کیا ہم واقعی وہیں کھڑے ہیں؟ پاکستان کی سیاسی تاریخ اور ’’دائرے میں سفر‘‘ کا مغالطہ(1)-محمد عامر حسینی

’’یہ کیسا جدوجہد کا سفر ہے جو گول گول گھوم رہا ہے؟‘‘

یہ سوال محض ایک سیاسی تبصرہ نہیں، ایک نسل کی تھکن بھی ہے۔ اس میں ان لوگوں کی مایوسی شامل ہے جنہوں نے آمریت دیکھی، مزاحمت دیکھی، جیلیں دیکھیں، کوڑے دیکھے، وعدے سنے، انتخابات ہوتے دیکھے، منتخب حکومتیں گرتے دیکھیں، پھر فوجی اقتدار لوٹتے دیکھا اور پھر جمہوریت کے نام پر انہی سیاسی اشرافیہ کو اقتدار میں آتے دیکھا جن سے کبھی امیدیں وابستہ کی گئی تھیں۔ اس تجربے کے بعد یہ نتیجہ نکالنا بظاہر فطری معلوم ہوتا ہے کہ شاید سب کچھ وہیں کا وہیں ہے؛ صرف کردار بدلتے ہیں، ریاست نہیں بدلتی، نظام نہیں بدلتا، طاقت کے مراکز نہیں بدلتے اور قربانی ہمیشہ وہی غریب، طالب علم، مزدور، صحافی اور متوسط طبقے کا کارکن دیتا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ انسانی تجربے کی یہ مایوسی جب تاریخی تجزیے کا قائم مقام بن جاتی ہے تو وہ ہمیں ایک خطرناک فکری سادہ کاری کی طرف لے جاتی ہے۔ ہم تاریخ کو صرف اس سوال سے ناپنے لگتے ہیں کہ ’’کیا انقلاب آیا؟‘‘ اگر جواب نفی میں ہو تو ہم پورے سیاسی عمل کو ناکام قرار دے دیتے ہیں۔ اگر جدوجہد کرنے والے اقتدار میں نہ آئیں تو ان کی جدوجہد رائیگاں سمجھ لی جاتی ہے۔ اگر ایک منتخب حکومت بھی جبر کرے تو آمریت اور جمہوریت کے درمیان فرق بے معنی تصور ہونے لگتا ہے۔ اور اگر فوجی مداخلت کسی نئے قالب میں واپس آجائے تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم پھر اسی مقام پر کھڑے ہیں جہاں پچاس یا ساٹھ برس پہلے تھے۔

لیکن کیا تاریخ واقعی ایسے کام کرتی ہے؟

سماجی علوم میں کسی سیاسی یا سماجی تحریک کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ اس نے اقتدار پر قبضہ کیا یا نہیں۔ تحریکیں بہت سی سطحوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ بعض حکومت بدل دیتی ہیں، بعض قانون بدل دیتی ہیں، بعض ریاست کو اپنے اختیارات محدود کرنے پر مجبور کرتی ہیں، بعض ایسی زبان پیدا کرتی ہیں جس میں پہلے کسی حق کا تصور تک موجود نہیں ہوتا، بعض ایک نئی سیاسی نسل پیدا کرتی ہیں اور بعض بظاہر شکست کھانے کے باوجود آنے والی نسلوں کے لیے ایسی یادداشت چھوڑ جاتی ہیں جو بعد کی تحریکوں کا سرمایہ بن جاتی ہے۔

اسی لیے ’’ناکام انقلاب‘‘ اور ’’ناکام جدوجہد‘‘ کو ایک ہی چیز سمجھنا درست نہیں۔

اگر ہم پاکستان کی تاریخ پر سرسری نظر ڈالیں تو تضادات فوراً سامنے آنے لگتے ہیں۔ ایک طرف یہ حقیقت ہے کہ فوج نے بار بار براہ راست یا بالواسطہ سیاسی اقتدار میں مداخلت کی؛ بیوروکریسی، عدلیہ اور طاقتور معاشی طبقات نے کئی مواقع پر اس مداخلت کو سہارا دیا؛ سیاسی جماعتوں میں شخصی اور خاندانی غلبہ برقرار رہا؛ مزدور اور کسان تنظیمیں کمزور ہوئیں؛ طلبہ یونینوں پر قدغنیں لگیں؛ بلوچستان، سابق فاٹا، سندھ اور دوسرے علاقوں میں ریاستی جبر کے مختلف تجربات سامنے آئے؛ صحافیوں، سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو مختلف ادوار میں دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

لیکن دوسری طرف اگر یہ کہا جائے کہ کچھ بھی نہیں بدلا تو یہ بھی تاریخی حقیقت سے انکار ہوگا۔

1947ء میں پاکستان ایک ایسا ملک تھا جس میں ایک متفقہ آئین موجود نہیں تھا۔ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر پورے ملک میں عام انتخابات کا تجربہ موجود نہ تھا۔ مرکز اور صوبوں کے درمیان تعلقات غیر واضح تھے۔ عورتوں کی سیاسی نمائندگی انتہائی محدود تھی۔ انسانی حقوق کے بارے میں موجودہ institutional vocabulary تقریباً مفقود تھی۔ ریاستی اختیار کے خلاف شہری حقوق کی وہ منظم قانونی اور سیاسی زبان موجود نہ تھی جو بعد کی دہائیوں میں پیدا ہوئی۔ آج ان تمام شعبوں میں گہری خامیاں، پسپائیاں اور تضادات اپنی جگہ، مگر یہ کہنا ممکن نہیں کہ پاکستان 2026ء میں سیاسی اور سماجی طور پر عین وہی ملک ہے جو 1958ء یا 1977ء میں تھا۔

یہیں ایک اہم فکری مغالطہ پیدا ہوتا ہے: ہم تاریخ کو صرف ’’اقتدار کس کے پاس ہے؟‘‘ کے سوال سے ناپتے ہیں۔

حالاں کہ اقتدار صرف حکومت نہیں ہوتا۔ اقتدار قانون میں بھی ہوتا ہے، آئین میں بھی، سماجی تصور میں بھی، زبان میں بھی اور ان توقعات میں بھی جنہیں عوام ریاست سے وابستہ کرتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب مارشل لا کے نفاذ کو ریاستی نظم کی تقریباً فطری توسیع سمجھا جاتا تھا۔ بعد میں فوجی حکومتوں نے بھی خود کو مستقل فوجی نظام کے طور پر نہیں بلکہ بالآخر انتخابی legitimacy کے ذریعے قابل قبول بنانے کی کوشش کی۔ یہ تبدیلی خود اس بات کی علامت ہے کہ جمہوریت محض ایک حکومتی طریقہ نہیں رہی بلکہ سیاسی legitimacy کا ایسا معیار بن گئی جسے آمر بھی مکمل طور پر نظر انداز نہیں کرسکتے۔

اس تبدیلی کے پیچھے کون ہے؟

صرف سیاسی اشرافیہ؟

یا وہ ہزاروں کارکن بھی جنہوں نے مختلف ادوار میں گرفتاری، تشدد، بے روزگاری، جلاوطنی اور سماجی تنہائی برداشت کی؟

یہ سوال تاریخ کو ایک دوسرے رخ سے دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔

کسی جدوجہد کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ وہ چیز ناممکن بنا دے جو پہلے آسانی سے ممکن تھی۔ اگر ایک معاشرہ ہر آمریت کے بعد زیادہ شدید سیاسی ردعمل پیدا کرتا ہے، اگر ہر نسل ریاستی جبر کے لیے نئی زبان میں جواب طلب کرتی ہے، اگر صوبائی خودمختاری، بنیادی حقوق، عورتوں کی نمائندگی، اظہارِ رائے اور آئینی حکومت اب عوامی سیاست کے مستقل موضوعات ہیں تو یہ سب محض اشرافیہ کے تحفے نہیں ہوسکتے۔ یہ مسلسل سیاسی تنازعات اور سماجی تحریکوں کا حاصل بھی ہیں۔

یہاں ایک اور اہم سوال اٹھتا ہے: کیا ہم سیاسی کامیابی کو غلط پیمانے سے ناپ رہے ہیں؟

فرض کیجیے ایک طالب علم تحریک مارشل لا ختم نہیں کراسکی، لیکن اس نے ہزاروں نوجوانوں کو سیاست میں داخل کیا۔ ایک مزدور تحریک صنعتوں پر کارکنوں کا مکمل کنٹرول نہ لاسکی، مگر اجرت، کام کے اوقات اور یونین کے حق کو عوامی سوال بنا گئی۔ عورتوں کی ایک تحریک پدرشاہی ختم نہ کرسکی، مگر ایسے قوانین اور ایسی زبان پیدا کر گئی جن کے بغیر آج صنفی حقوق کا پورا discourse ناممکن ہوتا۔ کیا ان سب کو محض اس لیے ناکام قرار دینا درست ہوگا کہ ان کے آخری آدرش حاصل نہیں ہوئے؟

یہاں ہمیں ایک اور فرق بھی سمجھنا ہوگا: مقصد کا مکمل حصول اور تاریخی اثر ایک ہی چیز نہیں۔

پاکستان کی بہت سی تحریکیں اپنے maximalist objectives حاصل نہیں کرسکیں۔ نہ طبقاتی انقلاب آیا، نہ ریاست مکمل طور پر جمہوری ہوئی، نہ سول بالادستی ناقابل واپسی بنی، نہ قومیتی تنازعات ختم ہوئے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان تحریکوں نے کچھ بھی نہیں بدلا۔

اس نکتے کو سمجھنے کے لیے پاکستان کی سیاسی تاریخ کو دائرے کے بجائے ایک دوسری شکل میں دیکھنا زیادہ مفید ہوسکتا ہے: spiral، یعنی پیچ دار حرکت۔

spiral
میں انسان کبھی کسی مانوس مقام کے قریب واپس ضرور آتا ہے، مگر عین اسی نقطے پر نہیں آتا۔ وہ یا تو کچھ اوپر ہوتا ہے، یا کچھ نیچے، مگر تاریخی تجربہ، ادارے، سیاسی زبان اور اجتماعی یادداشت بدل چکے ہوتے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ بھی شاید ایسی ہی ہے۔

آمریت واپس آتی ہے، مگر ہر بار اپنی legitimacy کے لیے نئے جواز تلاش کرتی ہے۔ ریاستی جبر قائم رہتا ہے، مگر ہر نسل اس کے خلاف نئی زبان پیدا کرتی ہے۔ سیاسی اشرافیہ عوامی توانائی کو جذب کرتی ہے، مگر عوامی تحریکیں بھی نئے حقوق اور نئی سیاسی expectations پیدا کرتی رہتی ہیں۔ کئی gains واپس چھین لیے جاتے ہیں، مگر انہیں واپس چھیننے کے لیے بھی پہلے سے زیادہ سیاسی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

یہ کسی رومانوی فتح کی داستان نہیں۔ یہ ایک نامکمل، متنازع اور بار بار شکست کھانے والی جمہوری تاریخ ہے۔

اور شاید اصل سوال یہ نہیں کہ ہم مکمل طور پر بدل گئے یا نہیں۔

اصل سوال یہ ہے:

کیا ہماری سیاسی جدوجہد نے ریاست اور سماج کو ایک ذرہ بھی بدلا؟

اگر جواب ہاں ہے، تو پھر ’’سب کچھ رائیگاں گیا‘‘ تاریخی فیصلہ نہیں، مایوسی کا ایک تجربہ ہے۔

اگلی قسط میں ہم اسی سوال کو 1960ء کی دہائی، ایوب خان کے اقتدار، طلبہ، مزدور اور کسان تحریکوں اور 1968-69ء کے عوامی ابھار کی روشنی میں پرکھیں گے: اگر عوامی جدوجہد بے اثر تھی تو ایک طاقتور فوجی حکمران کو اقتدار چھوڑنے پر کس نے مجبور کیا؟

جاری ہے

اپنا تبصرہ لکھیں