یاد کی کچی روشنی(اعجاز رضوی کی یاد میں)۔۔۔۔ حامد یزدانی

یاد کی کچی روشنی

(یارِ دیرینہ اعجاز رضوی کی یاد میں)

اکتوبر کی آخری بارش

گیلے پتوں پر گرتی ہے
فرش ابھی تک خشک ہے،
پیڑوں کی شاخوں سے جھڑتی آوازیں
باڑوں سے ٹکراتی ہیں،
مر جاتی ہیں—
وہ آوازیں
اب کون سنے گا۔

اینٹوں کی ڈھلوانی چھت سے
جھرجھر بہتی اداسی
کھڑکی سے کمرے میں اترتی ہے۔
خوف، جو دیواروں میں چنا تھا،
اب بھی وہیں ہے—
تنہائی کو سنتا ہے،
چپ رہتا ہے۔

شام کی ٹیڑھی گلیوں میں
چلتی وہ خموشی—
وہ سیدھی، ہموار خموشی۔
موڑ پہ جانے کون
ہنسی کا اک ہلکا سا خاکہ چھوڑ گیا ہے۔
نظم کے مصرعے رک رک جاتے—
چلتی ہوا میں۔
کون ہوا سے بات کرے۔

کمرے میں وہ ایک پرانا میز
اب خاموش پڑا ہے۔
باتوں پر بھی کائی جمتی جاتی ہے،
زنگ لگی تاریکی میں
اک سرگوشی—
جانے کس کو ڈھونڈ رہی ہے۔
شعر کی لے، دل کا آہنگ،
جسے کبھی تم نے ترتیب دیا تھا،
ایک بیاض کی صورت—
وہ آہنگ
اب کسے سنائی دے گا۔

ذرا سا مڑ کر
تکتا ہوں میں
بیتے موسم کے پختہ دالان کی جانب،
جس میں یاد کی کچی روشنی
دھیرے دھیرے پھیل رہی ہے۔
میں وہ روشنی
حرفِ دعا میں ڈھال کے
فجر کے ہاتھوں
تیری جانب بھیجوں گا۔

بابِ قبول میں کوئی کھڑا ہے—
وہ جو حرفِ دعا سے پہلے ہی

آمین، آمین کہے جاتا ہے۔

دور
اکتوبر کی بارش کی رم جھم میں
اک تیرا غمہولے ہولے لہراتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں