ہائبرڈ گورنس کا تسلسل
پاکستان میں ہائبرڈ اصطلاح کا استعمال 2018–2022 میں پی ٹی آئی کی عمران حکومت کے دوران عام ہوا تھا۔ فروری 2024 کے متنازع انتخابات کے بعد بننے والی ن لیگ اور پی پی پی کی شہباز اتحادی حکومت کو عمران دور کے ہائبرڈ ماڈل کا تسلسل سمجھا جاتا ہے جو مقتدرہ کے ساتھ بہت زیادہ ہم آہنگ ہے۔ آئینی ماہرین 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کو ہائبرڈ ماڈل کو رسمی شکل دینے اور مضبوط کرنے کے قدم کے طور پر دیکھتے ہیں۔
انٹرنیشنل کمشن آف جیورسٹس نے 13 نومبر 2025،اقوام متحدہ کے کمشن برائے انسانی حقوق نے 28 نومبر 2025 اورانٹرنیشنل بار ایسوسی ایشن ہیومن رائٹس انسٹیٹیوٹ نے 26 نومبر 2025 کو 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کے ذریعے تبدیلیوں کو آمرانہ قوانین کی ایک کلاسک مثال قرار دیا ہے۔مذکورہ بین الاقوامی اداروں نے آئینی ترامیم کو عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی پر کھلا حملہ تصور کیا ہے۔ ان کے مطابق مذکورہ آئینی ترامیم سے انتظامی اور عسکری اختیارات کا ارتکاز ہوا ہے۔ان ترامیم سے فوج کے سیاسی کردار کو قانونی طور پر مضبوط بنا کر، عدالتی آزادی کو بے اثر کر کے اور چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو ختم کر کے ہائبرڈ گورننس کو مضبوط کیا ہے۔
تجزیہ کاروں میں عمومی اتفاق پایا جاتا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے دور حکومت میں مقتدرہ کی ادارہ جاتی طاقت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جس میں ایسا ہائبرڈ ریجیم مستحکم ہوا جہاں سیاسی قیادت اور مقتدرہ کے اختیارات رسمی طور پر مدغم ہو تے نظر آتے ہیں۔ جبکہ حکومت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ کوموجودہ ہائبرڈ ماڈل میں سویلین اور عسکری قیادت آئینی ذمہ داریوں کو مشترکہ طور پر نبھاتے ہیں۔ بقول انکے اس طرح مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے حکمران اتحادنے ماضی کی سویلین اور فوجی کشیدگی کا خاتمہ کر کے ملک کو سیاسی و اقتصادی استحکام کے راستے پر ڈال دیا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اس نظام کو سویلین اور مقتدرہ کی مشترکہ ملکیت قرار دیتے ہوئے اسے ملک کے معاشی اور گورننس مسائل کے حل ہونے تک ایک عملی ضرورت قرار دیا ہے۔ حکمران اتحاد اس انتظام کو بڑی حد تک سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کے لیے ایک ضروری سمجھوتہ سمجھتا ہے۔ حکمران اتحادی جماعتوں کی دلیل ہے کہ اس طرز حکومت سے سیاسی مزاحمت، معاشی بحران، ادارہ جاتی مخالفت، اور عالمی عدم قبولیت پر قابو پا لیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ نظام مزید مستحکم ہوا ہے۔
قابل غور بات ہے کہ حکومتی اتحاد اور مقتدرہ موجودہ گورنس ماڈل کو جمہوری تنزلی تصور نہیں کرتے بلکہ اسے معاشی بحران، دہشت گردی، بھارت اور افغانستان کے ساتھ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں ایک ضرورت قرار دیتے ہیں۔
جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ہائبرڈ گورننس ماڈل سے جمہوری ادارے اندر ہی اندر کھوکھلے ہو ئے ہیں۔ اس میں عدلیہ کی آزادانہ صلاحیت پر سمجھوتا کیا ہے۔ ایسا معاشی ماحول پیدا ہوتا ہے جو ادارہ جاتی کمزوری اور عدم استحکام کی پرورش کرتا ہے۔ ناقدین اس نظام کو ایک ایسی بنجر زمین کہتے ہیں جہاں طویل مدتی ترقی اور جمہوریت کا استحکام قلیل مدتی کنٹرول کے لیے قربان کر دیا گیاہے۔
دوسری طرف یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ موجودہ ہائبرڈ گورننس کو نیو نارمل کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔کہا جارہا ہے کہ یہ ہائبرڈ کوئی عارضی مرحلہ نہیں بلکہ اپنے آپ میں ایک گورننس ماڈل ہے جسے جمہوری اداروں کو استعمال کر کے برقرار رکھا جارہا ہے۔اگرچہ منتخب سول حکومت موجود ہے لیکن اس کی عملداری تیزی سے سیکورٹی پر مبنی سوچ سے تشکیل پا رہی ہے۔ خاص طور پر مئی 2025 میں پاک بھارت فضائی جھڑپوں کے بعد سےعلاقائی کشیدگی، بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی نے سیکورٹی ریاست کی سوچ کو مزید تقویت دی ہے۔ جس نے مقتدرہ کو معاشی اور سفارتی معاملات سمیت قومی فیصلہ سازی میں غالب آواز بنا دیا ہے۔
عوامی سطح پر یہ تاثر تقویت پکڑتا جا رہا ہے کہ حکومتی اختیارات کا توازن مشترکہ اقتدار سے ہٹ کر واضع طور پر مقتدرہ کی برتری کی طرف جھک گیا ہے۔ جس سے موجودہ گورنس ماڈل بتدریج مقتدرہ کے براہ راست غلبے کی طرف گامزن ہے۔یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ یہ ہائبرڈ ماڈل ہے یا سول جمہوری نقاب اوڑھے ہوئے مقتدرہ قیادت کے غلبے کی حکمرانی کا نیا ماڈل ہے۔ آئینی ماہرین کے نزدیک یہ ماڈل ایک جمہوری وہم ہے جو 1973 کے آئین میں پیش کردہ پارلیمانی جمہوریت اور سول بالادستی سے انحراف کرتا ہے۔
ہائبرڈ اور آمرانہ نظام مستقل نہیں چلتے
پاکستان براہ راست فوجی حکومتوں، فوجی نگرانی میں سول ہائبرڈ حکومتوں، سول ہائبرڈ حکومتوں یا کمزور جمہوری حکومتوں کے ادوار سے گزرا ہے۔جس کی وجہ سے ملک کو جمہوری استحکام، آئین و قانون کی حکمرانی اور سول بالادستی حاصل نہ ہو سکی۔ 79 سال ملک ہائبرڈ اور آمرانہ ادوار سے گزرا مگر ان میں سے ایک بھی مستقل اور مستحکم سیاسی نظام کی صورت اختیار نہ کر سکا۔
جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء اور جنرل پرویز مشرف کے مسلط کردہ بظاہر مضبوط نظام بھی اپنے نافذ کرنے والوں کے ساتھ دفن ہو گئے تھے ۔ایوب خان کا مسلط کردہ آمرانہ صدارتی نظام عوام نے کبھی قبول نہیں کیا تھا۔ جنرل ضیاء اور جنرل مشرف نے 1973 کے متفقہ جمہوری آئین کا حلیہ بگاڑ دیا تھا۔ جس کے خلاف عوامی سطح پر مسلسل مزاحمت ہوتی رہی اور بلآخر جمہوری قوتوں نے 1973 کے آئین کو اٹھارویں آئینی ترمیم سے اصل حالت میں بحال کردیا تھا۔اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ عوام کی منشاء کے بغیر ٹھونسے گئے غیر جمہوری سیاسی نظاموں کو عوام نے مسترد کرکے تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا۔
تاریخی تناظر میں دیکھیں تو پاکستان کی سیاسی تاریخ جمہوری قوتوں اور غیر جمہوری قوتوں کے درمیان مسلسل کشمکش سے عبارت ہے۔ تاریخی حقائق گواہ ہیں کہ غیر جمہوری قوتیں تماتر طاقت کے باوجود اپنے نافذ کردہ غیر جمہوری نظاموں کو عوام کے غیض و غضب سے بچانے میں ہمیشہ ناکام رہی ہیں۔ جمہوری قوتوں کی بار بار پسپائی کے باوجود غیر جمہوری قوتیں اپنے مسلط کردہ آمرانہ نظاموں کا دفاع کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس لئے انہیں ریاستی اقتدار پر غیر جمہوری قبضہ یا اثر و رسوخ مسلط رکھنے کے لئے بار بار نت نئے تجربات کرنے کی سوجھتی ہے۔ لیکن ہر دور میں انکے غیر جمہوری تجربہ کو منہ کی کھانی پڑتی ہے۔مگر انکے ناکام تجربات کی بھٹی سے سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران، غربت، بے روزگاری اور ناخواندگی کے عفریت برآمد ہوتے رہے ہیں۔
اب ایک بار پھر مذکورہ آئینی ترامیم کے ذریعے 1973 کےجمہوری آئین کو ہائبرڈ آئین کی شکل دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ان آئینی ترامیم سے ہائبرڈ گورننس کو ادارہ جاتی شکل دی جا رہی ہے جسے حکمران اتحادی جماعتیں کھلے عام سراہ رہی ہیں۔ المیہ دیکھیں کہ یہ کارنامہ میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے والی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ہاتھوں سر انجام پایا ہے۔
تاریخی شواہد سے نتیجہ اخز کیا جا سکتا ہے کہ 2022 کو قائم ہو کر 2025 میں رسمی شکل اختیار کرنے والا ہائبرڈگورنس ماڈل ظاہراؔؔ مضبوط نظر آتا ہے لیکن اس کے باوجود طویل مدت میں پائیدار نہیں رہ سکے گا۔ ماضی کے طرز حکمرانی کی طرح موجودہ ہائبرڈ ماڈل کو بھی ایک انتہائی غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے۔ اگرچہ اس نے قلیل مدتی استحکام کی ایک حد حاصل کر لی ہے لیکن پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ ایسااستحکام ایک وقتی عنصر ہوتا ہے جومستقل اور پائیدار حکمرانی کے ڈھانچے کے طور پر قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ اس کی ساختی کمزوریاں اور تاریخی شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ پاکستان کے لیے ایک مستقل حل کے بجائے ایک عارضی انتظام ہے۔
شدید معاشی مندی، بڑا سیاسی بحران اور خود رو سیاسی ابھار یا سول حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان تنازع وغیرہ موجودہ بندوبست میں تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی کی عمران حکومت کا خاتمہ ہائبرڈ ماڈل کے اندرونی تضادات کی وجہ سے ہوا تھا۔
1973 کے جمہوری آئین کی بحالی، آئین و قانون کی حکمرانی اور سول منتخب اداروں کی بالادستی کے لئے دہائیوں سے جدوجہد کسی نہ کسی سطح پر جاری رہی ہے۔ سیاسی اتار چڑھاو کے باوجود جمہوری قوتوں اور غیر جمہوری قوتوں کے درمیان جاری تاریخی کشمکش مختلف سطحوں پر جاری رہتی ہے۔ جو کسی نئے سیاسی ابھار، نئے طرز کے احتجاج اور عوامی غصے کی لہر میں بہتے ہوئے پانی کی طرح کہیں نہ کہیں سے راستہ بناتے ہوئے برآمد ہوجاتا ہے۔ جس کی جیتی جاگتی مثالیں ماضی اور ماضی قریب کی تاریخ میں ڈھونڈنا مشکل نہیں ہے۔


