حالیہ دنوں میں عمران خان کو طبی بنیادوں پر ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے غیر معمولی حکم اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال نے سیاسی حلقوں میں سیاسی مفاہمت کی جن قیاس آرائیوں کو تقویت دی تھی، حکومت کی جانب سے عدالتی حکم پر نظرِثانی کی درخواست اور عمران خان کے مختصر طبی معائنے اور دوبارہ جیل منتقل کیے جانے کے بعد وہ دم توڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا کسی ممکنہ سیاسی پیش رفت کی راہ میں مسلم لیگ (ن) کی مزاحمت رکاوٹ بنی ہے؟
اگر یہ مفروضہ درست مان لیا جائے کہ عمران خان کو کسی نوعیت کا ریلیف دینے کی کوشش کی جا رہی تھی تو اس کے رک جانے کی ممکنہ وجہ مسلم لیگ (ن) کی خاموش مزاحمت ہو سکتی ہے ، سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائی زیرِبحث ہے کہ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے عمران خان کو نمایاں سیاسی یا عدالتی ریلیف ملنے کی صورت میں حکومت سے علیحدگی اختیار کرکے مزاحمت کا راستہ اپنانے کا عندیہ دیا ہو، جس کے نتیجے میں موجودہ سیاسی بندوبست تہہ و بالا ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا تھا۔ اگر واقعی ایسا کوئی پیغام دیا گیا ہے تو یہ مقتدر حلقوں کے لیے سیاسی استحکام کے حوالے سے ایک اہم دباؤ بن سکتا ہے۔
علی ہذالقیاس ! موجودہ صورتِ حال سے یہ ضرور محسوس ہوتا ہے کہ ممکنہ مفاہمت کی راہ میں سیاسی، عدالتی اور طاقت کے مراکز کے باہمی مفادات سے جڑی کئی پیچیدہ رکاوٹیں موجود ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا فریقین کسی ایسے فارمولے پر متفق ہو سکتے ہیں جس کے تحت عمران خان کو قابل قبول ریلیف مل جائے، مسلم لیگ (ن) کے سیاسی مفادات محفوظ رہیں اور مقتدر حلقوں کو مستقبل کے سیاسی استحکام کی ضمانت بھی حاصل ہو سکے۔ فی الحال اس سوال کا جواب” نفی” میں ملتا ہے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان میں گزشتہ دو برس کے دوران آئینی اور قانونی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کو اگر محض الگ الگ قانونی ترامیم کے بجائے ریاستی طاقت کے مجموعی ڈھانچے کے تناظر میں دیکھا جائے تو نہایت اہم اور بنیادی تبدیلی نمایاں ہوتی ہے ، عسکری اختیار کے مرکز کو پہلے سے کہیں زیادہ مرتکز کر دیا گیا ، بالخصوص 2025ء کی ستائیسویں آئینی ترمیم نے آرمی چیف کو بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورسز کا منصب دے کر عسکری کمان کے مرکز کو ایک نئی آئینی صورت دی گئی، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا گیا۔ اسی سلسلے میں فوج، بحریہ اور فضائیہ سے متعلق قوانین میں بھی متعاقب تبدیلیاں کی گئیں۔
اس بندوبست کو ریاستی طاقت کے ارتکاز کی غیر معمولی صورت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ بظاہر اس کا منطقی جواز ’’یونیٹی آف کمانڈ‘‘، فیصلہ سازی میں سرعت اور قومی سلامتی کے معاملات میں مرکزیت پیدا کرنا ہے۔ جدید جنگ اور پیچیدہ جغرافیائی و تزویراتی ماحول میں مختلف عسکری اداروں کے درمیان ہم آہنگی بلاشبہ اہم ہے۔ لیکن یہاں اصل سوال انتظامی کارکردگی سے آگے کا ہے، کیا کسی ریاست کی عسکری، سیاسی اور تزویراتی طاقت کو غیر معمولی حد تک ایک مرکز میں مجتمع کرنا خود اس مرکز کو مضبوط بناتا ہے یا بالآخر اسے کمزور کرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے؟
یہ سوال ہمیں فلسفہ سیاست کی طرف لے جاتا ہے۔
اقتدار کی ایک بنیادی ستم ظریفی یہ ہے کہ طاقت جتنی زیادہ کسی ایک مرکز میں جمع ہوتی ہے، اس مرکز پر کامیاب حکمرانی کا بوجھ بھی اتنا ہی بڑھ جاتا ہے۔ ایک شخص کو بیک وقت زیادہ سے زیادہ اختیارات دینا بظاہر اسے طاقتور بناتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے فیصلوں کی اہمیت، اس کی ذمہ داریوں کا حجم اور اس کے گرد موجود نظام کی پیچیدگی بھی اسی تناسب سے بڑھ جاتی ہے۔
انسان، بہرحال انسان ہے۔ وہ نہ ہمہ دان دیوتا ہے، نہ ہمہ وقت یکساں ذہنی صلاحیت رکھتا ہے، نہ اپنے جذبات، ادراک، ترجیحات اور جسمانی کیفیت پر مکمل اختیار رکھتا ہے۔ انسانی وجود وقت، عمر، صحت، نفسیاتی کیفیت، جذبات ،حادثات، اندیشوں اور حالات کی بے ثباتی کے تابع ہے۔ اگر فلسفے کی زبان میں کہیں تو مطلق اختیار کا حامل انسان بھی اپنی ذات کے اندر مطلق نہیں ہوتا۔
یہی وہ بنیادی تضاد ہے جو شخصی اقتدار کے ہر انتہائی ارتکاز کے اندر پوشیدہ ہوتا ہے۔ ریاست ایک غیر معمولی پیچیدہ حیاتیاتی نظام کی مانند ہے، اس کے اندر معیشت، خارجہ پالیسی، دفاع، داخلی سلامتی، عدلیہ، انتظامیہ، سیاسی جماعتیں، معاشرہ، ذرائع ابلاغ اور عوامی نفسیات کی پیچیدگیوں سمیت بے شمار متحرک اجزا بیک وقت کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ان سب کی سمت اور رفتار کو کسی ایک فرد کی ذات کے ذریعے مستقل طور پر قابو میں رکھنا انسانی صلاحیت سے کہیں زیادہ بڑا تقاضہ ہے۔
چنانچہ طاقت کے ارتکاز کا ایک عجیب paradox سامنے آتا ہے: اختیارات کا بڑھ جانا لازماً اختیار رکھنے والے کی حقیقی طاقت میں اضافہ نہیں کرتا۔ بعض اوقات اس کے برعکس ہوتا ہے۔ جیسے کسی ستون پر ضرورت سے زیادہ وزن رکھ دیا جائے تو بظاہر عمارت کا سارا بوجھ اسی ستون نے اٹھا رکھا ہوتا ہے، مگر حقیقت میں وہ ستون اپنی طاقت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس پر ڈالے گئے غیر معمولی بوجھ کی وجہ سے خطرے کا سب سے بڑا مرکز بن جاتا ہے۔
اسی تناظر میں موجودہ عسکری بندوبست کو دیکھا جائے تو یہ امکان قابل غور ہے کہ اختیارات کا غیر معمولی ارتکاز بیک وقت عسکری قیادت کو طاقتور بھی دکھاتا ہے اور اسے ساختی طور پر زیادہ حساس بھی بنا دیتا ہے۔ جب فیصلہ سازی کے بڑے مراکز ایک شخصیت سے منسلک ہو جائیں تو اس شخصیت کے ہر فیصلے کی سیاسی قیمت بڑھ جاتی ہے، ہر غلطی کا دائرۂ اثر وسیع ہو جاتا ہے اور نظام کے اندر موجود متبادل توازن کمزور پڑنے لگتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک متنوع ڈھانچہ میں ’’چیک اینڈ بیلنس‘‘ کا تصور بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جمہوری اور ادارہ جاتی نظام اسی اصول پر قائم ہوتے ہیں کہ کوئی ایک فرد یا ادارہ ریاستی طاقت کا واحد منبع نہ بن جائے۔ مختلف اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا مقصد محض انتظامی سہولت نہیں بلکہ انسانی محدودیت کو تسلیم کرنا بھی ہے۔ ادارہ فرد کو محدود کرتا ہے، مگر اسی محدودیت کے ذریعے ریاست کو مضبوط بناتا ہے۔
اس کے برعکس جب اداروں کی قوت بتدریج ایک شخص یا ایک منصب کے گرد مجتمع ہونے لگے تو ریاست کی ظاہری طاقت بڑھ سکتی ہے، مگر اس کی institutional resilience کم ہو سکتی ہے۔ نظام اس فرد کی بصیرت، مزاج، صحت، ترجیحات اور سیاسی حکمتِ عملی سے زیادہ وابستہ ہو جاتا ہے۔ یوں بظاہر طاقتور مرکز دراصل اپنی ذات کے ساتھ نظام کی کمزوری بھی پیدا کر دیتا ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں سیاست کی تجربہ کار قیادت اور غیر معمولی اختیارات رکھنے والی قیادت کے درمیان فرق نمایاں ہوتا ہے۔
نواز لیگ کی سیاست کی اہم خصوصیت اس کی طویل سیاسی عمر اور اقتدار کے مختلف ادوار میں ریاستی طاقت کے مراکز کے ساتھ تعامل کا تجربہ ہے۔ اگر یہ مفروضہ درست ہو کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت موجودہ طاقت کے ڈھانچے کی اندرونی کمزوریوں کو محسوس کر رہی ہے تو اس کی حکمتِ عملی کا ایک پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ طاقت کے ظاہری حجم سے مرعوب ہونے کے بجائے اس کے structural vulnerabilities کو دیکھ رہی ہو گی۔
کیونکہ تجربہ کار سیاست دان عموماً یہ جانتا ہے کہ ریاستی طاقت صرف اس بات کا نام نہیں کہ کس کے پاس کتنے اختیارات ہیں؛ اصل طاقت اس سوال میں پوشیدہ ہوتی ہے کہ ان اختیارات کو سیاسی، معاشرتی اور ادارہ جاتی طور پر کتنی دیر تک مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
طاقت کا پہاڑ جتنا بلند ہو، اس کے سائے میں چھپی دراڑیں اتنی ہی اہم ہو جاتی ہیں۔
اسی لیے اگر کسی ایک منصب کے گرد عسکری طاقت کا غیر معمولی ارتکاز پیدا ہو چکا ہے تو اسے صرف طاقت میں اضافے کے طور پر پڑھنا شاید ادھورا تجزیہ ہوگا۔ اس کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ اب ریاستی نظام کی کامیابی اور ناکامی، استحکام اور بحران، فیصلہ سازی اور غلط فیصلے، سب کا تعلق پہلے سے کہیں زیادہ ایک محدود مرکز سے جڑ جاتا ہے۔
اور یہی کسی بھی شخصی اقتدار کا بنیادی فلسفیانہ المیہ ہے، جس لمحے ریاست اپنی طاقت کو ایک فرد کے گرد جمع کر کے اسے ناقابل شکست بنانا چاہتی ہے، اسی لمحے وہ اپنی کمزوریوں کو بھی اسی فرد کے ساتھ باندھ دیتی ہے۔
اگر موجودہ سیاسی کشمکش کو اسی زاویے سے دیکھا جائے تو ممکن ہے کہ اصل معرکہ اس بات پر نہ ہو کہ کس کے پاس زیادہ طاقت ہے، بلکہ اس بات پر ہو کہ کس فریق نے طاقت کے ظاہری حجم اور اس کی حقیقی پائیداری کے درمیان فرق کو پہلے سمجھ لیا ہے۔
اگر نواز لیگ کی قیادت واقعی اس فرق کو سمجھ چکی ہے تو اس کی ممکنہ حکمتِ عملی کسی طاقتور مرکز سے براہِ راست ٹکرانے کے بجائے اسی مرکز کے اندر موجود انسانی، ادارہ جاتی اور سیاسی محدودیتوں کو وقت کے ساتھ نمایاں ہونے دینا ہو سکتی ہے۔
بالآخر تاریخ کا ایک مستقل سبق یہی ہے کہ اقتدار کو مرکزیت دینے سے صرف طاقت کا احساس بڑھتا ہے لیکن ریاست کو پائیدار بنانے کے لیے طاقت کا ادارہ جاتی ہونا ضروری ہے۔ فرد کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ فانی ہے، ادارہ اگر مضبوط ہو تو فرد کے بعد بھی باقی رہتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ادارے فرد کے تابع ہو جائیں تو جس طرح فرد کی قوت بظاہر ریاست کی قوت بن جاتی ہے اسی ظرح فرد کی کمزوری بھی بالآخر ریاست کی کمزوری بننے لگتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں طاقت کی انتہا، اپنی ضد میں، کمزوری کی ابتدا بن سکتی ہے۔


