حادثے اکثر اچانک نہیں ہوتے، ان کے بیج ہماری بے احتیاطی اور خاموشی میں پہلے ہی بوئے جا چکے ہوتے ہیں۔ آگ کہیں ایک کمرے سے اٹھتی ہے، دھواں چند لمحوں میں پھیلتا ہے اور چند معصوم زندگیاں ہمیشہ کے لیے بجھ جاتی ہیں، مگر اصل نقصان وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں ہم اس واقعے کو محض ایک سانحہ سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ پمز اسلام آباد کے حساس وارڈ میں چودہ بچوں کی ہلاکت نے ایک بار پھر ہمارے سامنے وہ حقیقت لا کھڑی کی ہے جس سے ہم برسوں سے نظریں چرا رہے ہیں۔ ہمارے ہاں جان بچانے والے ادارے کبھی کبھی خود زندگی کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔ یہ تضاد محض انتظامی کمزوری نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی نظام کی ترجیحات کا آئینہ ہے۔
ایک ہسپتال میں مریض علاج کے لیے آتا ہے اور اپنے ساتھ ایک خاموش اعتماد بھی لاتا ہے۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ ڈاکٹر اس کی بیماری کا علاج کرے گا، نرس اس کی دیکھ بھال کرے گی اور ادارہ اسے محفوظ ماحول فراہم کرے گا۔ خاص طور پر نومولود اور انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں موجود بچے اپنی حفاظت کے لیے مکمل طور پر دوسروں کے محتاج ہوتے ہیں۔ وہ آگ دیکھ کر دروازے کی طرف نہیں بھاگ سکتے، خطرہ محسوس کرکے مدد کے لیے پکار نہیں سکتے اور اپنی جان بچانے کا فیصلہ خود نہیں کر سکتے۔ ان کی حفاظت ایک ادارے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر ایسے بچے کسی تکنیکی خرابی، ناقص نگرانی یا حفاظتی انتظامات کی ناکامی کی نذر ہوجائیں تو اسے صرف بدقسمتی کہنا شاید بدقسمتی کی بھی توہین ہے۔
ہماری قومی عادت عجیب ہے۔ کسی سرکاری عمارت میں رنگ و روغن ہوجائے، نئی تختی لگ جائے، چند بستروں کا اضافہ ہوجائے یا کسی اہم شخصیت کا دورہ ہوجائے تو ہم اسے کارکردگی کی علامت سمجھ لیتے ہیں۔ لیکن کسی ادارے کی اصل کارکردگی اس وقت سامنے آتی ہے جب بحران اچانک دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو۔ کیا ہمارے ہسپتال اس لمحے کے لیے تیار ہیں؟ کیا عملہ جانتا ہے کہ آگ لگنے کی صورت میں کس مریض کو پہلے نکالنا ہے؟ کیا بجلی کے نظام کی باقاعدہ جانچ ہوتی ہے؟ کیا فائر الارم صرف دیوار پر نصب ایک آلہ ہے یا واقعی کام کرنے والی حفاظتی زنجیر کا حصہ ہے؟ کیا ایمرجنسی راستے ہر وقت کھلے رہتے ہیں یا روزمرہ کے سامان نے انہیں بھی گودام بنا رکھا ہے؟
یہ سوال صرف ایک ہسپتال کی انتظامیہ سے نہیں بلکہ پورے نظام سے ہے۔ ہمارے ہاں معائنہ اکثر ظاہری چیزوں تک محدود رہتا ہے۔ صفائی دیکھی جاتی ہے، حاضری دیکھی جاتی ہے، ادویات کا ریکارڈ دیکھا جاتا ہے، مگر وہ تاریں، جنریٹر، آکسیجن لائنیں، وینٹی لیشن سسٹم، لفٹس اور فائر سیفٹی کے آلات جو کسی بحران میں زندگی اور موت کے درمیان آخری دیوار بن سکتے ہیں، ان کی حالت کتنی سنجیدگی سے جانچی جاتی ہے؟ کسی مشین کا چلتے رہنا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ محفوظ بھی ہے۔ پرانی مشینری اکثر خاموشی سے خطرہ جمع کرتی رہتی ہے اور پھر ایک دن معمولی خرابی کو بڑے سانحے میں بدل دیتی ہے۔
اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ ہماری انتظامی نفسیات بھی ہے۔ ہم پیشگی احتیاط کے بجائے بعد از حادثہ کارروائی پر زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ خطرہ موجود ہو تو فائل بنتی ہے، شکایت آتی ہے، نوٹ لکھا جاتا ہے، پھر معاملہ ایک میز سے دوسری میز تک سفر کرتا رہتا ہے۔ جب حادثہ ہوجاتا ہے تو اچانک سب کو معلوم ہوجاتا ہے کہ مسئلہ موجود تھا۔ پھر انکوائری کمیٹی بنتی ہے، بیانات لیے جاتے ہیں، ذمہ داروں کا تعین کرنے کی بات ہوتی ہے اور کچھ عرصے بعد عوام کی توجہ کسی دوسرے واقعے کی طرف منتقل ہوجاتی ہے۔ یوں نظام اپنے بنیادی سوال سے بچ نکلتا ہے۔ حادثہ کیوں ہونے دیا گیا؟
سب سے زیادہ خطرناک رویہ وہ ہے جس میں غفلت کو معمول سمجھ لیا جائے۔ ایک خراب اے سی کو معمولی خرابی سمجھا جاتا ہے، ایک کمزور تار کو وقتی مسئلہ کہا جاتا ہے، ایک غیر فعال الارم کو بعد میں درست کرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے اور ایک بند ایمرجنسی راستے کو روزمرہ کی مجبوری کا نام دے دیا جاتا ہے۔ مگر حادثات کسی ایک بڑی غلطی سے ہمیشہ جنم نہیں لیتے۔ کئی چھوٹی غفلتیں مل کر ایک بڑی تباہی کا راستہ بناتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حفاظتی نظام میں معمولی کوتاہی بھی معمولی نہیں ہوتی۔
اس سانحے کا ایک اور تلخ پہلو ہماری اجتماعی بے حسی ہے۔ ہم حادثے کی خبر پڑھتے ہیں، چند لمحوں کے لیے دل گرفتہ ہوتے ہیں، تعزیتی جملے لکھتے ہیں اور پھر زندگی اپنی رفتار سے چلنے لگتی ہے۔ شاید اس لیے کہ ہم نے موت کو بھی خبروں کی ایک قسم سمجھ لیا ہے۔ روزانہ نئی لاش، نیا حادثہ، نئی تحقیق اور نیا بیان ہماری آنکھوں کے سامنے سے گزرتا ہے۔ رفتہ رفتہ حساسیت کم ہوتی جاتی ہے۔ جو واقعہ کل ناقابل برداشت محسوس ہوتا تھا، آج چند گھنٹوں کی خبر بن کر رہ جاتا ہے۔ یہی بے حسی نظام کو بے خوف بناتی ہے، کیونکہ جب معاشرہ مسلسل سوال کرنا چھوڑ دے تو اداروں پر جواب دہ ہونے کا دباؤ بھی کم ہوجاتا ہے۔
یہاں مذہبی اور اخلاقی تصور کو بھی درست تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ تقدیر پر ایمان انسان کو صبر دیتا ہے، لیکن تقدیر کو انسانی غفلت کا پردہ بنا دینا نہ اخلاقی طور پر درست ہے اور نہ عقلی طور پر۔ اگر ایک عمارت میں حفاظتی انتظامات ناکافی ہوں، خطرات کی نشاندہی پہلے سے موجود ہو اور ذمہ دار لوگ انہیں دور نہ کریں تو بعد میں ہر چیز کو قسمت کے کھاتے میں ڈال دینا دراصل ذمہ داری سے فرار ہے۔ صبر کا مطلب یہ نہیں کہ سوال ختم کردیے جائیں۔ دکھ کا احترام یہ بھی تقاضا کرتا ہے کہ اس کے اسباب تلاش کیے جائیں تاکہ وہی دکھ کسی دوسرے گھر کا مقدر نہ بنے۔
ہمیں حادثات کے بعد صرف مجرم نہیں ڈھونڈنے، ہمیں نظام کی کمزوریاں بھی تلاش کرنی ہیں۔ بڑے ہسپتالوں کا آزادانہ حفاظتی آڈٹ مستقل بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ فائر سیفٹی، بجلی، گیس، آکسیجن، جنریٹر، لفٹس، ایمرجنسی راستے، حساس طبی آلات اور عمارت کے بنیادی ڈھانچے کی باقاعدہ جانچ ہونی چاہیے۔ جو آلات اپنی محفوظ عمر پوری کرچکے ہوں انہیں محض اس وجہ سے نہ چلایا جائے کہ بجٹ دستیاب نہیں۔ بجٹ کی کمی اپنی جگہ حقیقت ہوسکتی ہے، مگر انسانی جان کی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ وسائل کی کمی شاید ایک مجبوری ہو، مگر غلط ترجیحات کسی مجبوری کا نام نہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ طبی عملے کی تربیت بھی ضروری ہے۔ صرف ڈاکٹر اور نرسیں ہی نہیں بلکہ سیکیورٹی گارڈ، ٹیکنیکل عملہ، صفائی کارکن اور انتظامی ملازمین بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تربیت رکھتے ہوں۔ فائر ڈرل کاغذ پر مکمل ہونے والی کارروائی نہیں ہونی چاہیے بلکہ ایسی مشق ہونی چاہیے جو حقیقی بحران میں انسانی جانیں بچانے کی صلاحیت پیدا کرے۔ کیونکہ سانحے کے لمحے میں حکم نامے نہیں، تربیت کام آتی ہے۔
چودہ بچوں کی موت کو اگر ہم صرف ایک افسوسناک واقعہ سمجھ کر بھول گئے تو شاید ہم نے ان بچوں کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی کی۔ ان کی یاد کا حقیقی احترام پھول چڑھانے سے زیادہ اس بات میں ہے کہ ان کی موت کسی اگلے سانحے کی تمہید نہ بنے۔ ہمیں ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں کسی خرابی کی اطلاع کو فائل کا معمول نہ سمجھا جائے، جہاں ذمہ داری عہدے کے ساتھ ختم نہ ہوجائے اور جہاں انکوائری کا مقصد صرف کسی ایک فرد کو قربانی کا بکرا بنانا نہیں بلکہ پورے حفاظتی ڈھانچے کو بہتر بنانا ہو۔
کسی بھی ریاست کی اصل پہچان اس کے بڑے منصوبوں، بلند عمارتوں اور خوبصورت افتتاحی تقریبات سے نہیں ہوتی۔ اس کی اصل شناخت یہ ہے کہ وہ اپنے سب سے کمزور شہری کو کتنا محفوظ رکھتی ہے۔ وہ بچہ جو ہسپتال کے بستر پر بے خبر سو رہا ہے، دراصل ریاست کے کردار کا سب سے خاموش امتحان ہے۔ اگر ہم اس امتحان میں ناکام ہوتے رہے اور ہر سانحے کے بعد چند آنسو بہا کر خود کو بری الذمہ سمجھتے رہے تو مسئلہ صرف یہ نہیں ہوگا کہ حادثے دوبارہ ہوں گے۔ اصل المیہ یہ ہوگا کہ ہم حادثات سے پہلے خطرہ دیکھنے کی اپنی صلاحیت کھو بیٹھیں گے۔ شاید ہمیں اپنے اداروں سے پہلے اپنی اجتماعی سوچ کا حفاظتی آڈٹ کرنا چاہیے، کیونکہ عمارتوں کی آگ بجھانا آسان ہے، مگر وہ بے حسی بجھانا بہت مشکل ہے جو انسانوں کو بار بار جلتے ہوئے دیکھ کر بھی خاموش رہنے کی عادت ڈال دے۔


