پاکستانی سیاست میں اصولوں کی بحث اکثر اس وقت شروع ہوتی ہے جب مخالف جماعت کوئی ایسا قدم اٹھائے جو ہماری اپنی جماعت ماضی میں کئی بار اٹھا چکی ہو۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور تحریک انصاف نے طویل اور تلخ سیاسی مخالفت کے باوجود مشترکہ اپوزیشن کے قیام پر اصولی اتفاق کیا تو بعض حلقوں نے اسے فوراً موقع پرستی، مفادات کی سیاست اور نظریاتی پسپائی قرار دے دیا۔ سوال اٹھانا بجا ہے، لیکن انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ سوال صرف مولانا فضل الرحمٰن سے نہ کیا جائے۔ ذرا اپنی اپنی جماعتوں کے ماضی پر بھی نگاہ ڈال لی جائے تو معلوم ہوگا کہ پاکستان کی کوئی قابلِ ذکر مذہبی، لبرل، سیکولر، قوم پرست یا وفاقی جماعت ایسی نہیں جس نے وقت اور ضرورت کے مطابق اپنے سابق مخالفین سے اتحاد نہ کیا ہو۔
سیاست میں اتحاد دو جماعتوں کے نظریاتی انضمام کا نام نہیں۔ مشترکہ حکومت، انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ، آئینی معاملے پر پارلیمانی تعاون اور کسی حکومت یا آمریت کے خلاف مشترکہ جدوجہد الگ الگ صورتیں ہیں۔ اگر دو جماعتیں کسی متعین مقصد کے لیے اکٹھی ہوتی ہیں تو لازماً یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے اپنے منشور، ماضی اور تمام اختلافات کو دفن کردیا ہے۔ پارلیمانی سیاست میں کوئی جماعت تنہا پورے ملک اور معاشرے کی نمائندگی نہیں کرتی۔ اسے کبھی حکومت بنانے، کبھی آئین بچانے، کبھی آمریت کا مقابلہ کرنے اور کبھی انتخابی اصلاحات کے لیے دوسروں سے بات کرنا پڑتی ہے۔ اسے اصولی سیاست کہا جائے یا سیاسی مصلحت، یہ فیصلہ اتحاد کے نام سے نہیں بلکہ اس کے مقصد، شرائط، طرزِعمل اور نتائج سے ہونا چاہیے۔
پاکستان میں سیاسی اتحادوں کی تاریخ مولانا فضل الرحمٰن سے بہت پہلے شروع ہوچکی تھی۔ 1954ء میں مشرقی پاکستان کے متحدہ محاذ میں بنگالی قوم پرست، مذہبی اور ترقی پسند جماعتیں مسلم لیگ کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئیں۔ 1965ء کے صدارتی انتخاب میں جماعت اسلامی، عوامی لیگ، نیشنل عوامی پارٹی، کونسل مسلم لیگ اور نظامِ اسلام پارٹی نے فاطمہ جناح کی حمایت کی۔ یہ جماعتیں نہ ایک نظریے کی حامل تھیں، نہ ان کا سیاسی مزاج یکساں تھا، مگر ایوب خان کے صدارتی نظام کے مقابلے میں ان کا مقصد مشترک تھا۔ جماعت اسلامی نے اس موقع پر عورت کی سربراہی سے متعلق اپنے سابق فقہی موقف کی ایسی تعبیر اختیار کی جو سیاسی ضرورت اور آمریت کے مقابلے میں فاطمہ جناح کی حمایت کی گنجائش پیدا کرتی تھی۔ اگر اس فیصلے کو آمریت کے خلاف سیاسی حکمت قرار دیا جاسکتا ہے تو آج دو مخالف جماعتوں کے پارلیمانی تعاون کو محض بے اصولی کہنا کس طرح منصفانہ ہوگا؟
1972ء میں سیکولر اور قوم پرست نیشنل عوامی پارٹی نے جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ مل کر سرحد اور بلوچستان میں حکومتیں بنائیں۔ مفتی محمود سرحد کے وزیراعلیٰ ہوئے اور بلوچستان میں بھی دونوں جماعتیں شریک اقتدار رہیں۔ چند برس بعد جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، جمعیت علمائے پاکستان، مسلم لیگ، اصغر خان کی تحریک استقلال، ولی خان کی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی اور دوسری جماعتیں پاکستان قومی اتحاد میں اکٹھی ہوگئیں۔ مذہبی، سیکولر، قوم پرست اور مسلم لیگی قوتیں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ایک ہی انتخابی نشان اور پروگرام کے تحت میدان میں اتریں۔ پھر وقت بدلا تو بھٹو کی مخالف جمعیت علمائے اسلام، پیپلز پارٹی اور دوسری جماعتوں کے ساتھ جنرل ضیاء الحق کے خلاف تحریک بحالیِ جمہوریت کا حصہ بن گئی۔ اگر سابق حریفوں کا مل بیٹھنا بذاتِ خود جرم ہے تو ہماری نصف جمہوری تاریخ اسی جرم سے عبارت ہے۔
جماعت اسلامی کا اپنا سیاسی سفر بھی اتحادوں سے خالی نہیں۔ وہ فاطمہ جناح اور عوامی لیگ کے ساتھ مشترکہ حزبِ اختلاف میں رہی، ولی خان اور اصغر خان کے ساتھ پاکستان قومی اتحاد میں بیٹھی، مسلم لیگ کے ساتھ اسلامی جمہوری اتحاد بنایا، جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ متحدہ مجلس عمل قائم کی، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے ساتھ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ میں شریک ہوئی اور 2013ء کے بعد خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی مخلوط حکومت کا حصہ بنی۔ ان میں سے ہر جماعت کا نظریہ، تاریخ اور سیاسی مزاج جماعت اسلامی سے مختلف تھا۔ اس لیے اگر جماعت اسلامی کے ان فیصلوں کو حالات کے مطابق سیاسی حکمت کہا جاتا ہے تو یہی اصول دوسروں پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی تاریخ تو اس سے بھی زیادہ سبق آموز ہے۔ نوّے کی دہائی میں دونوں ایک دوسرے کی حکومتیں ختم کرانے، مقدمات قائم کرنے اور قیادت کو سیاسی طور پر بے دخل کرنے میں مصروف رہیں، مگر مشرف دور میں میثاقِ جمہوریت پر متفق ہوگئیں۔ 2008ء میں دونوں نے مشترکہ وفاقی حکومت بنائی۔ پھر اختلاف ہوا تو مسلم لیگ ن الگ ہوگئی اور پیپلز پارٹی نے اسی مسلم لیگ ق کو حکومت میں شامل کرلیا جسے اس کی قیادت کبھی ’’قاتل لیگ‘‘ کہتی تھی۔ 2020ء میں دونوں جمعیت علمائے اسلام، اے این پی اور قوم پرست جماعتوں کے ساتھ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں اکٹھی ہوئیں، 2022ء میں مشترکہ حکومت بنائی اور 2024ء کے انتخابات کے بعد ایک مرتبہ پھر اقتدار کا بندوبست قائم کیا۔ اگر یہ سب جمہوری ضرورت، قومی مفاد یا منقسم مینڈیٹ کا تقاضا تھا تو پھر جمعیت اور تحریک انصاف کے پارلیمانی تعاون کے لیے کوئی الگ اخلاقی پیمانہ کیوں مقرر کیا جائے؟
ایم کیو ایم شاید ہماری اتحادی سیاست کی سب سے واضح مثال ہے۔ اس نے 1988ء میں پیپلز پارٹی، 1990ء اور 1997ء میں مسلم لیگ، مشرف دور میں مسلم لیگ ق، 2008ء میں دوبارہ پیپلز پارٹی، 2018ء میں تحریک انصاف اور 2022ء کے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اتحاد کا ساتھ دیا۔ آفتاب شیرپاؤ کی جماعت کبھی پیپلز پارٹی کا حصہ تھی، پھر مشرف اور مسلم لیگ ق کی حکومت میں شریک ہوئی اور بعد میں تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت میں شامل، خارج اور پھر دوبارہ شامل ہوئی۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی مسلم لیگ ن اور نیشنل پارٹی کے ساتھ بلوچستان کی حکومت میں شریک رہی، پھر PDM کا حصہ بنی اور اب تحریک انصاف کے ساتھ تحریک تحفظ آئین میں کھڑی ہے۔ اے این پی پیپلز پارٹی، جمعیت، مسلم لیگ ن اور دوسری قوم پرست جماعتوں کے ساتھ مختلف ادوار میں تعاون کرتی رہی ہے۔ یہ سب تاریخ ہے، کسی ایک جماعت کے خلاف مرتب کیا گیا فردِ جرم نہیں۔
خود تحریک انصاف نے بھی 2018ء میں تنہا حکومت نہیں بنائی تھی۔ مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم، بلوچستان عوامی پارٹی، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل، عوامی مسلم لیگ، جمہوری وطن پارٹی اور آزاد ارکان اس کے اقتدار کا سہارا بنے۔ 2013ء میں اس نے جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی کے ساتھ خیبر پختونخوا میں حکومت بنائی تھی۔ 2024ء کے بعد اس نے مخصوص نشستوں اور پارلیمانی نمائندگی کے لیے مجلس وحدت مسلمین اور سنی اتحاد کونسل سے تعاون کیا، محمود خان اچکزئی کو صدارتی امیدوار بنایا اور تحریک تحفظ آئین پاکستان میں مذہبی، قوم پرست اور علاقائی جماعتوں کو ساتھ لیا۔ اب اگر وہ جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ مشترکہ اپوزیشن کی طرف بڑھ رہی ہے تو یہ اس کے اپنے سابق سیاسی طرزِعمل سے کوئی بالکل اجنبی بات نہیں۔
یقیناً مولانا فضل الرحمٰن اور عمران خان کے درمیان اختلاف محض انتخابی نہیں رہا۔ دونوں جانب سے سخت زبان استعمال ہوئی، ذاتی نوعیت کے الزامات لگے اور کارکنوں کے درمیان فاصلے پیدا کیے گئے۔ اس تلخ ماضی کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ دونوں جماعتوں کی قیادت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ واضح کرے کہ نیا تعاون کن متعین آئینی اور پارلیمانی نکات تک محدود ہوگا، ماضی کی زبان پر کوئی نظرثانی ہوگی یا نہیں، اور کیا یہ اتحاد محض حکومت کو دباؤ میں لانے کے لیے ہے یا واقعی پارلیمان، آئین، شفاف انتخابات اور قانون کی بالادستی کے لیے کوئی مشترکہ پروگرام رکھتا ہے۔ تنقید اس بنیاد پر ہونی چاہیے، صرف اس بات پر نہیں کہ کل کے مخالف آج ایک میز پر کیوں بیٹھ گئے۔
یہ بھی یاد رہے کہ اگست 2026ء میں جمعیت علمائے اسلام اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت نے ابھی مشترکہ اپوزیشن کے قیام پر اصولی اتفاق کیا ہے۔ اسے فوری طور پر مستقل نظریاتی اتحاد یا انتخابی انضمام قرار دینا درست نہیں۔ سیاست میں گفتگو کے دروازے کھولنا خود کوئی عیب نہیں؛ اصل امتحان یہ ہے کہ اس گفتگو سے کیا برآمد ہوتا ہے۔ اگر نتیجہ صرف عہدوں، نشستوں اور آئندہ اقتدار کی تقسیم تک محدود رہا تو موقع پرستی کی تنقید بجا ہوگی، لیکن اگر یہ تعاون آئینی بالادستی، آزاد انتخابات، پارلیمان کے احترام اور سیاسی کشیدگی میں کمی کا ذریعہ بنتا ہے تو اسے محض ماضی کی مخالفت کی بنیاد پر رد کرنا بھی دانش مندی نہیں ہوگی۔
ہماری سیاسی جماعتوں اور ان کے کارکنوں کا اصل مسئلہ اتحاد نہیں بلکہ کمزور سیاسی حافظہ ہے۔ اپنی جماعت کا اتحاد حکمت، قومی مفاد اور جمہوری ضرورت کہلاتا ہے، مگر مخالف کا اتحاد مفاد پرستی اور بے اصولی بن جاتا ہے۔ اصول اگر واقعی اصول ہے تو سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔ جمعیت اور تحریک انصاف سے ضرور پوچھا جائے کہ وہ کیوں قریب آرہی ہیں، کس مقصد کے لیے آرہی ہیں اور قوم کو کیا دینا چاہتی ہیں؛ مگر سوال اٹھانے سے پہلے جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، تحریک انصاف، اے این پی، ایم کیو ایم، قومی وطن پارٹی اور قوم پرست جماعتوں کے کارکن ایک مرتبہ اپنی اپنی سیاسی تاریخ کا ورق بھی الٹ لیں۔ ممکن ہے اعتراض کی شدت کچھ کم اور سیاست کی حقیقت کچھ زیادہ سمجھ میں آجائے۔


