کوٹ ادو کی نہر نے چند زندگیاں نہیں نگلیں؛ اس نے ہمارے معاشرے کے ضمیر کا وہ چہرہ بھی دکھا دیا ہے جس پر برسوں سے اخلاقیات، قانون اور شرافت کا غازہ ملا جا رہا تھا۔ پانی میں ڈوبنے والوں کا غم اپنی جگہ، ماؤں کی آہیں اپنی جگہ، بچوں کے سہمے ہوئے چہرے اپنی جگہ؛ مگر اصل سوال یہ ہے کہ ایک رکشے میں پچیس انسان سوار ہونے کی نوبت آخر کیوں آئی؟
رکشہ چلانے والا مجرم ہے یا وہ نظام جس نے اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا؟
سواریاں قصوروار تھیں یا وہ معاشی جبر جس نے انہیں پانچ رکشوں کا کرایہ ادا کرنے کے قابل نہ چھوڑا؟
یہ سوال کسی ایک رکشے والے، کسی ایک مسافر یا کسی ایک حادثے کا سوال نہیں۔ یہ اس پورے معاشرتی بندوبست کے خلاف فردِ جرم ہے جس میں غریب آدمی پیدا تو انسان ہوتا ہے مگر زندگی بھر اسے اپنی بنیادی ضرورتوں کے لیے مجرم بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
پٹرول مہنگا، بجلی مہنگی، آٹا مہنگا، گھی مہنگا، دودھ مہنگا، دوا مہنگی، کتاب مہنگی، سبزی مہنگی، کپڑا مہنگا، مگر غریب کی محنت سستی سے سستی تر!
اور پھر قانون کی وہ چھڑی الگ جو بسا اوقات حفاظت سے زیادہ وصولی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ چالان، جرمانے، فیسیں، ٹیکس اور روزمرہ کے بے شمار معاشی بوجھ… سب مل کر اس آدمی کی کمر توڑ دیتے ہیں جس کے پاس پہلے ہی زندگی کا بوجھ اٹھانے کو دو کمزور کندھے ہیں۔
پھر حادثہ ہوتا ہے۔
نہر میں لاشیں ملتی ہیں۔
اور ہمارے دانشور میدان میں اتر آتے ہیں۔
کوئی فرماتا ہے:
“ان کو عقل نہیں تھی؟”
کوئی کہتا ہے:
“اتنی سواریاں کیوں بیٹھیں؟”
کوئی رکشے والے کو کوستا ہے:
“یہ تو حرامی لوگ ہیں، پیسوں کے لیے کچھ بھی کر لیتے ہیں!”
واہ ری دانش!
غریب کے ڈوبنے پر بھی سب سے پہلے غریب ہی کٹہرے میں کھڑا ہے۔
یہ کیسی اخلاقیات ہے جو ہمیشہ مقتول سے حساب مانگتی ہے اور قاتل سے تعارف پوچھنے کی زحمت نہیں کرتی؟
مجرم ہو خواہ رہتا ہے ناصحوں کا
روئے سخن ہمیشہ سوئے جگر فگاراں
مسئلہ یہ نہیں کہ رکشے میں پچیس آدمی بیٹھے کیوں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ایسا کرنے پر مجبور کیوں ہوئے؟
یہی وہ سوال ہے جس سے ہمارے مصلحت پسند قلم ڈرتے ہیں، ہمارے سرکاری بیانات گھبراتے ہیں اور ہمارے خوش حال اخلاقی مبلغ نظریں چرا لیتے ہیں۔
کیونکہ اگر سوال یہاں سے شروع کیا جائے تو انگلی رکشے والے سے آگے بڑھتی ہے؛ پھر وہ ٹرانسپورٹ کے نظام تک پہنچتی ہے، وہاں سے معاشی پالیسیوں تک، وہاں سے طبقاتی تقسیم تک، اور آخرکار اس پورے نظام کے دروازے پر جا پہنچتی ہے جس میں ایک طبقہ سہولتوں کے سمندر میں تیرتا ہے اور دوسرا چند سو روپے بچانے کے لیے موت کے منہ میں سفر کرتا ہے۔
غریب نے پانچ رکشوں کا کرایہ نہیں بچایا؛ اس نے اپنی جان کی قیمت ادا کی۔
یہ جملہ شاید تلخ ہے، مگر سانحۂ کوٹ ادو کی تلخی اس سے کہیں زیادہ ہے۔
اور پھر ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ حادثات محض حادثات نہیں ہوتے۔ بعض حادثات برسوں کی غفلت، ناقص منصوبہ بندی، معاشی ناہمواری، کمزور ریاستی نگرانی اور طبقاتی بے حسی کا آخری نتیجہ ہوتے ہیں۔
جب محفوظ سفری سہولت عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو جائے، جب غربت انسان کو خطرہ مول لینے پر مجبور کر دے، جب قانون کا مقصد تحفظ کے بجائے صرف جرمانہ وصولی بن جائے، جب ریاست شہری کی جان سے زیادہ اعداد و شمار اور فائلوں کی حفاظت کرے، تو پھر کسی نہر میں گرنے والا رکشہ محض ایک ٹریفک حادثہ نہیں رہتا۔
وہ ایک پورے نظام کا پوسٹ مارٹم بن جاتا ہے۔
یہاں سوال رکشے والے سے بھی ہونا چاہیے، مگر صرف رکشے والے سے نہیں۔
سواریاں بھی جواب دہ ہوں گی، مگر صرف سواریاں نہیں۔
اصل جواب دہی ان حالات کی ہے جنہوں نے انسان کو اپنی زندگی اور روزمرہ ضرورت کے درمیان انتخاب پر مجبور کر دیا۔
اور یہیں سے طبقاتی نظام کا اصل چہرہ نمودار ہوتا ہے۔
جس معاشرے میں امیر کے لیے قانون حفاظتی دیوار اور غریب کے لیے جرمانے کی رسید بن جائے، جہاں ایک شخص کے لیے سفر سہولت ہو اور دوسرے کے لیے موت کا جوا، جہاں ایک طبقہ وسائل کو حق سمجھ کر استعمال کرے اور دوسرا بنیادی ضرورت کو بھی رعایت سمجھ کر مانگے. وہاں ایسے سانحات کو صرف “غلطی” کہہ کر دفن نہیں کیا جا سکتا۔
لاشیں نہر سے نکال لی جائیں گی۔
رکشہ شاید کنارے پر پڑا مل جائے گا۔
کاغذوں میں رپورٹ درج ہو گی۔
افسران معائنہ کریں گے۔
چند دن بحث ہوگی۔
پھر زندگی معمول پر آ جائے گی۔
مگر سوال وہیں رہے گا:
اگلی نہر کے کنارے کون کھڑا ہے؟
اگر ہم نے صرف رکشے والے کو پکڑا، ڈرائیونگ لائسنس کی بات کی، چند چالان کیے اور فائل بند کردی تو ہم نے حادثے کی وجہ نہیں، صرف اس کا آخری منظر دیکھا ہے۔
اصل کام یہ ہے کہ ایسا معاشی اور انتظامی نظام قائم کیا جائے جس میں کسی باپ کو بچوں سمیت چند روپے بچانے کے لیے جان خطرے میں نہ ڈالنی پڑے؛ کسی ماں کو سستی سواری اور محفوظ سواری میں سے ایک کا انتخاب نہ کرنا پڑے؛ اور کسی مزدور کی روزی اس قدر بے قیمت نہ ہو کہ وہ قانون، جرمانے اور مہنگائی کے درمیان پس کر آخرکار موت کا مسافر بن جائے۔
سانحۂ کوٹ ادو پر ماتم ضرور کیجیے۔
مگر صرف لاشوں پر نہیں۔
اس ذہنیت پر بھی ماتم کیجیے جو ہر سانحے کے بعد غریب کو ہی موردِ الزام ٹھہراتی ہے۔
اور اگر واقعی اس حادثے سے کوئی سبق لینا ہے تو پھر سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ:
“پچیس لوگ ایک رکشے میں کیوں بیٹھے؟”
سوال یہ ہونا چاہیے:
“ہم نے ایسا معاشرہ کیوں بنا دیا جہاں پچیس انسان ایک رکشے میں بیٹھنے پر مجبور ہو گئے؟”
یہی سوال اصل ہے۔
اور جب تک اس سوال کا جواب نہیں ملتا، نہر کے کنارے صرف پانی نہیں بہے گا
اس ملک کے غریب کی بے بسی بھی بہتی رہے گی۔


