نئے عالمی نظام میں مذہبی جماعتوں کا مستقبل: کیا سیاست میں ان کی جگہ باقی نہیں رہے گی؟- اسلم اعوان

بیسویں صدی کی عالمی سیاست کو اگر ایک وسیع تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آج کی دنیا اچانک وجود میں نہیں آئی بلکہ اس کے خد وخال پہلی جنگِ عظیم، دوسری جنگِ عظیم، سرد جنگ، سوویت یونین کے انہدام اور اب یوکرین جنگ جیسے بڑے واقعات کے ذریعے بتدریج تشکیل پاتے رہے ہیں۔
ان تبدیلیوں نے نہ صرف عالمی طاقت کا توازن بدلا بلکہ مسلم دنیا، مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا میں ریاست، مذہب، قوم پرستی اور سیاسی مزاحمت کی جدلیات کو بھی نئی شکلیں عطا کیں۔

پہلی جنگِ عظیم نے دنیا کی کئی بڑی سلطنتوں کو توڑ دیا۔ عثمانی، روسی، جرمن اور آسٹرو ہنگیرین سلطنتوں کے انہدام نے پرانے بادشاہتی و سلطنتی نظام کی جگہ قومی ریاستوں کے تصور کو آگے بڑھایا۔ مشرق وسطی میں عثمانی سلطنت کے خاتمے کے بعد برطانیہ اور فرانس کے زیر اثر مینڈیٹ نظام قائم ہوا اور صیہونی ریاست اسرائیل کا قیام کے ذریعے خطے کا نیا سیاسی نقشہ تشکیل پایا۔ عرب دنیا اور مسلم خطوں میں نئی ریاستیں وجود میں تو آئیں مگر ان ریاستوں کی قومی شناخت کو تکمیل کے مراحل میں سرگرداں رکھا گیا، ایک طرف جدید قوم پرستی، سیکولرازم اور مغربی طرز کی ریاست کا تصور تھا، دوسری طرف مذہبی شناخت، خلافت کی یادیں ، اسلامی تہذیبی شعور اور نوآبادیاتی تسلط کے خلاف مزاحمت کا رجحان ابھی تھما نہیں تھا۔

یہی وہ التباسات زدہ ماحول تھا جس میں جدید اسلامی احیائی تحریکوں کے لیے زمین ہموار بنائی گئی۔ اگرچہ اسلامی تحریکوں کی فکری جڑیں اسلامی تمدن ،مقامی معاشرت اور سیاسی حالات میں پیوست تھیں تاہم بعد کے عشروں میں عالمی طاقتوں نے ان تحریکوں میں سرمایا کاری کرکے انہیں اپنے تزویراتی مفادات کے مطابق استعمال کرنے کے راستے تلاش کر لئے۔

دوسری جنگِ عظیم نے اس عمل کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا، جنگ کے بعد یورپی نوآبادیاتی طاقتیں کمزور ہوئیں اور ایشیا و افریقہ میں نوآبادیاتی نظام تیزی سے پسپا ہونے لگا لیکن نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ بڑی طاقتوں نے دنیا کے معاملات سے دستبرداری اختیار کرلی بلکہ انہوں نے اس کی جگہ ایک نیا ادارہ جاتی عالمی نظام تشکیل دیا، جس میں اقوام متحدہ، بریٹن وڈز کے مالیاتی ادارے، امریکی ڈالر میں عالمی تجارت، نیٹو جیسے عسکری اتحاد اور بین الاقوامی سفارت کاری کے نئے ڈھانچے شامل تھے۔ یوں براہ راست نوآبادیاتی حکمرانی کی جگہ حکمرانوں پہ حکمرانی کا جدید عالمی نظم وجود میں آیا جس میں نہ صرف چھوٹے ملکوں کی سیاسی خودمختاری بے معنی ہوئی بلکہ عالمی معیشت، مالیات، سلامتی اور سفارت کاری میں بڑی طاقتوں کی ساختی برتری زیادہ گہری ہو گئی۔

اسی عالمی نظام کے اندر امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ شروع ہوئی جس نے دنیا کو دو بڑے نظریاتی کیمپوں، سرمایہ داری اور کمیونزم میں منقسم کر دیا اور مسلم دنیا اس کشمکش کا ایک اہم میدان بن گئی کیونکہ یہاں نئی قومی ریاستیں، کمزور جمہوری ادارے، فوجی حکومتیں، نوآبادیاتی ورثہ، معاشی پسماندگی اور مذہبی حساسیت باہم متصادم تھیں۔

چنانچہ کیمیونزم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے مسلم دنیا میں مختلف ریاستی، سیاسی اور مذہبی قوتوں کے ساتھ تعلقات قائم کیے۔ سعودی عرب، پاکستان، ایران اور دیگر ممالک اس وسیع تر سرد جنگی سیاست میں مختلف ادوار میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ اسی ماحول میں اسلامی تحریکوں کو بھی کمیونزم کے مقابلے میں ایک نظریاتی قوت کے طور پر دیکھا گیا۔ مصر میں حسن البنا کی اخوان المسلمین، برصغیر میں مولانا مودودی کی جماعت اسلامی اور دیگر اسلامی احیائی تحریکیں پہلے ہی اپنے معاشروں میں جدیدیت، استعمار، سیکولر قوم پرستی اور سیاسی زوال کے جواب تلاش کر رہی تھیں۔ سرد جنگ نے ان تحریکوں کو کمیونزم کے خلاف ایک ایسے عالمی ماحول سے جوڑ دیا جس میں مذہب محض روحانی یا اخلاقی قوت نہیں رہا بلکہ کمیونزم کے خلاف نظریاتی مزاحمت کا ممکنہ ذریعہ بھی بن گیا۔

پاکستان اس عمل کی ایک اہم مثال تھا کیونکہ اس کی بنیاد ہی مذہبی نظریہ سیاست اور مسلم قومیت کے تصور پر رکھی گئی تھی،اس لئے سرد جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان بتدریج مغربی دفاعی نظام کا حصہ بنتا گیا۔ جس نے ریاستی اداروں، مذہبی حلقوں اور مغربی طاقتوں کے مفادات کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا ۔ خاص کر ذولفقار علی بھٹو کی جمہوری تحریک کا سر کچلنے کے بعد جنرل ضیاء الحق کے دور میں اسلامائزیشن نے اس تعلق کو مزید گہرا کیا۔ 1979ء میں ایران کا اسلامی انقلاب اسی جدلیات کا حیران کن مظہر تھا، جہاں مذہبی انقلاب نے براہِ راست ایک بادشاہت کا خاتمہ کرکے ولایت فقیہ کی شکل میں مذہبی استبدادی نظام کی بنیاد رکھی۔

تاہم اسی سال افغانستان میں سوویت فوجی مداخلت نے مسلم دنیا کو سرد جنگ کے سب سے بڑے نظریاتی اور عسکری محاذ میں تبدیل کردیا۔ امریکہ، پاکستان، سعودی عرب اور یوروپی ممالک نے مختلف سطحوں پر افغان مزاحمت کی حمایت میں دنیا بھر کے مسلم معاشروں سے نوجوان افغانستان پہنچائے ،جس نے مذہبی جذبہ، قومی مزاحمت اور مغربی طاقتوں کے مفادات کو ایک دوسرے میں مدغم کر دیا یوں افغانستان میں ایک ایسی بین الاقوامی جہادی ثقافت پیدا ہوئی جس کے اثرات کمیونزم کے زوال ، سوویت انخلا اور سوویت یونین کے انہدام پہ منتج ہوئے۔

کیمیونزم کے زوال کے بعد سرد جنگ کا جو سب سے بڑا تضاد سامنے آیا وہ یہ تھا کہ جس مذہبی مزاحمت کو سوویت کمیونزم کے خلاف ایک مؤثر قوت کے طور پر استعمال کیا گیا، سوویت یونین کے خاتمے کے بعد اسی مذہبی عسکریت کو مغربی اشرافیہ نے عالمی امن کے لئے نئے خطرے کے طور منقش کرنا شروع کر دیا گیا۔

1991ء میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد امریکہ کیتھولک ورلڈ آرڈر کے ساتھ دنیا کی واحد سپر پاور بن کر ابھرا۔ اب عالمی سیاست میں کمیونزم وہ دشمن نہیں رہا جس کے خلاف مغرب نے نصف صدی تک اسلامی تحریکوں کے ساتھ اتحاد قائم رکھا ہوا تھا۔ عالمی سلامتی کے نئے بیانیے میں سیاسی اسلام، جہادی تنظیمیں اور مذہبی عسکریت بتدریج صلیب کے فرزندوں کے مرکزی دشمن بنتے گئے۔

11 ستمبر 2001ء کے بعد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ نے اس پالیسی کو فیصلہ کن مرحلے میں داخل کردیا۔ افغانستان پر حملہ، عراق کی جنگ، شام، لیبیا اور خطے کے دوسرے بحرانوں نے مسلم دنیا میں ریاست، مذہب، سیاسی مزاحمت اور عسکریت کے تعلق کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

اسی دور میں ایک اہم تبدیلی یہ بھی آئی کہ عرب اور مسلم ریاستوں نے خطرہ سمجھ کر اپنے ہاں موجود مذہبی سیاسی تحریکوں کو محدود کرنا شروع کر دیا۔ اخوان المسلمین سمیت مختلف تحریکوں کے خلاف جارحانہ ریاستی اقدامات ہوئے، جبکہ مذہبی لٹریچر، مدارس، فنڈنگ اور سیاسی سرگرمیوں پر بھی نئی پابندیاں عائد کی گئیں۔ اس پورے عمل کو صرف مغربی طاقتوں کی ضرورت قرار دینا شاید درست نہ ہو، کیونکہ خود مسلم ریاستوں کی داخلی سلامتی، سماجی توازن کے تقاضے اور سیاسی اسلام کی تعبیرات کے تنازعات بھی اس میں شامل تھے لیکن عالمی سلامتی کے بدلتے ہوئے تصورات نے انہیں زیادہ گمبھیر بنا دیا۔

اسی تناظر میں پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران مسلح مذہبی تنظیموں کے خلاف ریاستی کارروائیوں کا جال اور مذہبی سیاسی جماعتوں کے سیاسی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کا رجحان گہرا ہوا۔ جس کے نتیجے میں جماعت اسلامی سمیت بعض مذہبی جماعتوں کی انتخابی سیاست کمزور ہوئی، جبکہ جمعیت علمائے اسلام جیسی جماعتوں کا پارلیمانی وزن بھی اپنے تاریخی عروج کے مقابلے میں محدود ہوتا گیا۔ تاہم اس تبدیلی کو محض کسی بیرونی منصوبے کا نتیجہ سمجھنے کے بجائے پاکستان کے اندر بدلتے ہوئے طبقاتی، شہری، معاشی، انتخابی اور ریاستی عوامل کے ساتھ بھی دیکھنا ضروری ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم عالمی سیاست کے ایک اور بڑے انتقال کے عہد میں داخل ہوچکے ہیں؟

یوکرین جنگ نے کم از کم یہ واضح کردیا کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والا عالمی نظم اپنی پرانی شکل میں برقرار نہیں رہا۔ اقوام متحدہ اور عالمی مالیاتی ادارے بے اثر ہونے لگے ہیں، عالمی معیشت میں امریکی ڈالر اب مرکزی حیثیت کھو رہا ہے اور ایران جنگ کے باعث مشرق وسطی میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔ چین کا عروج، روس کا مغرب سے براہِ راست تصادم، پاکستان کی بڑھتی ہوئی دفاعی و سفارتی اہمیت، خلیجی ریاستوں کی نئی خارجہ پالیسی اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین دفاعی معاہدہ Global South کی بڑھتی ہوئی خود اعتمادی کی نشاندہی کر رہا ہے یعنی مستقبل کے عالمی نظام میں امریکی مرکزیت برقرار نہیں رہے گی۔

اس تناظر میں یوکرین جنگ کو صرف روس اور یوکرین کا تنازع سمجھنا کافی نہیں۔ یہ جنگ عالمی طاقت کے توازن، قومی خودمختاری، عسکری اتحادوں، توانائی، عالمی تجارت اور بین الاقوامی اداروں کی ساکھ کے بارے میں ایک بڑے سوال کا حصہ بن چکی ہے۔ دنیا شاید ابھی مکمل طور پر نئے عالمی نظام میں داخل نہیں ہوئی، لیکن پرانا یک قطبی نظام اپنی بنیادیں چھوڑ چکا ہے۔

چنانچہ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد پاکستان کو ایک نئے سوال کا سامنا ہے۔ اگر سرد جنگ کے زمانے میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت نے اسے مغربی اتحاد اور اسلامی مزاحمت کے ایک اہم مرکز میں تبدیل کر دیا تھا اور سوویت انہدام کے بعد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ نے اس کی ریاستی اور مذہبی سیاست کو متاثر کیا تو اب ایک ممکنہ کثیر قطبی دنیا میں پاکستان کو اپنی مذہبی، سیاسی اور جغرافیائی ترجیحات بھی نئے سرے سے متعین کرنا ہوں گی۔

شاید اسی لیے پاکستان میں مذہبی سیاست کے مستقبل کو صرف جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام یا دیگر مذہبی جماعتوں کی انتخابی نشستوں کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں ہو گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ نئے عالمی نظام میں مذہب، قوم پرستی، ریاستی خودمختاری اور جمہوری سیاست کا مقام کیا ہوگا؟

بیسویں صدی میں بڑی طاقتوں نے جس مذہب کو نہایت بے رحمی کے ساتھ کمیونزم کے خلاف مزاحمت کے لیے استعمال کیا،آج اسی مذہبی سیاست کو عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیکر عالمی اور علاقائی سیاست سے آؤٹ کرنے پہ کمربستہ ہیں، اب اکیسویں صدی میں دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہورہی ہے جہاں نہ کمیونزم پرانی صورت میں موجود ہے، نہ امریکی یک قطبی غلبہ پہلے جیسا ہے تو مذہبی سیاست کیسے پہلے جیسی رہ سکتی ہے ۔

چنانچہ آنے والے دور کا اصل سوال شاید یہ نہیں ہوگا کہ مذہبی سیاست ختم ہوگی یا نہیں؛ بلکہ یہ ہوگا کہ نئے عالمی طاقت کے توازن میں مذہبی جماعتیں کس نئی شکل میں خود کو پیش کرتی ہے۔ اگر دنیا واقعی کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے تو مسلم دنیا میں بھی مذہب، ریاست اور سیاست کے تعلق کی نئی تشکیل ناگزیر دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان اس تبدیلی سے باہر نہیں رہ سکتا، کیونکہ اس کی پیدائش، نظریاتی شناخت ، سرد جنگ کی تاریخ اور جغرافیائی حیثیت اسے عالمی نظام کی ہر بڑی تبدیلی کے ساتھ براہِ راست جوڑتی رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں