مابعد جدید ناول اور پاکستانی سماج/محمد عامر حسینی

کیا مابعد جدید ناول صرف اسی سماج میں لکھا جا سکتا ہے جو صنعتی انقلاب، روشن خیالی، قومی جمہوری انقلاب، کلاسیکی سرمایہ داری اور پھر ترقی یافتہ صارف سرمایہ داری کے تمام تاریخی مراحل سے گزر چکا ہو؟ یا ایسا بھی ممکن ہے کہ ایک ایسا سماج، جس کی تاریخ ناہموار ہو، جس میں قدیم اور جدید زمانے بیک وقت موجود ہوں، اپنے مخصوص تجربے سے مابعد جدید فکشن کی کوئی الگ صورت پیدا کرے؟ اردو ناول کے سامنے آج شاید یہی سب سے اہم سوال ہے۔

مغرب میں مابعد جدید ناول کسی خالص ادبی خواہش کے نتیجے میں پیدا نہیں ہوا تھا۔ اس کے عقب میں صنعتی سرمایہ داری کی کئی صدیوں کی تاریخ، شہری زندگی کی توسیع، نوآبادیاتی فتوحات، دو عالمی جنگیں، ذرائع ابلاغ کا پھیلاؤ، صارفیت، کثیرالقومی کارپوریشنوں کا عروج اور سرمایہ داری کا وہ مرحلہ موجود تھا جسے فریڈرک جیمسن نے بعد از سرمایہ داری یا لیٹ کیپٹلزم کی ثقافتی منطق سے تعبیر کیا۔ اس مرحلے پر حقیقت صرف کارخانوں، بازاروں اور ریاستی اداروں سے تشکیل نہیں پاتی بلکہ اشتہارات، ٹیلی وژن، فلم، فیشن، برانڈ، ڈیجیٹل شبیہوں اور مسلسل گردش کرتی ہوئی معلومات سے بھی بنتی ہے۔

پاکستانی سماج کی تاریخی ساخت اس سے مختلف ہے۔ یہاں مغربی معنوں میں مکمل صنعتی انقلاب نہیں آیا۔ قومی جمہوری انقلاب ادھورا رہا۔ جاگیردارانہ ملکیت، نوآبادیاتی انتظامیہ، عسکری افسر شاہی، مذہبی اختیار، قبائلی تعلقات، غیر رسمی معیشت اور جدید سرمایہ داری ایک دوسرے سے الگ مراحل کی صورت میں نہیں بلکہ ایک ہی وقت میں ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ یہاں ایک ہی خاندان کا ایک فرد خلیجی ملک میں جدید تعمیراتی صنعت کا مزدور ہو سکتا ہے، دوسرا شخص گاؤں میں زمین کے نیم جاگیردارانہ رشتے میں بندھا ہو سکتا ہے اور تیسرا موبائل فون کے ذریعے ڈیجیٹل مارکیٹنگ، کرپٹو کرنسی یا مصنوعی ذہانت سے وابستہ کام کر رہا ہوتا ہے۔

یہی صورت حال پاکستانی سماج کو محض “پسماندہ” کہہ کر سمجھنے کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔ یہ سماج ماضی میں منجمد نہیں بلکہ کئی زمانوں کی بیک وقت موجودگی کا سماج ہے۔ یہاں قدیم روایت جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہے، مذہبی خطیب یوٹیوب کا الگورتھم سمجھتا ہے، جاگیردار سوشل میڈیا کی ٹیم رکھتا ہے، سیاسی جماعت مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ تصویریں پھیلاتی ہے اور دیہی نوجوان ٹک ٹاک پر اپنی ایسی شناخت تخلیق کرتا ہے جو اس کی مادی زندگی سے یکسر مختلف دکھائی دیتی ہے۔ گویا ہمارے ہاں جدیدیت مکمل ہوئے بغیر مابعد جدید تکنیکیں داخل ہو گئی ہیں۔

اس اعتبار سے پاکستانی مابعد جدیدیت، مغرب کی مابعد جدیدیت کی نقل نہیں بلکہ غیر مساوی اور مرکب ترقی کی پیداوار ہوگی۔ یہاں ایک طرف جدید ترین مواصلاتی ٹیکنالوجی ہے اور دوسری طرف بنیادی تعلیم، صحت، صاف پانی اور محفوظ روزگار کا فقدان۔ ایک طرف مصنوعی ذہانت ہے، دوسری طرف دستکاری اور یومیہ اجرت۔ ایک طرف عالمی مالیاتی اداروں کی پالیسی ہے، دوسری طرف مقامی برادری، ذات، فرقے اور خاندان کی طاقت۔ یہ تضادات محض سماجی علوم کا موضوع نہیں بلکہ ناول کے لیے زرخیز مواد بھی ہیں۔

پاکستان کی بڑی بورژوازی بھی یورپ کی کلاسیکی بورژوازی جیسی نہیں جس نے جاگیرداری کے خلاف تاریخی لڑائی لڑ کر جدید قومی ریاست، شہری حقوق اور آزاد منڈی کی بنیاد رکھی تھی۔ ہماری حکمران سرمایہ دار پرتیں اکثر زمین داری، ریاستی ٹھیکوں، فوجی و سول افسر شاہی، درآمدی تجارت، بینکاری اور سیاسی سرپرستی کے پیچیدہ جال سے پیدا ہوئی ہیں۔ اسی طرح ہمارا درمیانہ طبقہ بھی محفوظ ملازمت، مستقل آمدنی اور واضح تہذیبی خود اعتمادی رکھنے والا روایتی متوسط طبقہ نہیں رہا۔ وہ قرض، مہنگائی، بے یقینی، بیرون ملک ہجرت اور سماجی نمود کے دباؤ میں تقسیم ہو چکا ہے۔

محنت کش طبقہ بھی کلاسیکی صنعتی پرولتاریہ کی طرح بڑے کارخانوں میں مجتمع اور منظم نہیں۔ اس کا بڑا حصہ غیر رسمی معیشت، گھریلو صنعت، زرعی مزدوری، دکان داری، ترسیلی خدمات، رکشا، موٹر سائیکل، ایپ پر مبنی کام، عارضی ملازمت اور بیرون ملک محنت سے وابستہ ہے۔ یہ کارکن ایک ہی وقت میں مزدور بھی ہو سکتا ہے، چھوٹا مالک بھی، قرض دار بھی اور کسی مذہبی یا نسلی شناخت کے ذریعے سیاسی طور پر متحرک فرد بھی۔ اس کی طبقاتی شناخت سیدھی اور یک رنگ نہیں۔

دیہات بھی وہ کلاسیکی دیہات نہیں رہے جنہیں اردو کے ابتدائی سماجی ناولوں میں ایک نسبتاً بند دنیا کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ موبائل فون، ٹیلی وژن، موٹر وے، بیرون ملک روزگار، زرعی منڈی، رہائشی کالونیاں، نجی اسکول، مذہبی تنظیمیں اور انتخابی سرمایہ دیہی زندگی کو بدل چکے ہیں۔ بہت سے دیہات آدھے شہر اور بہت سے شہر پھیلے ہوئے دیہات معلوم ہوتے ہیں۔ ایسے سماج کو صرف حقیقت نگاری کے پرانے سانچوں میں مکمل طور پر گرفت میں لینا مشکل ہے۔

یہیں سے پاکستانی مابعد جدید ناول کی جگہ نکلتی ہے۔ مگر ایسا ناول صرف ٹوٹے ہوئے جملوں، پیچیدہ علامتوں اور غیر خطی بیانیے کا نام نہیں ہوگا۔ مابعد جدید ہونا محض فنی کرتب دکھانا نہیں بلکہ اس شکستہ حقیقت کے لیے موزوں بیانیہ تلاش کرنا ہے جس میں کوئی ایک آواز، ایک سچ، ایک مرکز اور ایک تاریخ پورے تجربے کی نمائندگی نہیں کر سکتی۔

ایسے ناول میں متعدد راوی ہو سکتے ہیں۔ ایک واقعہ پولیس کی رپورٹ میں کچھ اور ہو، ٹیلی وژن کی خبر میں کچھ اور، سوشل میڈیا پوسٹ میں کچھ اور اور متاثرہ خاندان کی یادداشت میں بالکل مختلف۔ سرکاری فائل، عدالتی فیصلہ، واٹس ایپ پیغام، یوٹیوب ویڈیو، اخباری تراشہ، ذاتی ڈائری اور خواب ایک ہی بیانیے کا حصہ بن سکتے ہیں۔ قاری کو تیار شدہ حقیقت فراہم کرنے کے بجائے ناول اس کے سامنے حقیقت کی تعمیر کا عمل رکھ سکتا ہے۔

لیندا ہچن نے مابعد جدید فکشن میں تاریخ اور افسانے کے پیچیدہ تعلق کی طرف توجہ دلائی تھی۔ پاکستانی ناول کے لیے یہ تصور خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ہماری تاریخ بار بار سرکاری بیانیے، نصابی کتاب، قومی اسطورے، خاندانی یادداشت اور دبائی ہوئی گواہی میں تقسیم ہوتی ہے۔ ایک پاکستانی مابعد جدید ناول یہ دکھا سکتا ہے کہ تاریخ صرف وہ نہیں جو ریاست لکھتی ہے بلکہ وہ بھی ہے جو لاپتا شخص کی ماں یاد رکھتی ہے، جو کسی مزدور کی ہجرت میں درج ہے، جو کسی اقلیت کے خوف میں محفوظ ہے اور جو کسی شکست خوردہ سیاسی تحریک کی خاموش زبان میں زندہ رہتی ہے۔

باختن کا کثیرالصوتی ناول بھی ہمارے لیے اہم ہو سکتا ہے۔ پاکستانی سماج میں زبان، طبقے، مذہب، قومیت، جنس، علاقے اور نسل کی بے شمار آوازیں موجود ہیں، مگر ہمارے ناول میں اکثر ایک مرکزی مصنفانہ آواز ان سب پر فیصلہ صادر کرتی ہے۔ حقیقی کثیرالصوتی ناول میں کردار محض مصنف کے نظریے کی مثالیں نہیں ہوتے بلکہ اپنے مستقل شعور، زبان اور اخلاقی منطق کے ساتھ زندہ رہتے ہیں۔

لیوتار نے بڑے بیانیوں پر عدم اعتماد کی بات کی تھی، مگر پاکستان میں یہ عدم اعتماد ایک مخصوص شکل اختیار کرتا ہے۔ یہاں ترقی، قومی سلامتی، مذہبی وحدت، جمہوریت، انقلاب اور جدیدیت جیسے بڑے بیانیے بار بار پیش کیے گئے، مگر لوگوں کا روزمرہ تجربہ اکثر ان سے میل نہیں کھاتا۔ مابعد جدید ناول ان بیانیوں کو محض رد نہیں کرے گا بلکہ یہ دکھائے گا کہ وہ کیسے بنتے ہیں، کس کے مفاد کی حفاظت کرتے ہیں اور کن آوازوں کو خاموش کرتے ہیں۔

بودریار کی شبیہ اور نقل کی بحث بھی ہمارے ڈیجیٹل سماج میں معنی رکھتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک سیاست دان، مذہبی رہنما، صحافی یا انقلابی کی شخصیت کبھی اس کے حقیقی وجود سے زیادہ طاقت ور شبیہ بن جاتی ہے۔ مصنوعی ذہانت اب ایسی تصویریں، آوازیں اور بیانات پیدا کر سکتی ہے جن کا کوئی اصل موجود نہیں۔ پاکستانی ناول کے لیے یہ سوال انتہائی اہم ہوگا کہ جب تصویر حقیقت سے زیادہ قابل یقین بن جائے تو انسان اپنی یادداشت، شناخت اور سچائی کو کیسے محفوظ رکھے۔

لیکن پاکستانی مابعد جدید ناول کی سب سے بڑی قوت حاشیے سے آئے گی۔ عورت، مزدور، کسان، خواجہ سرا، مذہبی اقلیت، نسلی محکوم، لاپتا شخص، تارک وطن، بے گھر خاندان اور چھوٹے شہر کا نوجوان محض پس منظر نہیں رہیں گے۔ ان کی زبانیں، خاموشیاں، خوف، خواہشیں اور متضاد شناختیں ناول کے مرکز کو توڑیں گی۔ مرکز کے ٹوٹنے کا مطلب افراتفری نہیں بلکہ ان آوازوں کے لیے جگہ پیدا کرنا ہے جنہیں روایتی قومی اور ادبی بیانیوں نے ثانوی سمجھا۔

اس ناول میں طنز بھی ہوگا، مگر سطحی تمسخر نہیں۔ مزاح اس حقیقت سے پیدا ہوگا کہ ہمارے سماج میں جدید ترین ٹیکنالوجی قدیم ترین تعصبات کی خدمت کرتی ہے، انقلاب کی زبان برانڈنگ میں بدل جاتی ہے، روحانیت مارکیٹ کا پیکیج بن جاتی ہے اور ریاست شہری کو ڈیجیٹل بنانے سے پہلے اسے مکمل شہری حقوق دینے سے انکار کرتی ہے۔

پاکستانی مابعد جدید ناول شاید ہمیں یہ نہ بتائے کہ حقیقت کیا ہے۔ وہ یہ دکھائے گا کہ حقیقت پر قبضہ کیسے کیا جاتا ہے، اسے کیسے فروخت کیا جاتا ہے، کیسے سنسر کیا جاتا ہے اور لوگ اپنی چھوٹی چھوٹی یادداشتوں، بولیوں اور کہانیوں کے ذریعے اسے دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کیسے کرتے ہیں۔

اس لیے سوال یہ نہیں کہ پاکستان مغرب کی طرح لیٹ کیپٹلزم میں داخل ہوا یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ عالمی سرمایہ داری، نوآبادیاتی وراثت، ادھوری جدیدیت، مذہبی و عسکری اقتدار اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ملاپ نے یہاں کی زندگی کو کس طرح بدلا ہے۔ اسی مخصوص تاریخی پیچیدگی سے ایک ایسا اردو ناول جنم لے سکتا ہے جو مغربی مابعد جدیدیت کی نقل نہیں بلکہ اس سے مکالمہ کرتے ہوئے اپنی الگ شعریات، اپنی الگ زبان اور اپنی الگ حقیقت پیدا کرے۔

شاید پاکستانی مابعد جدید ناول وہ ہوگا جس میں ایک ہی گلی میں کئی صدیاں چل رہی ہوں، ایک ہی کردار کے ہاتھ میں اسمارٹ فون بھی ہو اور نسلوں پرانا خوف بھی، اور ایک ہی واقعے کے اتنے سچ ہوں کہ قاری کو فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی جگہ، اپنی زبان اور اپنی یادداشت پر بھی شک کرنا پڑے۔

اپنا تبصرہ لکھیں