میرے عزیز،
آج مدت بعد آسمان نے اپنی خاموشی توڑی ہے، اور اس طرح برسا ہے جیسے صدیوں کا بوجھ ایک ہی پل میں اتار دینا چاہتا ہو۔ کئی ہفتوں کی جھلسا دینے والی گرمی کے بعد اچانک بادل امڈ آئے ہیں- بارش نے اس بےتابی سے زمین کو اپنے حصار میں لیا کہ مٹی کی ہر سانس سے ایک نئی خوشبو جنم لینے لگی ہے۔ مٹی کی خوشبو، ٹھنڈی ہوا اور چھتوں پر گرتی بوندوں کا شور… ہر شے میں ایک عجیب سا سکون اتر آیا ہے۔
میں بھی اس بارش میں دیر تک بھیگتا رہا ہوں؛ اس طرح جیسے کوئی شخص جسم نہیں، اپنی روح دھونا چاہتا ہو۔ میں نے چاہا کہ شاید یہ بارش میرے اندر جمع ساری گرد اپنے ساتھ بہا لے جائے۔ وہ گرد جو وقت نے یادوں پر نہیں، دل پر جما دی ہے۔ مگر عجیب تماشا ہے کہ جسم جتنا بھیگتا گیا، دل اتنا ہی بھاری ہوتا گیا۔
تمہاری یاد بھی شاید بارش ہی کی طرح ہے۔ آتی ہے تو اجازت نہیں مانگتی، اور جاتی ہے تو اپنے پیچھے ایک خاموش نمی چھوڑ جاتی ہے۔
میں اکثر سوچتا ہوں کہ آخر بارش میں ایسا کیا ہے؟ یہی پانی اگر دریا میں بہہ رہا ہو تو صرف پانی لگتا ہے، اگر گلاس میں ہو تو پیاس بجھاتا ہے، اگر سمندر میں ہو تو موج بن جاتا ہے؛ مگر جب یہی پانی آسمان سے برستا ہے تو انسان کے اندر برسوں سے بند پڑے دریچے کھول دیتا ہے۔ آخر ایسا کیوں؟
شاید اس لیے کہ بارش آسمان اور زمین کے درمیان ہونے والی ایک گفتگو ہے- انسان نہ چاہتے ہوئے بھی اس گفتگو کا تیسرا کردار بن جاتا ہے- یہ بارش ہمیں ہمارے اندر لے جاتی ہے۔ وہاں… جہاں روزمرہ کی مصروفیت کبھی پہنچ ہی نہیں پاتی۔ وہاں، جہاں بچپن ابھی تک کسی کچے صحن میں کاغذ کی کشتیاں چلا رہا ہوتا ہے۔ وہاں، جہاں کسی بچھڑے ہوئے شخص کی ہنسی ابھی تک دیواروں سے ٹکراتی ہے۔
اور وہاں بھی… جہاں تم رہتے ہو۔
بارش خوشی اور اداسی کو ایک ساتھ جنم دیتی ہے۔ یہ باہر کی گرمی تو کم کر دیتی ہے مگر اندر کے موسموں کو بیدار کر دیتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم بارش دیکھ رہے ہیں، حالانکہ بارش ہمیں دیکھ رہی ہوتی ہے۔ وہ ہمارے چہروں پر نہیں، ہماری خاموشیوں پر برستی ہے۔ مجھے اکثر محسوس ہوتا ہے کہ انسان صرف آگ سے نہیں جلتا، بعض اوقات یادیں بھی اسے دھیرے دھیرے جلاتی رہتی ہیں۔ اور پھر ایک دن بارش آتی ہے تو وہ آگ بجھنے کے بجائے بھاپ بن کر آنکھوں تک پہنچ جاتی ہے۔
کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ بارش میں لوگ کم بولتے ہیں؟
اس لیے کہ قدرت جب بول رہی ہو تو انسان کی زبان خاموش ہو جاتی ہے۔ بارش کے قطروں میں ایک ایسی زبان ہے جسے صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے کبھی کسی کو بے حد چاہا ہو، کسی کو بے آواز کھویا ہو، یا کسی کا انتظار برسوں تک کیا ہو۔
مجھے اب ایسا لگنے لگا ہے کہ بارش پانی نہیں، وقت کی یادداشت ہے۔ ہر قطرہ کسی گزرے ہوئے لمحے کا عکس لیے زمین پر گرتا ہے۔ اسی لیے ہر شخص ایک ہی بارش میں بھیگتا ضرور ہے، مگر ہر ایک کے اندر الگ کہانی برستی ہے۔ آج میں نے محسوس کیا کہ کچھ یادیں دھلنے کے لیے نہیں ہوتیں۔ وہ شاید انسان کے وجود کا حصہ بن جاتی ہیں، جیسے درخت کی چھال، جیسے دریا کا بہاؤ، جیسے آسمان کی وسعت۔ انہیں مٹایا نہیں جا سکتا، صرف ان کے ساتھ جینا سیکھا جا سکتا ہے۔
بارش رک جائے گی۔ بادل چھٹ جائیں گے- دھوپ پھر نکل آئے گی۔ لوگ اپنے کاموں میں مصروف ہو جائیں گے۔ سڑکیں اور گلیاں بھی خشک ہو جائیں گی۔ مگر کچھ بارشیں زمین پر نہیں، انسان کے اندر برستی ہیں۔ ان کے موسم ختم نہیں ہوتے۔ وہ زندگی بھر کہیں نہ کہیں برستی رہتی ہیں، اور شاید انہی بارشوں کا دوسرا نام محبت ہے… یا شاید فراق۔
خیر…بارش ابھی تک برس رہی ہے، اور تمہاری یاد بھی۔ اس لیے اس خط کو یہیں ختم نہیں کرتا، صرف رکھ دیتا ہوں۔ شاید کسی اگلی بارش میں اسے پھر سے کھول کر پڑھوں۔
تمہارا اپنا۔۔۔
عبداللہ


