یار زندہ، ٹھرک باقی/ سعد مکی شاہ

ٹھرک کبھی مرتی تو نہیں ہے مگر ایک عرصے بعد اس میں بوجوہ کسی حد تک توازن، اعتدال اور ٹھہراؤ آ جاتا ہے۔ اس موضوع پر ایک طویل مضمون تو ضرور باندھوں گا مگر ابھی۔۔۔

دور رہ کر پکارتی ہے
وہ آنکھ کتنی شرارتی ہے

تمہارے ہونٹوں میں رس بہت ہے
کہ جس کا قطرہ بھی بس بہت ہے

لڑکپن کے زمانے کے یہ دو اشعار کبھی کسی کو سنانے، بتانے کی ہمت نہیں پڑی۔ وجہ یہ کہ فطری شرمیلا پن آڑے آ جاتا اور کچھ صنفِ نازک کا احترام بھی در آتا۔

اپنی محدود زندگی میں کم و بیش پینتیس چھتیس سچے عشق سرزد ہوئے۔
مگر بقول مادام کاجول دیوگن “کبھی تم نہیں تھے، کبھی ہم نہیں تھے”۔

یقین کیجیے پارسائی کے اس چکر اور بھرم میں ہم واقعتاً پارسا ہی رہ گئے۔

ایک اور ناقابلِ یقین، حیرت انگیز اور دلچسپ و بیباک حقیقت بھی آپ کو بتاتے چلیں۔ لڑکپن اور جوانی میں ہم کافی قبول صورت واقع ہوئے اور بہت سی ناکتخدائیں اور غیر ناکتخدائیں ہماری جانب گرمجوشی سے ملتفت ہوئیں مگر برا ہو اس “دخترِ عناب” کا کہ وہ اس معاملے میں ہمیشہ “سدِ سکندری” بن کر آڑے آئی۔

لوگ کہتے ہیں کہ یہ “دخترِ بد اختر” پارسائی کے چیتھڑے اڑا کر رکھ دیتی ہے مگر ہماری نسبت معاملہ اور نتائج الٹ سلٹ دیے اس نے۔

انگنت بار اس نے ہمیں “لبِ بام” یا “لبِ شیریں کہہ لیں” سے دو چار ہاتھ ہی کے فاصلے سے پس قدمی پر لوٹایا۔

وہ ملتفت ہستیاں، ایک منہ پھٹ، زبان دراز اور کثیر الکلام، عادی بسیار نوش سے ڈر کر، سہم کر پس قدم ہوئیں اور فدوی کی پارسائی برقرار رہی۔

لوگ بسیار نوشی کے ساتھ نوشی کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں مگر یقین مانئے بندہ کے حصے میں فقط بسیار نوشی ہی رہی۔

ایران میں ایک خاتون کافی التفات کا مظاہرہ فرماتی رہیں اور میں فطری شرم و احترام کا۔۔۔
تب تک مجھے ایران میں آتش گیر مواد تک رسائی نہیں ہوئی تھی۔ جیسے ہی دستیاب ہوئی، غٹکائی، فطری شرم و احترام کو رخصت پر بھیج کر اظہارِ مدعا کیا۔ موصوفہ کو شریف، سادہ، شرمیلا بندہ درکار تھا۔ بدک گئیں۔۔۔ اور فلیٹ کا یومیہ کرایہ بھی عین اسی لمحے بڑھا دیا۔ مکان مالکن تھیں۔

خیر۔۔۔ بسیار نوشی ترک کر دی ہے مگر۔۔۔ اب بھی۔۔۔
پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں۔۔۔

ہندی فلم “تم بن” پچاسیوں بار دیکھ چکا ہوں، اب بھی دیکھتا ہوں۔ جگجیت سنگھ کی آواز میں
“کوئی فریاد تیرے دل میں دبی ہو جیسے” بار بار سنتا ہوں۔

مشاہداتِ ایران میں بھی اپنی اس مبینہ “پارسائی کے دکھ” مختصراً بیان کیے ہیں، مذکورہ بالا واقعہ شاید نہیں لکھ سکا۔

آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے “مشاہداتِ ایران” کے لیے ویڈیو اشتہار بنوایا ہے۔ دس میں سے ایک دوشیزہ کا مصنوعی چہرہ منتخب کر کے ویڈیو بنوائی ہے۔ صبح سے اب تک ڈیڑھ سو بار تو یہ ویڈیو ہی دیکھ چکا ہوں۔ یعنی مصنوعی دوشیزہ پر بھی ٹھرک۔۔۔

درست بات ہے کہ۔۔۔ اور بھی غم ضرور ہیں اس پارسائی کے دکھ کے سوا، مگر دنیا میں باقی سارے کرتوت جو کیے ہیں۔۔۔ آخرت میں بھی۔۔۔ کچھ نہیں لبھنا۔۔۔ اور یہ ایک اور دکھ ہے۔

بہرکیف۔۔۔ یار زندہ۔۔۔ ٹھرک باقی

اپنا تبصرہ لکھیں