کھانوں کے جتن اور عمدہ پیرہن/ محمد کوکب جمیل ہاشمی

ہر انسان کے ساتھ فورفرنٹ پہ پیٹ لگا ہوا ہوتا ہے۔ پیٹ بھر کر کھانے والے جن کھاؤ پوت کے پیٹ ڈھول کی طرح پھولے ہوتے ہیں، وہ ناصرف بدہئت دکھائی دیتے ہیں بلکہ لوگ انہیں تھانیدار سے تشبیہ دینا شروع کر دیتے ہیں۔ وہ اگر ہنس پڑیں تو ان کا پورا جسم زلزلے میں جھولتی عمارت کی طرح لرزہ بر اندام ہونے لگتا ہے۔ کسی لقاط زدہ کانگڑی بدن، نحیف و نزار شخص کے پیٹ پر نگاہ ڈالی جاۓ تو وہ کمر سے چپکا دکھائی دیتا ہے۔ معلوم نہیں اس کی یہ حالت کھانے پینے میں کمی کی وجہ سے ہوتی ہے یا شائد وہ بیچارہ اسمارٹ رہنے کے خبط میں میتلا رہ کر ڈائٹنگ کا مارا ہوتا ہے۔ حیرت اس بات پہ ہوتی ہے کہ جو لوگ زیادہ ڈائٹ لیتے ہیں، وہ ہاضمے کی خرابی پر ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو ڈاکٹرز انہیں اوور ڈائٹ سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں۔ جبکہ جو لوگ اسمارث رہنے کے لئے ضرورتاً ڈائٹنگ کرتے کرتے کمزوری اور چکروں کے شکار ہو جاتے ہیں، ڈاکٹرز انہیں بھی اوور ڈائٹنگ سےمنع کرتے ہیں۔

جس کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہوتی اس کا برا حال ہوتا ہے شائد اسکے پاس پیسہ، نہ مال ہوتا ہے۔ اور وہ جو خوش خوراک اور خوش حال ہوتا ہے، وہ پیٹ کی گنجائش سے زیادہ کھاتا ہے اوریوں اس کی صحت کا زوال ہوتا ہے۔ ہم تھوڑا کھائیں یا زیادہ ، کھاۓ پئے بغیر رہ نہیں پاتے۔ کچھ کا خیال ہے کہ کھانا پینا بے تو جینا ہے۔ کھانے پینے سے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کھانا زندہ رہنے کے لئے ہوتا ہے، نہ کہ زندگی کھانے کے لئے ہوتی ہے۔۔ اچھا اور عمدہ کھانے پینے کی خواہش کرنا ہر ایک کا حق ہوتا ہے۔ لیکن یہ سچ ہے کہ اچھا کھانا پینا تو زیادہ تر پیسوں والوں کیلئے ہی تر نوالہ ہوتا ہے۔ وہ جتنا گڑ ڈالیں اتنا میٹھا ہوتا ہے، یا یوں کہہ لیں کہ اچھا اور چٹ پٹا کھانا اتنا زیادہ مہنگا ہوتا ہے جیسے دلہن کی زری والی ساڑھی اور یا چٹا پٹی کا لہنگا ہوتا ہے۔ اچھا کھانے پینے سے ہماری مراد عمدہ ، خوش ذائقہ اور لذت بھرے کھانے ہیں، جن کا کوئی مول نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود عمدہ کھانے کا معیار پر ایک کے لئے مختلف ہوتا ہے۔ اگر کسی کو بڑے پائے پسند نہ ہوں تو دعوت میں جتنے چاہے لوگ اس کی لذت کے گن گا رہے ہوں، وہ اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔ اسی طرح اگر حلیم میں مرچ مسالے ضرورت سے زیادہ پڑے ہوں تو اسے کھانے والے بار بار رومال سے مونہہ پونچھنے کے ساتھ ساتھ اس طرح سی سی کرتے اور آنسو بہاتے پاۓ جاتے ہیں کہ جیسے ان کے مونہہ کے ساتھ ساتھ آنکھوں میں بھی کسی نے مرچیں جھونک دی ہوں۔

اگر کھانا لذیذ، خوش ذائقہ اور مزیدار ہو تو کھانے والے کا ہاتھ کھانے سے نہیں رکتا۔ گاؤں ہو یا شہر اچھے کھانوں کا شوق رکھنے والے گھر گھر موجود ہوتے ہیں۔ جب بھی کسی کے گھرمیں پسندیدہ کھانوں کی تیاری ہوتی ہے، اسکی خبر وہاں وہاں تک پہنچ جاتی ہے جہاں تک پکوان کی مستانی خوشبو کی رسائی چلتی ہوا کے سنگ پہنچتی ہے۔
آج کے دور میں گھروں میں اچھے اور خوش ذائقہ کھانے بنانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس کے لئے ناصرف محنت درکار ہوتی ہے بلکہ ماؤں کی طرف سے سکھائی گئی تراکیب اور تجربہ کاری کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ اب اکثر بچیاں گھروں میں کھانا پنانے کے تکلف میں نہیں پڑتیں۔ وہ یا تو ٹی وی اور موبائل فون پر بتائی گئی ریسیپیز پر انحصار کرتی ہیں یا کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھتی ہوں تو باہر سے آرڈر پر کھانا منگوا لیتی ہیں۔ جہاں تک لذت و ذائقے کی بات ہے، اس میں دو باتوں کا دخل ہوتا ہے، ایک مسالے وغیرہ کی صحیح مقدار اور دوسرے ہاتھ کی مہارت کا۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے کہ جس کے ہاتھ میں دولت کی لکیر ہوتی ہے، وہ مٹی میں بھی ہاتھ ڈالہں وہاں سے سونا نکل آتا ہے۔ اسی طرح کسی بچی یا خاتون کےہاتھ میں بھی ذائقے کی لکیر ہوتی ہے۔ وہ دال پکائیں یا بھاجی، ان کے ذائقے کی وجہ سے، سسرال میں ان کی دال اچھی گلتی ہے، کہ کھانے والے انگلیاں چاٹتے رہ جاتے ہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ زیادہ تر عمر رسیدہ، جہندیدہ، آزمودہ کار، سرد و گرم چشیدہ خواتین اچھے کھانے بنانے میں مہارت رکھتی ہیں۔ مگر یہ بات بھی پتھر پہ لکیر نہیں۔ بلکہ وہ خواتین جنہوں نے ” گو تھم ” یا کسی اور اچھی انسٹیٹیوٹ سے تعلیم حاصل کی ہو یا وہ جہاندیدہ ماں کی دختر نیک اختر ہوتی ہیں یا دونوں خصوصیات یکجا رکھتی ہوں تو انکے بناۓ گئے کھانے دو آتشہ ہوتے ہیں جن کی دھوم صرف گلی محلے میں نہیں بلکہ شہر شہر اور ملک بھر میں ہوتی ہے۔ اللہ دے اور بندہ لے، خیر سے پختہ کار مرد حضرات بھی کھانوں کی دنیا کے تاجدار ہوتے ہیں۔ جن کے دم سے شادی بیاہ کے لذیذ اوردم پخت کھابے کھانے کو ملتے ہیں۔ پورے ملک میں فوڈ اسٹریٹس اور حلوائیوں کی دکانوں کی رونقیں ان کے دم سے قائم ہیں۔ کراچی کے نہاری سنٹرز، لاہور کے پھجے کے پائے اور مردان کے چپلی کباب ان ہی مردان باورچیاں کے مرہون منت ہیں۔ البتہ گھروں میں مرد کھانا پکاتے بالکل نہیں جچتے گھر میں تین ب یعنی بیگم، بہن اور بھاوج کے ہوتے ہوۓ رسوئی میں مرد کی رسائی کچھ اس لئے بھی اچھی نہیں لگتی کہ ان کی دیکھا دیکھی میں دوسری بیگمات بھی اپنے مردوں کو غیرت دلاتی ہیں۔ ویسے دیکھنے میں آتا ہے کہ گھر کا مرد کتنے ہی جتن سے کھانے بنا دے، مروت میں آ کر صرف گھر والے ہی کھانے کی تعریف کرتے ہیں۔

کسی ہاتھ میں بہت مزیدار اور لذت بھرے کھانوں کا ذائقہ ہوتا ہے۔ کچھ گھروں کی خواتین کے ہاتھ میں واقعی بلا کا ذائقہ ہوتا ہے یا انہیں کچھ مخصوص اور لذیذ کھانے تیار کرنے میں خصوصی مہارت ہوتی ہے۔
ہمارے دہہی علاقوں میں بھی اپنی طرز کے روائتی کھانوں کا چرچا بہت ہوتا ہے۔ اگر خصوصی طور پر زیادہ لوگ مدعو کر لیئے جائیں تو میزبان کا بہت خرچا ہوتا ہے۔ مثلاً کسی گاؤں میں پک رہا ہو سرسوں کا ساگ تو خبر یوں پھیل جاتی ہے جیسے ہو جنگل کی آگ، لوگ چھوڑ کے کام کاج پہنچ جاتے ہیں بھاگم بھاگ۔ دہی کی لسی اور مکھن، مکئی کی روٹی، گڑ والے چاول اور گنے کے رس کی کھیر بھی کھانے کا حصہ ہوتی ہیں، جنہیں چٹخارے لیکر کھایا جاتا ہے۔ یہ کھانے خاص موقعوں کے علاؤہ معمول کے مطابق بھی گھروں میں بڑے جتن کے ساتھ تیار کئے جاتے ہیں۔ ضیافتوں اور دعوتوں میں جانے والے شوقین کچھ لوگ اس بات کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ انکے بس دو ہی شوق ہیں، ایک عمدہ و خوش ذائقہ کھانے، اور دوسرا عمدہ اور بہترین لباس۔

اپنا تبصرہ لکھیں