفتاب کے وقت سارا جزیرہ ساحل پر اکھٹا ہوکر عبادت کرتا تھا، مگر ان میں مذاہب، عقائد، مساجد، گرجا اور چرچ کا کوئی تصور نہ تھا۔
فصلوں کے پکنے پر ہر سال کے آخر میں دن چھوٹے ہو جاتے، تیز ہوائیں چلتیں، سمندر ٹھاٹھیں مارتا، گھنگھور گھٹائیں آتیں اور طوفانی بارشیں ہوجاتیں۔ جس کی وجہ سے ان کی فصلوں، جھونپڑیوں اور معمولات زندگی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا۔ وہ خود کو بچانے کے لیے پہاڑوں پر چڑھتے اور ایک دوسرے کی خوب مدد کرتے۔ بہار کا موسم تھا۔ ایک دن سب فصل اگانے میں مصروف تھے کہ یکایک موسم کے تیور بدل گئے، گھنگھور گھٹائیں آئیں، رعد و برق عروج پر تھا، قوس قزح نمودار ہوا، یوں محسوس ہوا جیسا کہ سورج رقص کرنے لگا ہو، اور گھنگھور گھٹاٶں میں حیرت انگیز اور ہیبت آمیز تصویر آسمان پر نمودار ہونے لگی۔ پورے جزیرے میں خاموشی چھا گئی۔ سارے جزیرے والے آسمان پر نمودار ہونے والی ہیبت بھری ہستی کو حیرت سے تکنے لگے۔ ان کی آنکھیں خیرہ ہوگئیں، اور سب نے اپنا کام چھوڑ کر حیرت و استعجاب میں کھڑے رہ گئے۔
یہ تصویر ایک ہیبت ناک جانور کی جیسی لگ رہی تھی، ایسا جانور جو انھوں نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ یہ زیبرا، گھوڑے یا گدھے کی تصویر نہیں تھی، بل کہ ان سب کی طرح لگ رہی تھی۔ آسمان پر نمودار ہونے والے گھوڑے نما جانور پر ایک ہیبت ناک شخص بھی سوار تھا، جس کے سر پر ایک ٹوپی بھی تھی۔ یہ ٹوپی ایک طرف سے سرخ اور دوسری طرف سے نیلی تھی۔ کھیتوں میں ایک طرف کام کرنے والوں نے ٹوپی کا صرف سرخ حصہ دیکھا، اور کھیتوں کی دوسری طرف کام کرنے والوں نے ٹوپی کا صرف نیلا حصہ دیکھا۔ چند ثانیوں کے بعد تصویر بادلوں میں گم ہوگئی، مینہ برسنے لگا اور جزیرے کے باشندے مسرور ہونے لگے۔
شام ہونے پر سب پوجا کے لیے ساحل پر اکھٹے ہوگئے، اور آسمان پر نمودار ہونے والے معجزے کے بارے میں گفت گو ہونے لگی۔ چہ میگوئیاں ہونے لگیں، مگر جزیرے کے بڑوں نے فیصلہ سنایا کہ وہ کوئی معجزہ یا عجوبہ نہ تھا۔ بل کہ وہ خدا تھا جو جزیرے کو دیکھنے آیا تھا۔ اس فیصلے پر سب کا اتفاق ہوگیا، مگر خدا کی ٹوپی کا رنگ تنازع کا سبب بنا۔ جن لوگوں نے ٹوپی کا صرف سرخ حصہ دیکھا تھا وہ بہ ضد تھے کہ صرف سرخ ٹوپی والا خدا برحق ہے، اور جن لوگوں نے ٹوپی کا صرف نیلا حصہ دیکھا تھا، ان کا اصرار تھا کہ صرف نیلی ٹوپی والا خدا برحق ہے۔ یوں جزیرے میں ایسی پھوٹ پڑی کہ پھر کبھی ایک نہ ہوسکے۔
ان کی محبتیں نفرتوں میں تبدیل ہوگئیں۔ جزیرہ دو حصوں میں بٹ گیا۔ بڑوں کی طرح ان کے بچے بھی ایک دوسرے کے دشمن ہونے لگے۔ ان کا آرٹ، موسیقی، رقص اور سب کچھ ایک دوسرے سے مختلف ہونے لگا۔ زمینیں تقسیم ہونے لگیں۔ ایک دوسرے کی مدد کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنا شروع ہوگیا۔ لڑائیاں سر اٹھانے لگیں۔ ایک دوسرے کی فصلوں اور املاک کو نقصان پہنچانا شروع ہوا۔ جرائم کا آغاز ہوا۔ آرام کی نیندیں حرام ہوگئیں۔ عبادت گاہوں، پولیس تھانوں، عدالتوں اور سیاست کا آغاز ہونے لگا۔
اس کے بعد خدا سرخ عقیدت مندوں اور نیلے عقیدت مندوں میں تقسیم ہوگیا اور ان کا خدا مخالف قبیل کو مارنے، ان کے بچوں کو ایذا پہنچانے، ان کی عورتوں کی آبرو ریزی کرنے اور ان کو ہر ممکنہ نقصان پہنچانے پر خوشی سے پھولے نہ سمانے لگا تھا۔
یوں جزیرے پر خدا کی دیدار کے بعد آسیب کے بادل منڈلانے لگے، اور اب تک مسلسل منڈلانے لگے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں