سلگتے اشارے: حکومت کے لیے ایک عینی آئینہ / رانا جی جعفر

تاریخِ انسانی کا تعمق سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سماجی اضطراب اور اجتماعی احتجاج کی نوعیت ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہوتی۔ خطے کے حالیہ سیاسی و سماجی تحرک کو اگر فکری اور علمی تناظر میں دیکھا جائے تو یہاں بیداری کے دو بالکل مختلف سانچے جنم لیتے نظر آتے ہیں۔
سری لنکا اور نیپال میں جو طوفان اٹھا، وہ کسی ایک طبقے، پیشے یا عمر تک محدود نہیں تھا؛ وہاں بوڑھے، جوان، خواتین، حتیٰ کہ بچے بھی سڑکوں پر آ گئے۔ اس کی نمایاں وجوہات میں ایک اہم سبب یہ تھا کہ ریاستی معاشی اور انتظامی بحران نے عام شہری کی بنیادی بقا اور روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر دیا تھا۔ جب کچن کی آگ بجھ گئی، ادویات نایاب ہو گئیں، ایندھن کا حصول مشکل ہو گیا اور معمولاتِ زندگی مفلوج ہونے لگے، تو نظریاتی، سیاسی اور نسلی تفریقیں بھی پس منظر میں چلی گئیں۔ وہاں سوال کسی ڈگری یا کیریئر کا نہیں تھا، بلکہ بنیادی بقا کا تھا۔ جب زندگی خود خطرے میں محسوس ہونے لگے تو ہر عمر اور ہر طبقے کا فرد سڑک کو اپنی آخری آواز سمجھنے لگتا ہے۔
اس کے برعکس، بنگلہ دیش اور بھارت کی صورتحال ایک مختلف منظر پیش کرتی ہے۔ یہاں بڑے اور بزرگ گھروں میں رہے، لیکن تعلیمی اداروں سے طلبہ کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ بزرگوں کا “آج” کسی نہ کسی طرح گزر رہا تھا، مگر نوجوانوں کا “کل” غیر یقینی دکھائی دینے لگا تھا۔ عمر رسیدہ طبقہ عموماً زندگی کے اس مرحلے میں ہوتا ہے جہاں وہ رسک لینے کے بجائے موجودہ حالات سے سمجھوتہ کرنے کو ترجیح دیتا ہے، جبکہ نوجوانوں کے لیے معاملہ آنے والے کئی برسوں کے مستقبل، روزگار اور معاشی استحکام کا ہوتا ہے۔
بنگلہ دیش میں جب کوٹہ سسٹم پر شدید تنازع کھڑا ہوا اور بڑی تعداد میں طلبہ نے اسے میرٹ کے لیے خطرہ سمجھا، تو ان میں یہ احساس پیدا ہوا کہ برسوں کی محنت اور تعلیمی قابلیت کی قدر کمزور پڑ رہی ہے۔ اسی طرح بھارت میں نیٹ (NEET) جیسے مسابقتی امتحانات سے متعلق سامنے آنے والے تنازعات، پرچہ لیک کے الزامات اور روزگار سے متعلق بڑھتی بے یقینی نے لاکھوں طلبہ میں شدید اضطراب پیدا کیا۔ ان حالات نے نوجوانوں میں یہ تاثر مضبوط کیا کہ ان کے مستقبل پر غیر یقینی کے سائے گہرے ہو رہے ہیں، اور یہی احساس احتجاجی تحریکوں کا ایک اہم محرک بنا۔
اگر اس معروضی موازنے کی روشنی میں پاکستان کی فکری اور علمی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ایک تشویشناک منظر سامنے آتا ہے، جو حکومت اور اربابِ اختیار کے لیے سنجیدہ غور و فکر کا متقاضی ہے۔
پاکستان میں معمر اور ذمہ دار طبقہ مسلسل معاشی دباؤ، مہنگائی اور سیاسی بے یقینی کا سامنا کرتے کرتے نفسیاتی طور پر گویا “سن” ہو چکا ہے۔ بجلی کے بڑھتے بل، ٹیکسوں کا بوجھ اور معاشی مشکلات اسے اس حد تک تھکا چکے ہیں کہ اس کی بیشتر توانائی صرف اپنے گھر کا نظام چلانے میں صرف ہو جاتی ہے۔ مگر دوسری طرف یہ بحران صرف تعلیمی اداروں تک محدود نہیں رہا بلکہ تقریباً ہر اہم شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ پنجاب سمیت مختلف صوبوں میں سرکاری سکولوں کی آؤٹ سورسنگ سے نئے اساتذہ کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہو رہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم میں داخلوں کی شرح کم ہونے کا رجحان دکھائی دے رہا ہے، جبکہ بعض میڈیکل اداروں میں ایم بی بی ایس کی نشستیں خالی رہنے کی اطلاعات بھی تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔ یہ تمام اشاریے اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف روزگار کا نہیں، بلکہ نئی نسل کے اعتماد، امید اور اپنے مستقبل کے تصور سے بھی جڑا ہوا ہے۔
سب سے الم ناک باب تعلیمی تحقیق کا ہے، جہاں ایم فل اور پی ایچ ڈی جیسی اعلیٰ ڈگریاں رکھنے والے نوجوان مناسب مواقع کی تلاش میں دربدر ہیں۔ جن ذہانتوں کو ملکی پالیسی سازی، تحقیق اور علمی ترقی میں کردار ادا کرنا چاہیے تھا، وہ آج معاشی بے یقینی اور محدود مواقع کے باعث اپنی صلاحیتوں سے کم تر کام کرنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔ انجینئرنگ، فارمیسی، قانون اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں کے تعلیم یافتہ نوجوان یا تو بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں یا اپنی قابلیت سے کہیں کم درجے کی ملازمتوں پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہیں۔
جب تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کے میدان سے وابستہ ذہن بھی مایوسی اور بے یقینی کا شکار ہو جائیں، تو نئی نسل کا ریاست، نظام اور خود علم پر سے اعتماد متزلزل ہونا ایک فطری امر بن جاتا ہے۔ یہ صرف معاشی بحران نہیں بلکہ علمی تنزلی اور سماجی مایوسی کا ایک خاموش اشارہ ہے۔ جب ڈگری کا حاصل صرف بے یقینی اور مایوسی رہ جائے، تو نوجوان تعلیمی اداروں سے امید رکھنے کے بجائے ذہنی طور پر نظام سے لاتعلق ہونے لگتے ہیں۔
ریاستوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ بدلاؤ کا شور اتنا خطرناک نہیں ہوتا جتنی اس کے پیچھے پھیلی خاموشی ہوتی ہے۔ جب ایک پی ایچ ڈی محقق یا اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا بھی چھوڑ دے، اور یونیورسٹیوں کی راہداریاں ویران ہونے لگیں، تو یہ اطمینان کی نہیں بلکہ نظام سے بڑھتی ہوئی بے اعتمادی کی علامت ہو سکتی ہے۔ یہ خاموش اشارہ بظاہر سکون دکھائی دیتا ہے، مگر درحقیقت اس نفسیاتی کیفیت کی خبر دیتا ہے جہاں مایوسی خوف پر غالب آنے لگتی ہے۔ جب تک دھواں نظر آ رہا ہے، وقت باقی ہے؛ لیکن جب دھواں بھی اندر ہی اندر سلگنے لگے، تو وہاں سے اٹھنے والی آفت اکثر کسی پیشگی انتباہ کے بغیر آتی ہے۔
یہ تحریر کسی ہیجان یا اشتعال کی دعوت نہیں، بلکہ اربابِ اختیار کے لیے حقیقت کا ایک عینی آئینہ ہے۔ پالیسی سازوں کو سمجھنا ہوگا کہ تعلیمی اداروں میں کم ہوتی دلچسپی، روزگار کے محدود ہوتے مواقع، اور محققین و ڈگری ہولڈرز کو درپیش مشکلات وہ سلگتے اشارے ہیں جو بظاہر خاموش دکھائی دیتے ہیں۔ سلگتے اشارے حکومت کے لیے ایک عینی آئینہ ہیں، جو آنے والے منظرنامے کی عکاسی کرتے ہیں۔ ریاستوں کی پائیداری نعروں سے نہیں بلکہ اپنے نوجوانوں کو تحفظ، امید اور معاشی مواقع فراہم کرنے سے قائم رہتی ہے۔ نوجوان کسی بھی ریاست کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتے ہیں، اور جب یہی سرمایہ مایوسی میں ڈھلنے لگے تو یہ صرف معاشی نہیں بلکہ قومی استحکام اور سماجی ہم آہنگی کا مسئلہ بھی بن جاتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تدبر اور دوراندیشی سے ان بنیادی خامیوں کا ازالہ کیا جائے اور تعلیمی و معاشی شعبوں میں مؤثر اصلاحات نافذ کی جائیں، قبل اس کے کہ سلگتے اشارے غیر متوقع طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوں

اپنا تبصرہ لکھیں