بھٹو سے بلاول تک/ محمد اسد شاہ

بے وقوفوں کی ایک نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ ہٹ دھرم ہوا کرتے ہیں – اگر آپ شام کو ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز سننے کے شائق ہیں تو آپ جانتے ہوں گے کہ شرکاء کی سوچ کس قدر بودی اور جامد ہے – ایک موضوع پر بحث ہوتی ہے ، اور ہر سیاسی جماعت کا نمائندہ ہر صورت اپنی جماعت کو بر حق ثابت کرنے پر تلا ہوتا ہے – اور اگر کہیں کسی جماعت کی غلطی یا جھوٹ سامنے آئے تو اس کا نمائندہ فوراً نہایت مکاری کے ساتھ بات کا پہلو بدل دیتا ہے ، اور میزبان بھی بات کو گھما کر اگلے سوال کی جانب چل پڑتا ہے – یہ مقفل اذہان والے لوگ ہیں کہ جن میں اتنی ہمت اور تدبر نہیں کہ درست بات کو مان لیں اور اپنی جماعت کی غلطی تسلیم کر لیں – یعنی وہ اپنے ذہنوں کو تالے لگوا کے ، چابیاں اپنے سیاسی پیشواؤں کے حوالے کر کے آتے ہیں –
بے وقوفوں کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ 2018 کے “اوپن فراڈ” کو الیکشن کہتے ہیں اور 2024 کے الیکشن کو فارم 47 – دھاندلی بری چیز ہے لیکن افسوس کہ امریکا سمیت دنیا کے ہر بڑے چھوٹے جمہوری ملک کے انتخابات میں کسی نہ کسی درجے کی دھاندلی کی شکایات سامنے آتی ہیں – حتیٰ کہ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ بھی اپنے ملک کے انتخابات میں کبھی روس ، اور کبھی چین کی مداخلت کا ذکر کرتے ہیں – بھارت میں تو انتخابی دھاندلیوں کی تاریخ بہت گھمبیر ہے – پاکستان بھی اسی دنیا کا ایک ملک ہے – پاکستان میں بھی ہر الیکشن پر اعتراضات اٹھتے ہیں – وطن عزیز میں پہلے عام انتخابات 7 دسمبر 1970 کو منعقد ہوئے – شیخ مجیب الرحمٰن کی پارٹی بہت بڑی اور واضح اکثریت سے جیت گئی ، لیکن ہر صورت اقتدار کے خواہش مند ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی نے نتائج کو تسلیم نہیں کیا – آخر کار ملک ٹوٹ گیا اور وزیرِ اعظم ہاؤس ذوالفقار علی بھٹو کو مل گیا – ملک ٹوٹنے کے ذمہ داران کا تعین ایک الگ بحث ہے – اس کے بعد 7 مارچ 1977 ، 25 فروری 1985 ، 16 نومبر 1988 ، 24 اکتوبر 1990 ، 6 اکتوبر 1993 ، 3 فروری 1997 ، 10 اکتوبر 2002 ، 18 فروری 2008 ،11 مئی 2013 ، 25 جولائی 2018 اور 8 فروری 2024 کو عام انتخابات ہوئے – ہر الیکشن پر چھوٹے موٹے اعتراضات ہوئے لیکن سب سے بڑی ، طویل ، ہمہ گیر اور منظم ترین دھاندلی جس کا علم پوری قوم کو ہے ، وہ 2018 کے انتخابات کے نام سے کی گئی – یہ دھاندلی ایک دن کا کام نہیں تھا ، بل کہ یہ “دھاندلا” کم از کم 8 سال تک جاری رہا ، جس کا آغاز اوائل 2010 میں ہوا اور جس کا مطلوبہ نتیجہ 25 جولائی 2018 کو سامنے لایا گیا – اس “پراجیکٹ” پر کام کرنے والوں میں تب کے بڑے بڑے طاقت ور افراد کے نام لیے جاتے ہیں – صرف ایک سیاسی جماعت یعنی مسلم لیگ نواز کو باقاعدہ زیرِ عتاب ٹھہرایا گیا – یہ جماعت 2013 کے انتخابات بہت واضح اکثریت سے جیت کر حکومت میں آ گئی ، لیکن اس کے خلاف کام جاری رکھا گیا ، ہزاروں ٹی وی ٹاک شوز کروائے گئے ، اخبارات میں کالمز لکھوائے گئے ، سکولز ، کالجز اور یونیورسٹیز تک میں کام کیا گیا ، سوشل میڈیا بریگیڈز تیار کی گئیں ، صنعت کاروں اور جاگیر داروں کو استعمال کیا گیا ، جہازوں اور ہیلی کاپٹرز سے جھنڈیاں اور پرچیاں لہرائی گئیں ، اہم ترین سطح سے پریس کانفرنسز کی گئیں ، منتخب وزیرِ اعظم کے احکامات کی کھلم کھلا توہین کی گئی ، فائلیں تیار کر کے زیر عتاب جماعت کے لوگوں کو ایک کلٹ میں شمولیت پر مجبور کیا گیا ، طویل دھرنے دلوائے گئے ، پارلیمنٹ اور عدلیہ پر مسلح غنڈوں نے حملے کیے ، بجلی اور گیس کے بل جلوائے گئے ، سول نافرمانی کے نعرے لگوائے گئے ، دوسرے ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں سے کہا گیا کہ وہ ترسیلات زر بند کر دیں ، زیر عتاب جماعت کے قائدین کو کسی ثبوت کے بغیر چور اور مجرم کہا گیا ، دوسری طرف ٹھوس ثبوتوں کو بلاجواز مسترد کر کے لاڈلوں کو صادق اور امین کہہ دیا گیا ، کالے دھن کا اندھا دھند استعمال کیا گیا ، دو نئی مذہبی سیاسی جماعتیں تخلیق کی گئیں اور ان کے ذریعے پہلے تو منتخب حکومت کے خلاف اشتعال انگیز دھرنے دلوائے گئے اور پھر ان دونو کو زیر عتاب جماعت کا ووٹ بینک توڑنے کے لیے باقاعدہ انتخابی میدان میں بھی اتارا گیا – الیکشن فراڈ سے قبل “لاڈلے” کی فرمائش پر زیر عتاب جماعت کے تمام سیاسی قائدین اور ان کی بہنوں ، بیٹیوں اور بیویوں تک کو دھڑا دھڑ سزائیں سنا کر جیلوں میں بند کر دیا گیا – پھر الیکشن 2018 کا اعلان کیا گیا – زیر عتاب جماعت کے رہے سہے امیدواران میں سے تقریباً 64 مضبوط ترین لوگوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ پارٹی ٹکٹ واپس کر کے آزاد امیدوار بنیں – الیکشن کی شام آر ٹی ایس کو جام کر دیا گیا اور نتائج کسی نامعلوم طریقے سے تیار کیے گئے – زیر عتاب جماعت کے جن لوگوں کو زبردستی آزاد امیدوار بنوایا گیا تھا ، ان میں سے جیتنے والوں کو لاڈلے کے کلٹ میں شامل کروا دیا گیا – پھر بھی ارکان پورے نہ ہوئے تو ایک امیر ترین کا جہاز ملک بھر میں اڑانیں بھرنے لگا اور کسی نہ کسی طرح بندے پورے کر کے ، اور پورے ملک کے سیاسی ، معاشی ، معاشرتی اور اخلاقی نظام کا بھٹہ بٹھا کر لاڈلے کو وزیراعظم ہاؤس میں بٹھایا گیا ——— یقین کیجیے کہ اس طرح سے وزیر اعظم بننے والے شخص کے عشاق موجودہ حکومت کو فارم 47 کی حکومت اور غیر منتخب کہتے ہیں – بے وقوفوں کے سروں پر سینگ نہیں ہوتے ، بس ان کی نشانیاں ہوتی ہیں –
دوسری جانب ، اس طویل ترین کھلم کھلا “دھاندلے” کا شکار مسلم لیگ نواز تھی – داد دیجیے مسلم لیگ نواز کو ، کہ انھوں نے ملک کے امن کو تہہ و بالا کرنے کی بجائے ان جعلی نتائج کو بھی تسلیم کر لیا اور سیاسی جد وجہد کو سڑکوں پر لانے کی بجائے ، عدالتی اور پارلیمانی راستوں میں جاری رکھا –
آج کل مسلم لیگ نواز پھر سے اقتدار میں ہے – چند ماہ قبل گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات ہوئے – صرف 4 نشستوں کے فرق سے پیپلز پارٹی جیت گئی تو مسلم لیگ نواز کے قائدین نے خود فون کر کے پیپلز پارٹی کے لیڈرز کو مبارک باد دی اور حکومت بنانے میں بھی مکمل تعاون کیا – پھر حالیہ دنوں میں آزاد کشمیر میں الیکشن ہوئے جہاں اسی پیپلز پارٹی کی حکومت ہے – مسلم لیگ نواز بھاری اکثریت سے الیکشن جیت رہی ہے تو پیپلز پارٹی کے لیڈرز اپنی ہی حکومت کے تحت انتخابات میں اپنی شکست کو تسلیم کرنے کی بجائے گلیوں گلیوں دھاڑیں مار کر روتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے – یقین کیجیے کہ واحد جماعت مسلم لیگ نواز ہے جو ہر الیکشن نتائج کو ہمیشہ خندہ پیشانی کے ساتھ تسلیم کرتی ہے – ورنہ ذوالفقار علی بھٹو سے عمران اور بلاول تک ، کبھی کسی نے الیکشن میں دوسروں کی کامیابی کو تسلیم نہیں کیا –

اپنا تبصرہ لکھیں