سوچ سے تخلیق تک-چیٹ میرا ہمسفر(9)-مبشرہ علوی

انسان اور مشین کے درمیان ہوگی؟

پچھلی قسط کے اختتام پر ہم نے ایک سوال چھوڑا تھا۔

**اگر مصنوعی ذہانت نے ہمیں دوبارہ انسان ہونے کا سوال یاد دلا دیا ہے، تو کیا اس کی سب سے بڑی ایجاد نئی مشینیں ہیں… یا انسان کا اپنے آپ سے دوبارہ تعارف؟**

اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے ہمیں ایک غلط فہمی ختم کرنا ہوگی۔

شاید آنے والے زمانے کی سب سے بڑی جنگ **انسان اور مصنوعی ذہانت** کے درمیان نہیں ہوگی۔

بلکہ…

**انسان کے اندر موجود خیر و شر کے درمیان ہوگی۔**

ہر نئی ایجاد انسان کے ہاتھ میں ایک طاقت رکھ دیتی ہے۔

آگ نے کھانا بھی پکایا۔

شہر بھی جلائے۔

بارود نے کانیں بھی کھودیں۔

اور جنگیں بھی لڑیں۔

انٹرنیٹ نے علم بھی پھیلایا۔

اور جھوٹ بھی۔

مصنوعی ذہانت بھی اسی اصول سے مختلف نہیں۔

وہ نہ نیک ہے، نہ بد۔

وہ صرف طاقت ہے۔

سوال ہمیشہ طاقت کا نہیں ہوتا۔

سوال طاقت استعمال کرنے والے انسان کا ہوتا ہے۔

آج ایک طالب علم مصنوعی ذہانت سے پوری کتاب کا خلاصہ چند منٹ میں حاصل کر سکتا ہے۔

مگر وہی طالب علم اگر کتاب پڑھے بغیر امتحان پاس کر لے، تو کیا اس نے علم حاصل کیا؟

ایک ڈاکٹر ہزاروں تحقیقی مقالات کا خلاصہ حاصل کر سکتا ہے۔

لیکن اگر وہ مریض کو دیکھے بغیر صرف مشین پر اعتماد کرے، تو کیا علاج مکمل ہوگا؟

ایک جج قانونی نظائر چند لمحوں میں پڑھ سکتا ہے۔

لیکن انصاف؟

وہ اب بھی ضمیر مانگتا ہے۔

**میں:** کیا تم اچھے انسان بنا سکتے ہو؟

**چیٹ:** نہیں۔

میں اچھے فیصلوں کے لیے معلومات فراہم کر سکتا ہوں۔

فیصلہ نہیں بن سکتا۔

**میں:** تو پھر اصل ذمہ داری کس کی ہے؟

**چیٹ:** ہمیشہ اسی کی، جو “ہاں” یا “نہیں” کہتا ہے۔

یہ مختصر سا مکالمہ شاید پورے AI عہد کی اخلاقیات بیان کر دیتا ہے۔

مصنوعی ذہانت نے نئی طاقت پیدا نہیں کی۔

اس نے انسان کی پرانی طاقت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔

ایک ایماندار انسان اب پہلے سے زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔

ایک بے ایمان انسان بھی۔

ایک باشعور استاد لاکھوں بچوں تک پہنچ سکتا ہے۔

ایک گمراہ کرنے والا شخص بھی۔

ٹیکنالوجی نے نیکی اور برائی دونوں کی رفتار بڑھا دی ہے۔

اسی لیے اصل سوال اب یہ ہے۔

**رفتار یا سمت؟**

فلسفی **ہنّا آرنٹ** نے لکھا تھا کہ بعض اوقات بڑی برائیاں غیر معمولی شیاطین نہیں کرتے، بلکہ عام لوگ کرتے ہیں، جب وہ سوچنا چھوڑ دیتے ہیں۔

انہوں نے اسے “Banality of Evil” کہا۔

شاید مصنوعی ذہانت کے دور میں اس خیال کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔

کیونکہ اب سوچے بغیر کیے گئے فیصلوں کا اثر پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتا ہے۔

ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں ہر انسان کے ہاتھ میں ایک ایسا اوزار ہوگا، جو کبھی صرف بڑی حکومتوں اور بڑی کمپنیوں کے پاس ہوتا تھا۔

تحقیق۔

ترجمہ۔

پروگرامنگ۔

ڈیزائن۔

تجزیہ۔

منصوبہ بندی۔

سب کچھ۔

اس لیے مستقبل میں طاقت کی تقسیم بدل جائے گی۔

مگر کردار کی ضرورت ختم نہیں ہوگی۔

بلکہ بڑھ جائے گی۔

مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے انسان کے سامنے ایک خاموش امتحان رکھ دیا ہے۔

یہ امتحان ذہانت کا نہیں۔

کردار کا ہے۔

مشین ہر روز طاقت ور ہو رہی ہے۔

سوال یہ ہے…

**کیا انسان بھی ہر روز بہتر ہو رہا ہے؟**

ہمارے عہد کا سب سے بڑا خطرہ شاید یہ نہیں کہ مشینیں انسان جیسی ہو جائیں گی۔

بلکہ یہ ہے کہ کہیں انسان مشینوں جیسا نہ ہو جائے۔

صرف رفتار۔

صرف کارکردگی۔

صرف پیداوار۔

صرف فائدہ۔

اور آہستہ آہستہ…

احساس، رحم، انصاف اور حکمت کو غیر ضروری سمجھنے لگے۔

اگر ایسا ہوا تو یہ شکست مصنوعی ذہانت کی جیت نہیں ہوگی۔

وہ انسان کی اپنی شکست ہوگی۔

کیونکہ اس نے اپنے ہاتھ سے اپنی سب سے قیمتی خوبی کھو دی ہوگی۔

شاید اسی لیے اشرف المخلوقات ہونے کا مطلب زیادہ ذہین ہونا نہیں۔

زیادہ ذمہ دار ہونا ہے۔

**ہمسفر…**

**اگر کل صبح آپ کے ہاتھ میں ایسی مصنوعی ذہانت آ جائے جو آپ کا ہر کام آپ سے بہتر کر سکتی ہو… تو کیا وہ آپ کی زندگی کو بھی بہتر بنا دے گی؟ یا پھر زندگی کا معیار اب بھی اس انسان پر منحصر رہے گا، جو اس مشین کے پیچھے کھڑا ہے؟**

**منتخب مراجع**

* Hannah Arendt، *Eichmann in Jerusalem*
* Viktor Frankl، *Man’s Search for Meaning*
* C. S. Lewis، *The Abolition of Man*
* Martin Buber، *I and Thou*
* Alasdair MacIntyre، *After Virtue*
* امام راغب اصفہانی، *الذريعة إلى مكارم الشريعة*
*

اپنا تبصرہ لکھیں