مکہ المکرمہ دفاعی معاہدہ : مسلم اتحاد کا نیا باب یا فرقہ وارانہ تقسیم کا خطرہ؟-شیر علی انجم

مکہ المکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے مشترکہ تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کرکے دفاعی اتحاد کا اعلان کیا ہے۔ جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ مسلم دنیا میں پہلی بار اس قسم کا بڑا عسکری اتحاد ہے جو مشترکہ دفاع، علاقائی استحکام اور خودمختاری کی طرف ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔اس معاہدے کی بنیاد پر کہا جا رہا ہے کہ یہ نیٹو طرز کا ایک علاقائی دفاعی ڈھانچہ بن سکتا ہے جس میں مستقبل میں دیگر خلیجی ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ یقینا سعودی عرب توانائی کے وسائل اور سیاسی اثر و رسوخ، ترکی جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور پاکستان ایٹمی صلاحیت کے ساتھ تجربہ کار فوج کی صلاحیت کے ساتھ مسلم دنیا کا پہلا ایٹمی ملک ہے۔ یہ امتزاج خطے میں طاقت کے نئے توازن کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔تاہم اس تاریخی معاہدے میں ایران کی عدم شمولیت نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں کیونکہ اس اہم معاہدے میں مستقبل قریب میں ایران کی شمولیت کا کوئی واضح روڈ میپ بھی سامنے نہیں آیا۔ حالانکہ خطے میں مکمل استحکام کے لیے ایران کا کردار اور شمولیت اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف تمام بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود ڈٹ کر مقابلہ کرکے عالمی استکباری قوتوں پر واضح کردیا ہے کہ ایران ایک ناقابل تسخیر مسلم ملک ہے جسے کسی بھی طرح طاقت کے بول بولتے پر زیر نہیں کرسکتے۔ آج ن ایران ے ایک طرح سے عالمی معشیت کو ابنائے ہرمز پر کنٹرول کی شکل میں اس قدر مجبور کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے حوالے سے روز بیانات بدل کربے نقاب ہورہا ہے۔ لہذا مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور امریکہ موجودگی ختم کرنے کیلئے ایران کا مزاحمت دراصل پورے خلیج کی آذادی کا سبب بنے گا۔ لیکن بدقسمتی سے مسلم اُمہ آج بھی تقسیم نظر آتا ہے جو کہ امریکہ کی خواہش اور گریٹر اسرائیل کا خواب ہے۔ سنیئر صحافی حامد میر کے مطابق ایران آج چین اور امریکہ کے بعد خود کو تیسری عالمی قوت کے طور پر منوا چکا ہے۔ یقینا مکہ معاہدہ اگر ایران کے بغیر آگے بڑھا تو یہ فرقہ وارانہ سوچ کو فروغ دے سکتا ہے جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے۔
دوسرا اہم سوال خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کا ہے۔ اس وقت خلیج میں بیس امریکی اڈے اور تقریباً چالیس ہزار امریکی فوجی موجود ہیں جن کا بنیادی مقصد دفاع بتایا گیا تھا لیکن انہی اڈوں کو ایران پر حملوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ ایران کا موقف واضح ہے کہ وہ کسی مسلمان ملک کے خلاف نہیں بلکہ ان اڈوں پر حملہ کرتا ہے جہاں سے ایران پر حملے ہوتے ہیں اور امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کی حفاظت کر رہے ہیں۔ مسلم امہ کو اصل خطرہ امریکہ اور اسرائیل کی مشرق وسطیٰ میں موجودگی اور گریٹر اسرائیل کے مشن سے ہے۔اس پس منظر میں مکہ معاہدہ اگر صحیح سمت میں آگے بڑھے تو امریکہ کی خطے میں فوجی موجودگی کمزور پڑ سکتی ہے اور علاقائی ممالک اپنی سیکیورٹی خود سنبھال سکتے ہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ اتحاد امریکی مخالف نہیں کیونکہ تینوں ممالک کے امریکہ سے تعلقات بہتر ہیں لیکن یہ خودمختاری کی طرف ایک مثبت اشارہ ضرور ہے البتہ مسلم اُمہ کی اتحاد اس وقت اس معاہدہ کے منشور میں شامل ہونا چاہئے تھا۔اس صورتحال میں پاکستان کی ذمہ داری یہاں خاص طور پر بڑھ جاتی ہے۔ اور اُس دور کی یاد دلاتی ہے جب شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قائدانہ کوششوں اور شہید شاہ فیصل آل سعود کے مالی تعاون اور سرپرستی میں اسلامی کانفرنس کی تنظیم کا دوسرا اجلاس لاہور میں منعقد ہوا تھا جس کا مقصد مسلم اتحاد اور مسلمانوں کا الگ ورلڈ بنک بنانے جیسے سوچ سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ مسلمان بیدار و متحد ہونگے اور عالم اسلام مغربی سامراج اور اسکی باقیات سے آزاد ہو جائیگا۔ بیسویں صدی عیسوی کا نصف آخر اسلامی دنیا کی نئی کروٹ لینے کا زمانہ ہے۔ لیکن افسوس یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے۔لہذا اسی روایت کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو اس معاہدے میں ایران کی شمولیت کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ فرقہ وارانہ تقسیم سے بچا جا سکے اور حقیقی مسلم اتحاد وجود میں آئے۔یہ معاہدہ صرف عسکری نہیں بلکہ اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو بھی مضبوط کر سکتا ہے۔ اگر دیگر مسلم ممالک جیسے مصر، کویت، قطر اور بالآخر ایران بھی اس میں شامل ہو جائیں تو یہ اتحاد عالمی سطح پر ایک نئی طاقت بن سکتا ہے۔ تاہم اس کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ یہ کسی کے خلاف نہیں بلکہ مشترکہ دفاع اور علاقائی امن کے لیے ہو۔مکہ کا یہ معاہدہ مسلم دنیا کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اپنی تقدیر خود لکھیں۔ اگر فرقہ وارانہ سوچ اور بیرونی طاقتوں کے اثرات سے بالاتر ہو کر آگے بڑھا جائے تو یہ خطے میں امن اور استحکام کا ضامن بن سکتا ہے۔ ورنہ یہ ایک اور نامکمل کوشش بن کر رہ جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں