صبح ابھی پوری طرح صبح نہیں ہوئی تھی۔ پردے کے پیچھے روشنی کسی بیمار دودھ کی طرح جمع ہو رہی تھی اور چائے کے کپ سے اٹھتی بھاپ میں مجھے اپنا چہرہ کچھ دیر کے لیے ایسا دکھائی دیا جیسے آدمی نہیں، کسی پرانی تصویر کا دھبہ ہوں۔ موبائل میز پر الٹا پڑا تھا، سیاہ، خاموش، بظاہر مردہ، مگر میں جانتا تھا کہ اس کے اندر ایک شہر جاگ رہا ہے، گلیاں، کوچے، تقریریں، تعزیتیں، انقلابات، ناشتے، کتابیں، بلیاں، شہادتیں، سالگرہیں، طلاقیں، شاعری، جنگیں، اور سب سے بڑھ کر لوگ، لوگ، لوگ، جو ایک دوسرے کو دیکھنے سے زیادہ یہ دیکھنے میں مصروف تھے کہ انہیں کون دیکھ رہا ہے۔ میں نے فون اٹھایا۔ انگلی نے پاس ورڈ چھوا۔ شہر کا دروازہ کھل گیا۔
سب سے اوپر حضرت تھے۔
حضرت نے لکھا تھا: ’’آج موسم کچھ اداس ہے۔‘‘
آٹھ الفاظ، اگر ’’ہے‘‘ کو بھی مستقل شہری مان لیا جائے، اور ان آٹھ الفاظ کے نیچے چار سو سے زیادہ لوگ پہلے ہی اداسی کی قومی اسمبلی منعقد کر چکے تھے۔ ایک نے لکھا، ’’سر، آپ نے ہمارے عہد کی روح کھول کر رکھ دی۔‘‘ دوسرا بولا، ’’کتنی گہری بات!‘‘ تیسرے نے غالب کو گھسیٹ لیا، چوتھے نے فیض کو، پانچویں نے کامیو کو، حالاں کہ کامیو اس صبح غالباً الجزائر یا پیرس میں اپنے کسی قبرستانی سکون میں تھا اور اسے خبر بھی نہ تھی کہ جنوبی ایشیا کے ایک فیس بک اکاؤنٹ پر موسم کی اداسی میں اس کا فلسفہ برآمد ہو چکا ہے۔ ایک مستقل مرید تھا جو ہر پوسٹ کے نیچے صرف ’’کمال سر‘‘ لکھتا تھا۔ میں اسے برسوں سے دیکھ رہا تھا۔ حضرت اگر لکھیں کہ آج دانت میں درد ہے، وہ کہے گا کمال سر۔ حضرت کی بلی مر جائے، کمال سر۔ حکومت گر جائے، کمال سر۔ خود حضرت مر جائیں اور کسی معجزے سے اپنی وفات کی خبر پوسٹ کر جائیں تو بھی شاید قبر کے کنارے ایک نوٹیفکیشن روشن ہو: کمال سر۔
میں نے چائے کا گھونٹ لیا۔ چائے گرم تھی، پوسٹ ٹھنڈی، عقیدت کھولتی ہوئی۔ نیچے سرخ دل چمک رہے تھے۔ سرخ دل، سرخ دل، نیلے انگوٹھے، ہنستا چہرہ، روتا چہرہ، اور انسانی جذبات کا پورا میلہ چھ چھ آئیکن میں بند۔ کبھی انسان نے محبت کے لیے غزل لکھی تھی، اب ایک انگوٹھا کافی تھا۔ کبھی نفرت کے لیے جنگ ہوتی تھی، اب بلاک۔ کبھی جلاوطنی کے فرمان جاری ہوتے تھے، اب Remove Friend۔ تہذیب ترقی کر گئی تھی، قتل کے بجائے visibility کم کر دیتی تھی۔
حضرت کا چہرہ پروفائل تصویر میں قدرے ترچھا تھا۔ شاید دانش ہمیشہ ہلکے زاویے سے بہتر نظر آتی ہے۔ داڑھی میں سفیدی، آنکھوں میں دور دیکھنے والی سنجیدگی، پیچھے کتابوں کی الماری۔ کتابیں ضروری تھیں۔ اگر دانش ور کی تصویر کے پیچھے کتابیں نہ ہوں تو آدمی کو کیسے یقین آئے کہ سامنے والا سوچتا بھی ہے؟ میں نے کبھی غور کیا تھا کہ الماری میں ایک ہی کتاب کئی برسوں سے اسی جگہ کھڑی تھی۔ ممکن ہے وہ بھی حضرت کو فالو کرتی ہو۔
پوسٹ نیچے گئی، ایک اور اوپر آ گئی۔ جمہوریت۔ پھر آمریت۔ پھر ایک ویڈیو: ’’ہمیں اختلاف کی تہذیب سیکھنا ہوگی۔‘‘ حضرت کی آواز میں وہ وقار تھا جو عموماً ایسے آدمی کے پاس آ جاتا ہے جسے یقین ہو کہ مائیک اس کے پاس ہے اور اختلاف باقی لوگوں کے پاس۔ وہ کہہ رہے تھے کہ سوال زندہ معاشرے کی علامت ہے، کہ طاقت سوال سے ڈرتی ہے، کہ جو شخص مخالف آواز برداشت نہیں کرتا وہ اندر سے کمزور ہوتا ہے۔ میں سنتا رہا اور مجھے ایک خفیف سی خارش دماغ کے کسی کونے میں محسوس ہوئی۔ سوال؟ اختلاف؟ برداشت؟ اندر سے کمزور؟ شاید آج۔ شاید آج ہی وہ دن تھا جب ایک مرید اپنی مالا کے دانے روک کر پوچھے کہ حضرت، خانقاہ میں کھڑکیاں کیوں نہیں؟
میں نے کمنٹ باکس کھولا۔ سفید مستطیل۔ چھوٹا سا خالی میدان۔ Write a comment۔ لکھو۔ لکھو اگر ہمت ہے۔ میں نے ٹائپ کیا: ’’اختلاف واقعی جمہوریت کی روح ہے، لیکن کیا ہم اس اصول کو اپنی ذاتی فکری محفلوں اور ٹائم لائنوں پر بھی نافذ کرتے ہیں؟ اکثر ہم ریاست سے برداشت مانگتے ہیں، مگر اپنے حلقے میں معمولی اختلاف سے بھی پریشان ہو جاتے ہیں۔‘‘
پڑھا۔ نرم۔ مہذب۔ صاف۔ کوئی خنجر نہیں۔ کوئی گالی نہیں۔ صرف ایک سوئی، وہ بھی روئی میں لپٹی ہوئی۔ پوسٹ۔
کمنٹ نمودار ہوا۔
میرا نام۔ میری تصویر۔ میرے الفاظ۔
میں موجود تھا۔
پھر میں چائے بنانے اٹھ گیا۔
باورچی خانے میں پانی کی آواز، چمچ، چینی، دودھ، اور دماغ کے اندر ایک نہایت شرمناک امید کہ واپس جاؤں گا تو حضرت نے جواب دیا ہوگا۔ شاید لکھا ہوگا، ’’اچھا سوال۔‘‘ دو الفاظ۔ اچھا سوال۔ بس۔ آٹھ برس کے مرید کو دو الفاظ مل جائیں تو آدمی انہیں وصیت میں لکھوا سکتا ہے۔ شاید انگوٹھا ہی لگا دیا ہو۔ نیلا انگوٹھا۔ نیلی خلعت۔ دیجٹل دستار بندی۔
واپس آیا۔
سرخ نشان۔
Notification.
دل نے پہلے پڑھ لیا، آنکھ نے بعد میں۔
میں نے کھولا۔
کمنٹ نہیں تھا۔
پوسٹ تھی، حضرت تھے، جمہوریت تھی، اختلاف تھا، روح تھی، مگر میرا سوال نہیں تھا۔
میں نے دوبارہ دیکھا۔ شاید الگورتھم۔ الگورتھم بڑی پراسرار شے ہے، ہمارے عہد کا وہ جن جس پر ہر گمشدہ چیز کا الزام لگایا جا سکتا ہے۔ محبت کم ہوئی؟ الگورتھم۔ کتاب نہ بکی؟ الگورتھم۔ انقلاب نہ آیا؟ الگورتھم۔ کمنٹ غائب؟ الگورتھم۔ میں نے دوبارہ نیچے جانا چاہا۔
“You can no longer comment on this post.”
آہا۔
میں کرسی پر پیچھے ہوا۔
جمہوریت روح تھی۔
اسی لیے جسم نہیں رکھتی تھی۔
ہنسی آئی۔ پھر غصہ۔ پھر اپنے غصے پر غصہ۔ کیوں؟ تمہیں کیا چاہیے تھا؟ دلیل؟ جواب؟ یا یہ کہ حضرت دیکھ لیں کہ تم بھی موجود ہو؟ آٹھ برس سے تم کس چیز کے منتظر تھے، سچ کے یا نظرِ کرم کے؟ تم نے ان کی پوسٹیں کیوں شیئر کیں؟ کیونکہ درست تھیں؟ شاید۔ کیونکہ ان کا نام بڑا تھا؟ شاید۔ کیونکہ ان کے لائک سے تمہارے اندر کوئی چھوٹی سی گھنٹی بجتی؟ ہاں۔ ہاں صاحب۔ یہی ہے۔ پکڑے گئے۔ اندر بیٹھا شودر برہمن کے دروازے پر بیٹھا رہا اور باہر دنیا کو مساوات پڑھاتا رہا۔
فیس بک، اے عظیم آئینہ جس میں آدمی اپنا چہرہ کم اور اپنی خواہش زیادہ دیکھتا ہے، تو نے ذات پات ختم نہیں کی، صرف اسے گنا جا سکنے والا بنا دیا۔ وہاں برہمن کے پاس نسب تھا، یہاں followers۔ وہاں زنار، یہاں blue tick۔ وہاں مندر کے اندر اور باہر کی حد تھی، یہاں public اور restricted profile۔ وہاں شودر کا سایہ ناپاک، یہاں اس کا comment irrelevant۔ وہاں دربار میں حاضری، یہاں engagement۔ وہاں زمینوں کی جاگیر، یہاں reach۔ اور سب سے خوبصورت بات یہ کہ یہاں کوئی خود کو برہمن نہیں کہتا۔ سب democrat۔ سب egalitarian۔ سب dialogue کے عاشق۔ بس dialogue میں دوسرا آدمی بولے نہ۔
میں نے حضرت کی پرانی پوسٹیں کھولیں۔ آمریت مردہ باد۔ طاقت کا احتساب۔ اختلاف کی آزادی۔ شخصیت پرستی کی مذمت۔ میں اسکرول کرتا گیا اور ہر پوسٹ اپنے نیچے بیٹھے مریدوں کے ساتھ ایک چھوٹی سی مسجد، خانقاہ، پارلیمنٹ، عدالت بنتی گئی، مگر ہر جگہ کرسی ایک ہی تھی۔ باقی سب فرش۔
شام کو ادبی تقریب تھی۔ حضرت وہاں موجود تھے۔ اصلی حضرت۔ گوشت پوست والے۔ تھکتے، پسینہ پونچھتے، پانی پیتے۔ انہوں نے ایک بوڑھے استاد کو دیکھ کر اٹھ کر سلام کیا۔ ایک نوجوان شاعر کی کتاب لی، دستخط کیے، چوکیدار سے ہاتھ ملایا۔ میں حیران ہوا۔ یہ تو اچھے آدمی لگ رہے تھے۔ تو پھر فون کے اندر کون تھا؟ شاید انسان کے کئی اوتار ہوتے ہیں۔ گھر میں ایک، دفتر میں ایک، محبوب کے سامنے ایک، دشمن کے سامنے ایک، اور فیس بک پر وہ جسے اعداد غذا دیتے ہیں۔ 184,327۔ ہر صبح ایک عدد، ہر رات ایک عدد، بڑھا تو خوشی، گھٹا تو اداسی، اور درمیان میں نظریات، فلسفے، عوام، انقلاب۔
حضرت اسٹیج پر کہہ رہے تھے، ’’طاقت ہمیشہ خود کو مرکز سمجھتی ہے۔‘‘
میں نے ان کی گردن دیکھی۔
پھر اپنی۔
کیا میری گردن بھی اتنی ہی سیدھی ہے جب کوئی میری تحریر پر اختلاف کرتا ہے؟ کیا میں بھی جواب دینے سے پہلے پروفائل کھول کر دیکھتا ہوں کہ سامنے والا کون ہے؟ کتنے فالورز؟ کیا کام؟ کوئی حیثیت؟ کیا میں بھی بڑے نام کے اعتراض کو ’’اہم نکتہ‘‘ اور عام آدمی کے اعتراض کو ’’فضول بحث‘‘ کہتا ہوں؟ سوال اچانک حضرت سے اٹھ کر میری کرسی پر آ بیٹھا۔
رات میں واپس آیا تو نیند نہیں تھی۔ میں نے فون کھولا۔ حضرت کے 184,327 فالورز۔ عدد صاف، چمکتا، جیسے کسی بادشاہت کی مردم شماری۔ Following پر انگلی۔ Unfollow۔
ذرا ٹھہرو۔
آٹھ سال۔
آٹھ سال کیا ہوتے ہیں فیس بک پر؟ سینکڑوں birthdays، ہزاروں posts، چند حکومتیں، کئی اموات، کئی ان فرینڈنگز، کچھ دوبارہ دوستی، اور لاکھوں ایسے الفاظ جو ہم نے اس یقین سے لکھے کہ دنیا بدل رہی ہے، حالاں کہ دنیا شاید اس وقت بس اسکرول کر رہی تھی۔
Unfollow۔
کلک۔
184,326۔
میں مسکرایا۔ تو میں بھی ایک عدد تھا۔
Refresh۔
184,327۔
نیا مرید آ گیا۔
بہت خوب۔
خانقاہ خالی نہیں رہتی۔ ایک جاتا ہے، ایک آتا ہے۔ پیر رہتا ہے، مرید بدلتے ہیں، الگورتھم اذان دیتا رہتا ہے۔
میں نے فون رکھنے ہی والا تھا کہ اپنی پوسٹ پر نوٹیفکیشن آیا۔
ایک شخص نے لکھا تھا: ’’سر، آپ کی تحریر ہمیشہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ کمال!‘‘
انگلی بے اختیار نیلے انگوٹھے کی طرف گئی۔
ٹھہرو۔
مت۔
کیوں؟
کیونکہ ابھی ابھی تم نے ایک خانقاہ چھوڑی ہے۔
تو؟
کیا اپنی خانقاہ بند بھی کرو گے؟
انگلی چند لمحے ہوا میں رہی۔ پھر میں نے Like دبا دیا۔
نیلا انگوٹھا روشن ہوا۔
دل کو اچھا لگا۔
باہر رات مکمل ہو چکی تھی، مگر اسکرین کے اندر صبح، شام، موسم، انقلاب، ماتم، محبت اور دانش سب ایک ہی نیلی روشنی میں جگمگا رہے تھے۔ میں نے فون الٹا رکھ دیا۔ کچھ دیر بعد پھر سیدھا کر دیا۔ ایک نیا نوٹیفکیشن آیا تھا۔
آخر کراماً کاتبین بھی شاید کبھی کبھی اپنا رجسٹر دیکھ لیتے ہوں گے۔


