ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو
کہ ہم کو تتلیوں کے
جگنوؤں کے دیس جانا ہے
ہمیں رنگوں کے جگنو
روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہیں
نئے دن کی مسافت
رنگ میں ڈوبی ہوا کے ساتھ
کھڑکی سے بلاتی ہے
ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو
ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو
کبھی ہم خوبصورت تھے!!
پمز ہسپتال سانحے میں چودہ سوختہ جاں ننھے لاشے جن میں کچھ تتلیاں کچھ جگنو تھے ، ماتھے پہ بِنا بوسہ لیے منوں مٹی تلے جا سوئے ، جہاں یہ نوزائیدہ بچے سوختہ ہوئے وہاں ماں باپ کے خواب بھی خاکستر ہو گئے ۔ سپنے بُنتی ماؤ ں کی یہ وہ کلیاں تھیں جنہیں گلاب بن کے آنگن میں مہکنا تھا گھر کی وہ رونقیں تھیں جنہیں دیکھ کر باپ کے کلیجوں میں ٹھنڈک پڑنا تھیں ۔
چودہ نومولود بچے…چودہ ننھی جانیں…چودہ گھرانوں کی امیدیں…چودہ ماؤں کی گودیں… پل بھر میں اُجڑ گئیں۔ ماں باپ نوحہ کناں ہیں کہ
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
یہ بچے دنیا میں آئے ہی کتنے دن تھے؟کسی نے ابھی ماں کی انگلی پوری طرح تھامی بھی نہ تھی۔کسی نے ابھی باپ کی آواز پہچانی بھی نہ تھی۔کسی کے لیے گھر میں کپڑے خریدے جا رہے تھے، کسی کے نام پر بحث ہو رہی تھی، کسی کی آمد پر مٹھائی بانٹنے کا ارادہ تھا۔
مگر حکومتی و انتظامی نااہلی نے ان ننھی کلیوں کو کھلنے کی مہلت ہی نہ دی۔
اور سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ بچے کسی خطرناک مقام پر نہیں تھے۔یہ تو ہسپتال کی نرسری میں تھے۔وہ جگہ جہاں والدین اپنے بچوں کو اس یقین کے ساتھ چھوڑتے ہیں کہ یہاں ان کی سانسیں محفوظ ہیں ،جہاں مشینیں زندگی کی حفاظت کے لیے ہیں۔جہاں ڈاکٹر اور نرسیں زندگی کی نگرانی کرتے ہیں،جہاں انکیوبیٹر بچے کو دنیا کی سختیوں سے بچانے کے لیے ہوتے ہیں ۔
مگر اسی جگہ آگ بھڑکی اور زندگی کے سب سے نازک چراغ ایک ایک کرکے بجھ گئے۔ یہ صرف آگ نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت ہے اور یہ بچے قتل ہوئے ہیں۔ہمیں اس واقعے کو صرف ایک حادثہ کہہ کر آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔حادثہ وہ ہوتا ہے جسے روکنا ممکن نہ ہو۔لیکن اگر کسی حادثے کے پیچھے حفاظتی انتظامات کی کمی، ناقص نظام، غفلت، غیر مؤثر ہنگامی منصوبہ بندی یا انتظامی کوتاہی کا سوال کھڑا ہو جائے تو پھر معاملہ صرف حادثہ نہیں رہتا۔
اتنے بڑے حادثے کے بعد شرمندگی تو چھوڑیں احساسِ ندامت بھی نہیں ، ہسپتال کا عملہ کدھر غائب تھا ۔آگ بھڑکتے ہی مائیں نوحہ کناں تھیں مگر ان کی مدد اور داد رسی کرنے والا کوئی نہ تھا پھر سوال پیدا ہوتا ہےکیا یہ بچے واقعی مرنے کے لیے چھوڑ دیے گئے تھے؟ اب اصل سوال یہی ہے کہ ہسپتال میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات کہاں تھے؟ایمرجنسی ایگزٹ کہاں تھے؟فائر سیفٹی سسٹم کہاں تھا؟بچوں کو چند منٹوں میں محفوظ مقام تک منتقل کرنے کا منصوبہ کہاں تھا؟ اور سب سے بڑھ کر…اگر یہ سب موجود تھا تو چودہ بچے کیوں نہ بچ سکے؟ ظالمو!ماؤں سے ان کے بچے کیوں چھن گئے؟
“میرا بچہ کیوں نہ بچ سکا؟”اس سوال کا جواب محض تعزیتی بیان نہیں ہو سکتا۔ اس سوال کا جواب انصاف ہونا چاہیے۔ہماری عادت بن چکی ہے،اس ملک میں سانحہ ہوتا ہے۔بیانات آتے ہیں، افسوس کیا جاتا ہے۔تحقیقاتی کمیٹی بنتی ہے۔ذمہ داروں کے تعین کا اعلان ہوتا ہے۔کچھ دن شور رہتا ہے۔پھر زندگی معمول پر آ جاتی ہےاور اگلے حادثے کے لیے وہی پرانا نظام دوبارہ تیار کھڑا ہوتا ہے۔ہم حادثوں کے بعد جاگنے والی قوم بنتے جا رہے ہیں۔حالانکہ اصل امتحان حادثے سے پہلے جاگنے کا ہوتا ہے۔
یہ پہلی بار بھی نہیں کہ پاکستان میں ہسپتال کی آگ نے نومولود بچوں کو نگل لیا ہو۔ 2024 میں ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں بھی آگ سے 11 شیر خوار بچوں کی جانیں گئی تھیں۔ سوال پورے نظام کا ہے۔ چودہ بچے ہمیں پکار رہے ہیں شاید وہ ننھے فرشتے آج ہم سے پوچھ رہے ہوں “ہمیں دنیا میں آنے کی سزا کیوں ملی؟” چودہ معصوم چہرے…چودہ بجھے ہوئے چراغ…اور ایک سوال”کیا ہماری جان کی کوئی قیمت تھی ؟” اس سوال کا جواب اب الفاظ سے نہیں عملی اقدامات سے دینے ہوں گے “یہ صرف آگ نہیں تھی ” ، چند اور جملے… جو شاید ضمیر کو جھنجھوڑ دیں، کاش !!
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم صرف آنسو بہا کر آگے بڑھ جائیں؛ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان آنسوؤں کو احتساب کا سوال بنا دیں۔ اگر تحقیق میں غفلت ثابت ہو تو ذمہ دار چاہے کتنا ہی بڑا عہدہ رکھتا ہو، اسے قانون کے کٹہرے تک پہنچنا چاہیے۔اگر ایسا نہ ہوا تو منیر نیازی کی زبان میں یہ کہنا پڑے گا
کُجھ شہر دے لوک وی ظالم سن
کُجھ ساہنوں مرن دا شوق وی سی


