مناب کی بچیوں کے ایک سو ساٹھ لاشے مغرب سے آئی گوری چیلوں نے نوچ لیے ہیں
زمین پر محبت کی آخری نظم نے دم توڑ دیا ہے
جسے فلسطینیوں کے لہو سے کفنا کر غزہ کے کھنڈرات میں دفنایا جا چکا ہے
مغرب سے سیاہ کوٹ اور پتلون پہنے ہوے بیل نمودار ہوے ہیں
جو دن میں تہذیب کے معبد تعمیر کرتے ہیں
اور راتوں میں گڑھے کھودتے ہیں
جن میں انسانیت دھنستی جا رہی ہے
عزازیل نے
آدم کے لیے نئے فرمان لکھے ہیں
یزداں اب انسانوں کا معبود نہیں رہا
نیل اور فراط کی مقدس خشکیوں کے بیچ صیہون کا پرچم لہرا رہا ہے
جسے بارش کے پانی گیلا نہیں کرتے
نہ دھوپ رنگ اڑاتی ہے
زیتون پر کانٹے اگتے ہیں
فاختائیں جسم نوچنے لگی ہیں
کرہ ارض اسرائیل کے ایک قبرستان میں سمٹ گیا ہے
آل یعقوب کے بگڑے ہوے ذہین لونڈے
دھرتی کے خدا بن گئے ہیں


