پاکستان میں حکومتوں کی ناکامی پر بحث بہت ہوتی ہے، مگر اقتدار کے اس نظام پر گفتگو کم ہوتی ہے جو تقریباً ہر حکومت کو ناکامی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ ایک حکومت آتی ہے، اس سے غیر معمولی توقعات وابستہ کی جاتی ہیں، پھر چند برس بعد مہنگائی، بے روزگاری، قرض، کرپشن، سیاسی کشیدگی اور ادارہ جاتی بحران اس کے خلاف فردِ جرم بن جاتے ہیں۔ حکمران رخصت ہو جاتے ہیں، نئے چہرے سامنے آ جاتے ہیں اور قوم کو ایک بار پھر بتایا جاتا ہے کہ اب حالات بدل جائیں گے۔ مگر کبھی کسی نے یہ پوچھنے کی سنجیدہ کوشش کی کہ اگر چہرے مسلسل بدلنے کے باوجود اصل بیماری وہی رہتی ہے تو خرابی شاید چہرے میں نہیں، نظام کے اندر کہیں زیادہ گہری ہے۔
ہمارا سیاسی المیہ یہ ہے کہ ہم حکومت کو ریاست سمجھ بیٹھے ہیں اور ریاست کو حکومت۔ حکومت پانچ سال کے لیے آتی ہے، ریاست نسلوں کے لیے ہوتی ہے۔ حکومت کی ترجیح اگلا انتخاب ہو سکتی ہے، ریاست کی ترجیح اگلی نسل ہونی چاہیے۔ جب اقتدار کی سیاست قومی منصوبہ بندی پر غالب آ جائے تو حکمران ایسے فیصلے کرنے لگتے ہیں جن کا فائدہ فوری طور پر دکھائی دے، خواہ طویل مدت میں وہ معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں۔ ایک پل، ایک سڑک، ایک عمارت یا ایک نمایاں منصوبہ سیاسی طور پر دکھائی دیتا ہے، مگر انسانی سرمایہ، ادارہ جاتی اصلاح، پیداواری صلاحیت، برآمدات اور قانون کی حکمرانی کی تعمیر خاموش کام ہے۔ بدقسمتی سے ہماری سیاست خاموش خدمت سے زیادہ دکھائی دینے والے کام کو پسند کرتی ہے۔
معیشت کے بارے میں سب سے زیادہ خطرناک غلط فہمی یہ ہے کہ قرض لے کر چند سال کا مالی دباؤ کم کر دینا معاشی استحکام ہے۔ قرض کسی ملک کو تباہ نہیں کرتا، قرض پر انحصار کی عادت تباہ کرتی ہے۔ اگر قرض ایسے شعبوں میں لگے جو پیداوار، برآمدات اور روزگار بڑھائیں تو وہ سرمایہ کاری بن سکتا ہے، لیکن اگر قرض صرف حکومتی اخراجات، خسارے اور غیر پیداواری منصوبوں کو سہارا دینے کے لیے استعمال ہو تو آنے والی نسلیں موجودہ حکمرانوں کے فیصلوں کی قیمت ادا کرتی ہیں۔ آج کا سیاسی فائدہ کل کے شہری کے لیے معاشی بوجھ بن جاتا ہے۔ پھر حکومت عوام سے کہتی ہے کہ خزانہ خالی ہے اور مزید ٹیکس دینا ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ خزانہ خالی ہونے کی قیمت ہمیشہ وہ شخص کیوں ادا کرے جس نے اسے خالی نہیں کیا؟
پاکستان میں ٹیکس کا مسئلہ بھی محض محصولات کا مسئلہ نہیں، اعتماد کا مسئلہ ہے۔ ایک شہری ریاست کو ٹیکس اس وقت زیادہ اطمینان سے دیتا ہے جب اسے یقین ہو کہ ریاست اس کے پیسے کو امانت سمجھتی ہے۔ لیکن اگر اسے ایک طرف ٹیکسوں، فیسوں اور مہنگائی کا سامنا ہو اور دوسری طرف حکمران طبقے کے شاہانہ اخراجات، مراعات اور غیر ضروری سرکاری سہولتیں نظر آئیں تو اس کے اندر ریاست کے ساتھ اخلاقی معاہدہ کمزور ہوتا ہے۔ پھر ٹیکس چوری صرف قانونی جرم نہیں رہتی بلکہ معاشرتی مزاحمت کی شکل اختیار کرنے لگتی ہے۔ قانون صرف کتابوں میں لکھا ہونا کافی نہیں، اس پر عوام کا اعتماد بھی ضروری ہے۔ جب یہ اعتماد ختم ہو جائے تو قانون کی طاقت بھی کم ہونے لگتی ہے۔
اسی جگہ کرپشن کا مسئلہ سامنے آتا ہے۔ ہماری سیاست میں کرپشن ایک مستقل نعرہ ہے مگر مستقل نظام نہیں۔ حکومت بدلتی ہے تو کرپشن کی فہرست بدل جاتی ہے۔ کل جن لوگوں پر انگلیاں اٹھائی جا رہی تھیں، آج وہ کسی نئے سیاسی بندوبست میں قابل احترام بن جاتے ہیں اور کل کے اتحادی آج کے ملزم قرار پاتے ہیں۔ اگر احتساب واقعی احتساب ہے تو اس کا رخ حکومت اور اپوزیشن، طاقتور اور کمزور، دوست اور مخالف سب کی طرف یکساں ہونا چاہیے۔ اگر احتساب صرف سیاسی مخالف کو دبانے کا ہتھیار بن جائے تو وہ انصاف نہیں رہتا۔ اسی طرح اگر سیاسی وابستگی کسی شخص کو قانون سے بالاتر کر دے تو جمہوریت بھی محض ایک انتخابی رسم بن جاتی ہے۔
اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں طاقت کا اصل مرکز ہمیشہ منتخب حکومت نہیں رہا۔ سیاست دان کمزور ہوں تو ادارے مضبوط نہیں ہوتے بلکہ طاقت کے غیر منتخب مراکز مضبوط ہو جاتے ہیں۔ پھر سیاسی جماعتیں بھی عوام کے بجائے طاقت کے مراکز کو خوش کرنے کی سیاست سیکھ لیتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام کا ووٹ انتخاب کے دن تو اہم ہوتا ہے مگر انتخاب کے بعد اس کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ یہ تضاد جمہوریت کے جسم میں موجود وہ زخم ہے جو بظاہر چھوٹا دکھائی دیتا ہے مگر اندر سے پورے نظام کو کمزور کرتا رہتا ہے۔
اگر کسی سیاسی جماعت کو عوامی حمایت حاصل ہے تو اس کی پالیسیوں اور قیادت پر تنقید ضرور ہونی چاہیے، مگر اسے سیاسی حقیقت ماننے سے انکار مسئلے کا حل نہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے معاملے میں بھی یہی اصول لاگو ہونا چاہیے۔ اس جماعت کے طرز سیاست، حکومتی فیصلوں، قیادت اور سیاسی حکمت عملی پر سخت سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں، مگر اس کے ووٹر کو سیاسی طور پر غیر موجود سمجھ لینا حقیقت سے فرار ہوگا۔ لاکھوں شہری اگر کسی جماعت کو ووٹ دیتے ہیں تو انہیں محض اس لیے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اقتدار کے موجودہ انتظام میں ان کی سیاسی ترجیح پسندیدہ نہیں۔ جمہوریت کا حسن ہی یہ ہے کہ ریاست کو اپنے پسندیدہ ووٹر نہیں بلکہ تمام شہریوں کو قبول کرنا پڑتا ہے۔
یہاں ایک تلخ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ سیاسی جماعتیں خود بھی اس بحران سے بری الذمہ نہیں۔ انہوں نے جمہوریت کو اکثر اصول کے بجائے اقتدار تک پہنچنے کا راستہ سمجھا۔ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے اداروں کی آزادی یاد آتی ہے، حکومت میں آتے ہی وہی ادارے اپنے اختیار میں رکھنے کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔ کل جو قانون سیاسی انتقام محسوس ہوتا تھا، آج وہی قانون اپنے مخالف کے خلاف استعمال کرتے ہوئے درست معلوم ہونے لگتا ہے۔ یہ دوہرا معیار صرف سیاست دانوں کا نہیں، ہمارے سیاسی کلچر کا مسئلہ ہے۔ جب تک جماعتیں اپنے اندر جمہوریت، میرٹ اور اختلاف برداشت کرنے کی روایت پیدا نہیں کرتیں، وہ ملک میں جمہوری ثقافت کیسے پیدا کریں گی؟
ہماری اشرافیہ کا مسئلہ بھی اسی بحران کا حصہ ہے۔ پاکستان میں ایک ایسا معاشی و سیاسی طبقہ پیدا ہو چکا ہے جس کے لیے مہنگائی ایک خبر ہے، بے روزگاری ایک اعداد و شمار اور غربت ایک تقریر کا موضوع۔ جس گھر میں ماہانہ آمدن ختم ہونے سے پہلے بجلی کا بل آ جائے، وہاں بجلی کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی زندگی کا بڑا بحران بن جاتا ہے۔ جس نوجوان کے پاس ڈگری ہے مگر روزگار نہیں، اس کے لیے معاشی ترقی کی شرح کوئی تسلی نہیں۔ جس مریض کے پاس دوا خریدنے کے پیسے نہیں، اس کے لیے قومی بجٹ کی ضخامت بے معنی ہے۔ ریاست کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ حکمران طبقہ کتنا محفوظ اور آسودہ ہے، بلکہ یہ ہے کہ سب سے کمزور شہری کس قدر محفوظ ہے۔
سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ہم نے سیاسی تبدیلی کو نظام کی تبدیلی کا مترادف بنا لیا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ فلاں چلا جائے، فلاں آ جائے تو پاکستان ٹھیک ہو جائے گا۔ یہی سوچ ہر چند سال بعد ہمیں ایک نئے تجربے کی طرف لے جاتی ہے۔ مگر ملک کسی ایک شخص کی جاگیر نہیں اور نہ کسی ایک جماعت کے پاس اس کے تمام مسائل کا حل ہے۔ پاکستان کو ایسی سیاست درکار ہے جس میں حکومتیں بدلنے سے قومی معاشی پالیسی نہ بدلے، جس میں تعلیم اور صحت انتخابی منشور کی سطروں سے نکل کر ریاستی ترجیح بنیں، جس میں صنعت کار کو پالیسی کا اعتماد اور مزدور کو روزگار کا تحفظ ملے، جس میں عدالت کو طاقتور سے خوف نہ ہو اور احتساب کرنے والے ادارے حکومت کے اشارے کے محتاج نہ ہوں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ اگلا حکمران بھی اگر اسی کمزور ادارہ جاتی ڈھانچے، اسی معاشی انحصار، اسی سیاسی انتقام، اسی غیر یقینی اور اسی اشرافیائی نظام کے ساتھ اقتدار سنبھالے گا تو نتیجہ کتنا مختلف ہوگا؟ اگر جواب مختلف نہیں تو پھر ہمیں حکومت بدلنے کے جشن سے پہلے نظام بدلنے کی قیمت اور ہمت دونوں کا اندازہ کرنا ہوگا۔ قومیں صرف نئے حکمرانوں سے ترقی نہیں کرتیں، وہ اس وقت آگے بڑھتی ہیں جب قانون حکمران سے بڑا، ادارہ شخصیت سے مضبوط، عوامی مینڈیٹ طاقت کے مراکز سے معتبر اور ریاست کسی جماعت کی نہیں بلکہ شہریوں کی امانت بن جائے۔ پاکستان کا اصل بحران اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگوں سے بھی بڑا ہے، کیونکہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کون حکومت کر رہا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ایسی حکمرانی کا نظام کیوں قبول کر رکھا ہے جس میں ہر نئی حکومت سے نجات کی امید باندھنا پڑتی ہے۔


