پیسے کمانا مشکل ہے، لٹانا آسان ہے۔ آج کی دنیا میں کوئی بھی یونہی پیسے نہیں لٹاتا۔ لیکن کوئی اپنی دولت پہ اتراتا ہو تو وہ نمائشی طور پر پیسے لٹانے میں کسر نہیں اٹھا رکھتا۔ پیسے لٹانے والوں سے متعلق کچھ لوگوں کا تاثر یہ ہے کہ زیادہ تر نودولتئے بیٹوں کی بارات میں روپے پیسوں کو باراتیوں کے اوپر پھینکتے ہیں اور غریبوں کے بچے نوٹ اور سکے لوٹ رہے ہوتے ہیں۔۔ یہ ایک عجیب و غریب رسم ہے۔ کہا جاتا ہے کہ باراتی حضرات دلہا دلہن کو نظر بد سے بچانے کے لئے صدقے کے پیسے غریبوں کو بانٹتے ہیں۔ یہ محض ایک دکھاوے کی رسم ہے۔ اس میں پیسے بانٹے نہیں پھینکے جاتے ہیں۔ یوں پیسوں کو اچھال کر راستوں میں پھینکنا پیسوں کی ہی نہیں غریبوں کی بھی توہین ہوتی ہے۔۔ اکثر پھینکے گئے پیسے، طاقتور بچے چھینا جھپٹی کر کے لے اڑتے ہیں اور بیچارے مفلس اور نادار بچے مونہہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔
پیسے پھینکنے کا ذکر ہوا ہے تو اس بارے میں لوگوں کا ایک مقولہ یاد آ رہا ہے جو اکثر بولا جاتا ہے اور وہ یہ کہ ” پیسا پھینک تماشا دیکھ”. یہ محاورہ کئی حوالوں کی جانب اشارہ کرتا ہے جن میں ایک یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں کوئی کام بھی بغیر پیسے کے نہیں ہوتا۔ کام چھوٹا ہو یا بڑا۔، پیسوں کا کرشمہ سب کام آسان کر دیتا ہے۔ دوسرا یہ کہ جب پیسے ہوں پھینکے جاتے ہیں تو پیسوں کا دکھاوا کر کے چھنا جھپٹی کا تماشا دیکھ کر مزے لوٹے جاتے ہیں۔ موجودہ دور میں پیسا امارت اور شان و شوکت کی علامت بن گیا ہے۔ دولت شو بازی اور نمائش کا ذریعہ سمجھی جانے لگی ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برخلاف ہے۔ دولت فقط ہاتھ کی میل ہے۔ یہ آج کسی کے دست میں ہے اور کل کسی دوسرے کی دسترس میں چلی جاتی ہے۔ کسی وقت کے امیر ترین لوگ کوڑیوں کے محتاج ہو جاتے ہیں۔ اور کبھی غریب و مفلوک الحال لوگوں کے گھروں میں دولت کی اتنی فراوانی ہوجاتی ہے کہ یہ بات زبان زد عام ہونے لگتی ہے کہ بازاروں میں گھی ملے یا نہیں، ان گھروں میں گھی کے چراغ جلنے لگتے ہیں۔ کم لوگ ایسے دکھائی دیتے ہیں جو اپنے مال و زر کو سخاوت اور فیاضی سے ان لوگوں پہ خرچ کرتے ہیں جو اس کے مستحق ہوتے ہیں۔ راہ خدا میں دولت خرچ کرنے والوں کو ہمارے معاشرے میں سراہا جاتا ہے بلکہ ایسے لوگوں کی پیروی میں دیگر امراء بھی اس کار خیر میں حصہ لینا شروع کر دیتے ہیں اور اس طرح چراغ سے چراغ روشن ہونے لگتے ہیں اور بالآخر غریبوں کے تاریک گھروں میں بھی چراغ روشن ہونے لگتے ہیں.
فی زمانہ ہمارے معاشرے میں چند متمول مخیرگھرانوں کے سوا ایسا رجحان پنپتا جا رہا ہے کہ دینی اور اخلاقی اقدار کی پابندی فریضے کی سطح سے نکل کر مرضی اور ذہنی آمادگی کۓ پندار میں چلی گئی ہے۔ گویا وقت گزرنے کے ساتھ ان چراغوں میں روشنی نہیں رہی۔ اب اہل ثروت اورمال و دولت کی نعمت سے مالا مال لوگ بھی کثرت دولت کی خواہش میں مرے چلے جا رہے ہیں۔ وہ ہمہ وقت زیادہ سے زیادہ مالدار ہو نے کی طمع اور لالچ میں روپے پیسوں کے مینار تعمیر کئے جا رہے ہیں۔ صبر و قناعت ان کے مال و زر کی طرح لاکرز میں مقید ہے اور وہ حرص کے مرض میں اس قدر مبتلا ہوگۓ ہیں کہ اپنے امراض کے علاج پر پھوٹی کوڑی تک خرچ کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔
انسان ساری زندگی مال کو جمع کرنے کی تگ و دو کرتا یے۔ سونا چاندی چاہے اس کا اوڑھنا بچھونا بن جاۓ، لیکن اس کا پیٹ نہیں بھرتا۔ پیسوں کی دیوی ا ن کے گھر کے کونے کونے میں رقص کرتی ہو لیکن دولت کے پجاریوں کی ہوس کی آگ نہیں بجھتی۔ کئی کئی من طلائی اور نقرئی سکوں کی جھنکار کانوں میں سحر انگیز موسیقی کا رس گھول رہی ہو لیکن پھر بھی ان کا من نہیں بھرتا۔ انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ سکوں کی یہ جھنکار محض ایک ہی کھنکار میں چڑیوں کی طرح اڑ جاتی ہے۔ کچھ باقی پاس نہیں رہتا۔
دولت کا کمانا فوری ضرورتیں پوری کرنے اور مستقبل کے اخراجات برداشت کرنے کی حد تک جائز ہے, اسے بے اندازہ پس انداز کرنے پہ بھی کوئی قد غن نہیں۔ البتہ دو باتوں کا خیال رہے۔ اول یہ کہ دولت کی افراط کی بنیاد جائز اور حلال ذرائع سے ہو۔ دوم یہ کہ اس میں سے غرباء و مساکین کے لئے زکواہ، صدقات اور خیرات کی ادائی کی جاتی رہے۔ اس کے علاؤہ اپنی امارت اور کروڑوں سے بنی عمارت پر تفاخر و تکبر نہ کیا جائے۔ اپنی مر تکز دولت اور جائداد کو اپنے عزیز و اقارب اور اولاد و ازواج کو شرعی احکامات کے مطابق تقسیم بھی کیا جاۓ تو اس میں برکت ہوتی ہے اور قلبی و ذہنی سکون بھی میسر آتا ہے۔
ہمارے ملک میں بعض خاندانوں میں دولت بارش کی طرح برستی ہے جبکہ اکثریت کے پاس دو وقت کی روٹی کے لئے بھی پیسے نہیں ہوتے۔ امیر اور غریب کی مالی حیثیت میں بڑا فرق رہتا ہے۔ ملکی مالی وسائل پر کچھ مخصوص لوگ قابض نظر آتے ہیں۔ جن کے پاس نجی صنعتی ادارے، کثیر زمینی رقبے، لا تعداد پیٹرول پمپس اور شوگر ملیں ہیں۔ وہ معتبر اور معزز کہلاتے ہیں۔ ہماری اسمبلیوں اور ایوان بالا میں جو لوگ منتخب ہو کر آتے ہیں وہ رئیس ابن رئیس ہوتے ہیں وہ کروڑوں روپے خرچ کر کے پارلیمان کے رکن منتخب ہوتے ہیں۔ ان کے لئے جمہوری اداروں کی رکنیت منفعت بخش ہوتی ہے وہ تھوڑے تھوڑے وقفے کے ساتھ اپنی تنخواہوں اور مراعات میں کئی گنا اضافے کا گناہ کماتے ہیں۔ بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے پھرتے ہیں۔ وہ غرباء کی حسرتوں اور بیچارگی کا مذاق اڑاتے پھرتے ہیں۔ وہ اسمبلیوں میں بہت کم حاضر ہوتے ہیں لیکن اقتدار کی غلام گردشوں میں عیش و عشرت کے شب و روز سے استفادہ کرتے ہیں۔ ہماری بیشتر سیاسی جماعتیں عوام کی خدمت اور آسائش کی بجاۓ اپنے مالی مفادات کے لئے کام کرتی ہیں۔ عالمی مالی اداروں کی طرف سے ملنے والے قرضوں پر چلنے والے اس ملک میں مراعات یافتہ طبقات کی کمی نہیں، جو جلب زر کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔ معلوم نہیں عام لوگوں کی مالی حیثیت کب بد لے گی۔ انکا مقدر کب سنورے گا۔ اس کے لئے انقلابی اقدام کی ضرورت ہے۔ غریبوں کے حق میں ضروری قانون سازی کی جاۓ تو مسئلے کے حل میں مدد مل سکے گی۔ دیکھتے ہیں کہ یہ بیل کب منڈھے چڑھے گی؟ کب گلشن میں برابری کا کاروبار چلے گا؟


