رات کا ڈیڑھ سو سال گزر چکا ہے اور میں دو سو گھنٹوں کی مسلسل اذیت سہ کر تاثرات کے دریا عبور کررہا ہوں۔میرے سامنے ستلج میں پانی نہیں لاشیں تیرتی ہیں۔بے توقیر روندے جانے والوں کی چیخ کون سنتا ہے۔ شمشان گھاٹ میں راکھ ہوتی چِتا کا کوئی وارث نہیں ہوتا ۔جبر سے اٹا فلک چِیلوں سے بھر جاتا ہے۔گمشدہ نوجوانوں کی روحیں آبائی گھروں پر منڈلاتی ہیں۔مفادات کی بِھیڑ میں زندگی لاپتہ قہر گاہ چار سُو ۔کپال کریا کے لیے سرکاری ریکارڈ میں ” نامعلوم” شبد لکھ کر راکھ دریا بُرد کردی جاتی ہے۔انتم سنسکار کے بعد کی شام پنجاب کے مضافات میں پھیل جاتی ہے۔یمودت عزرائیل کا سفر پنجاب سے شروع ہوتا ہے اور دو دہائیوں (1975-1995) تک جاری رہتا ہے۔ہزاروں آتماوں کی کمائی کے بعد اُس کی سواری مہا کال کے دہانے سے باہر نکلتی ہے۔
دہلی سرکار نے نیلا تارہ آپریشن ( Blue Star Operation) والی غلطی دہرانے کی بجائے ایجنسیز کو پسِ پردہ رکھا ۔چہرے مہرے اور خدوخال سے پنجابی سرکاری کارندوں کو اس قتلِ عام کے لیے منتخب کیا۔اُن پولیس والوں نے خالصتانی تحریک کچلنے کے لیے ہزاروں بے گناہوں کو بھی زبح خانے میں قربان کیا۔معصوم لوگ ہاتھیوں کی لڑائی میں کُچلے جارہے تھے اور ان کے لیے آواز اُٹھانے والا کوئی نہیں تھا۔ عدم تحفظ نامی سُور فصلیں اجاڑ رہا تھا۔زندگی کا بوسہ لینے والے ہونٹ آگ میں پگھل کر دھواں دھواں ہوئے۔خالصتانیوں کی آڑ میں سکھ نوجوانوں کو عسکریت پسند قرار دے کر قتل کیا جانے لگا۔پنجاب میں انتہائی متنازع، مشکوک اور ایسے پولیس مقابلوں کا سلسلہ شروع ہوا جنھیں آزاد حلقے جعلی یا فرضی مقابلہ قرار دیتے تھے۔کانگرس کی شہ پر پولیس افسر کنور پال سنگھ گِل(KPS Gill) نے پورے پنجاب میں کرفیو لگا کر جلیانوالا کی یاد تازہ کردی۔اُس دور میں روزانہ اوسطاً 200 افراد کی لاشوں کو دریائے بیاس میں بہا دیا جاتا تھا ۔کولیکٹرل ڈیمج (Collectral Damage) کا ازالا کرنے والا کوئی نہیں تھا ۔کم پیشہ ورانہ انداز میں معاملات سے نپٹا جارہا تھا۔
گلوبل سٹار دلجیت دوسانجھ کی فلم پہلے (Panjab 95) اور نیا نام ستلج دنیا بھر میں ریلیز ہو چکی ہے سٹوری پنجاب کے شہر امرتسر میں رہنے والے ایک سوشل ایکٹیوسٹ ‘جسونت سنگھ کھالڑا‘ کے گرد گھومتی ہے جو 1995 میں زندہ اٹھا لیے گئے تھے اور پلٹ کر نہیں آئے۔ بے اعتباری کے دن تھے ۔اسٹیٹ فورسز نے (Cat Operation) کے ذریعے کھاڑکو سنگھوں کی نسل کشی کا پلان بنایا ۔جو بھی خفیہ اداروں کے اِس پلان کی راہ میں رکاوٹ بنتا اُسے ماورائے عدالت قتل کردیا جاتا۔جسونت سنگھ کھالڑا کو مانا والا تھانے میں اجیت سنگھ کھبو(تھانیدار) نے چالیس روز تک بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر گولی مار کر دریا میں پھینک دیا تھا۔اس کہانی میں دلجیت سنگھ نے انتہائی سنجیدہ کردار نبھایا ہے ۔یہ فلم جسونت کھالڑا کی بائیوپک پر مبنی ہے۔دلجیت شوخ وچنچل لبادے اوڑھ کر ظرافت سے پیش آتے ہیں مگر حالیہ فلموں(جوگی، رنگروٹ، پنجاب 1984، چمکیلا)میں ان کے گھمبیر کردار نبھانے کا برتاؤ ان کو نامور اداکاروں کی فہرست میں شامل کرتا ہے۔متنازعہ موضوعات پر فلموں میں پرفارمنس آسان نہیں ہوتی ۔ہنی ٹریہان کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم کا نتیجہ مایوس کن نہیں ہوگا ۔ بھارتی سنسر بورڈ نے اس فلم پر 120 کٹ لگا کر اسے محدود کردیا ہے ۔
جسونت سنگھ نے پنجاب پولیس کی جانب سے کیے جانے والے غیر قانونی قتل اور (Missing Person) کی تحقیقات کے لیے بھارت سمیت دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیموں کو آگاہ کیا۔اُس نے ڈری سہمی صبحوں میں اپنے لہو کی دھار سے چہکار پیدا کی۔خوف کے کھیتوں میں امید کے بیج بوئے۔ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کیں۔جب مُڑی کے دِیوے بجھ چکے تھے۔جنگل کی لکڑیوں پر مارے جانے والوں کے نام لکھے جاچکے تھے۔سرکاری جھوٹ کا مینار فلک بوس ہو چکا تھا۔نفسیاتی دباو کی بھیڑ میں جسونت کھالڑا اندھیرے کو چیلنج کرتا ہوا موت کے گھاٹ جا اترتا ہے مگر اپنے حصے کی شمع جلا کر ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتا ہے۔


