شام کی ہلکی زرد روشنی کمرے کے پرانے فرنیچر پر ایک عجیب سی اداسی بکھیر رہی تھی۔ وہ کھڑکی کے پاس کھڑی باہر گلی میں گرتے ہوئے پتوں کو دیکھ رہی تھی۔ ہوا میں ایک خنکی تھی جو یہ بتا رہی تھی کہ موسم بدل رہا ہے۔چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے۔ اس نے مڑے بغیر کہا۔پیچھے میز پر بیٹھے ہوئے شخص نے اخبار سے نظریں اٹھائیں اور گہرے بھورے مائع کو دیکھا جس سے اب دھواں نکلنا بند ہو چکا تھا۔وقت کا پتا ہی نہیں چلتا۔ ابھی تو دھوپ صحن میں تھی، اب دیواروں پر چڑھ گئی ہے۔وہ پلٹی اور خاموشی سے اس کے سامنے بیٹھ گئی۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا، وہ سکون جو کسی بڑے طوفان کے گزر جانے کے بعد لہروں پر طاری ہوتا ہے۔
تم آج پھر وہی پرانی ڈائری نکال کر بیٹھ گئے؟۔ اس نے میز پر رکھی چمڑے کی جلد والی کتاب کی طرف اشارہ کیا۔اس میں ہماری زندگی کے وہ حصے ہیں جو ہم خود بھول چکے ہیں۔ اس نے جواب دیا اور ایک صفحہ الٹا۔ دیکھو، یہاں تم نے لکھا تھا کہ ہمیں کبھی الگ نہیں ہونا، چاہے حالات کچھ بھی ہوں۔وہ مسکرائی، مگر اس مسکراہٹ میں ایک کڑواہٹ سی تھی۔لکھنا کتنا آسان ہوتا ہے، ہے نا؟ کاغذ ہر بوجھ سہہ لیتا ہے۔ لیکن جب وہی بوجھ زندگی کی پٹری پر اٹھانا پڑے تو سانس پھولنے لگتی ہے۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ صرف دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی۔ یہ وہ خاموشی نہیں تھی جو دو اجنبیوں کے درمیان ہوتی ہے، بلکہ وہ خاموشی تھی جو ان لوگوں کے درمیان ہوتی ہے جو ایک دوسرے کو بہت زیادہ جان چکے ہوں۔تمہیں یاد ہے وہ پہاڑی راستہ؟ اس نے اچانک پوچھا۔کون سا؟ جہاں ہم راستہ بھٹک گئے تھے؟۔ہاں، جہاں تم نے کہا تھا کہ اگر ہم کبھی راستہ کھو دیں تو بس ایک جگہ رک کر دوسرے کا انتظار کرنا چاہیے۔وہ خاموش رہی۔ پھر دھیرے سے بولی۔میں تو وہیں کھڑی رہی۔ تم ہی آگے نکل گئے تھے۔
اس نے اخبار تہہ کر کے ایک طرف رکھا اور اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ میں آگے نہیں نکلا تھا، میں صرف یہ دیکھ رہا تھا کہ راستہ کہاں ختم ہوتا ہے۔ میں تمہارے لیے ہی تو راستہ ڈھونڈ رہا تھا۔راستہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے تم نے مسافر کو ہی بھلا دیا۔ اس نے جواب دیا اور اٹھ کر کھڑکی کی طرف دوبارہ چلی گئی۔سورج اب پوری طرح ڈھل چکا تھا۔ آسمان پر سرخی کی جگہ گہرا نیلا رنگ لے رہا تھا۔ گلی میں اسٹریٹ لائٹس روشن ہو چکی تھیں، جن کی زرد روشنی میں مٹی اڑتی ہوئی صاف دکھائی دے رہی تھی۔اب دیر ہو رہی ہے۔ اس نے مدھم آواز میں کہا۔کس بات کی دیر؟ اس نے الجھ کر پوچھا۔”فیصلے کی دیر۔ ہم کب تک اس پرانے گھر اور ان پرانی یادوں کے سہارے جیتے رہیں گے؟
وہ اٹھا اور اس کے قریب آ کر کھڑا ہو گیا۔تم چاہتی کیا ہو؟ کیا یہ سب ختم کر دوں؟ یہ گھر، یہ یادیں، یہ ڈائری؟۔وہ مڑی اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں کوئی آنسو نہیں تھا، بس ایک ٹھہرا ہوا سمندر تھا۔ ختم تو وہ تب ہی ہو گیا تھا جب تم نے پہلی بار مجھ سے جھوٹ بولا تھا۔ ہم صرف اس لاش کو کاندھا دیے پھر رہے ہیں۔اس کا چہرہ سفید پڑ گیا۔وہ جھوٹ نہیں تھا، وہ مصلحت تھی۔محبت میں مصلحت نہیں ہوتی، صرف سچ ہوتا ہے یا پھر کچھ بھی نہیں ہوتا۔وہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا، پھر ایک لمبا سانس لے کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ ٹھیک ہے۔ اگر تم یہی چاہتی ہو تو میں کل چلا جاؤں گا۔ لیکن یاد رکھنا، اس گھر کی چابیاں تمہارے پاس ہی رہیں گی۔
وہ کچھ نہ بولی۔ رات گہری ہو رہی تھی۔ وہ دونوں ایک ہی کمرے میں تھے، مگر ان کے درمیان صدیوں کا فاصلہ آ چکا تھا۔اگلی صبح جب سورج کی پہلی کرن کمرے میں داخل ہوئی، تو میز پر چائے کا کپ ویسے ہی رکھا ہوا تھا۔ ڈائری کھلی تھی اور اس پر دھول کی ایک باریک تہہ جم چکی تھی۔وہ اٹھی، الماری سے اپنا چھوٹا سا بیگ نکالا اور اس میں چند ضروری چیزیں ڈالیں۔ اس نے کمرے کا آخری بار جائزہ لیا۔ دیوار پر لگی تصویریں، پرانا فرنیچر، اور وہ شخص جو اب بھی کرسی پر بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔
میں جا رہی ہوں۔ اس نے دروازے کے پاس رک کر کہا۔اس نے اخبار نیچے کیا اور اسے دیکھا۔ تم کہاں جا رہی ہو؟۔وہیں جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔وہ دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔ سیڑھیوں سے اترتے ہوئے اس کے قدموں کی چاپ گونج رہی تھی۔ جب وہ گلی میں پہنچی، تو اس نے ایک بار مڑ کر اوپر والی کھڑکی کی طرف دیکھا۔وہاں کوئی نہیں تھا۔وہ چلتی رہی، یہاں تک کہ وہ شہر کے سب سے مصروف چوراہے پر پہنچ گئی۔ لوگ ادھر سے ادھر بھاگ رہے تھے، گاڑیاں شور مچا رہی تھیں۔ کسی کو کسی کی پروا نہیں تھی۔
اچانک اسے محسوس ہوا کہ اس کے ہاتھ میں کچھ ہے۔ اس نے ہاتھ کھول کر دیکھا۔ وہ اس کے گھر کی چابی تھی۔ اس نے چابی کو غور سے دیکھا اور پھر اسے سڑک کے کنارے بنے گندے نالے میں پھینک دیا۔وہ آگے بڑھ گئی، لیکن چند قدم بعد ہی وہ ٹھٹک کر رک گئی۔ اسے یاد آیا کہ اس نے اپنا بیگ تو کمرے میں ہی چھوڑ دیا ہے۔وہ تیزی سے واپس مڑی اور بھاگتی ہوئی اپنے گھر کی طرف پہنچی۔ اس نے ہانپتے ہوئے سیڑھیاں چڑھیں اور دروازے کو دھکا دیا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔کمرے کے اندر کا منظر دیکھ کر اس کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔کمرہ بالکل خالی تھا۔ وہاں نہ کوئی فرنیچر تھا، نہ تصویریں، نہ وہ میز اور نہ ہی وہ شخص۔ دیواروں کا پلاسٹر جھڑ رہا تھا اور فرش پر مکڑی کے جالے بنے ہوئے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے یہاں برسوں سے کوئی نہ رہا ہو۔
میز کی جگہ، جہاں وہ شخص بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا، وہاں صرف ایک ٹوٹی ہوئی کرسی پڑی تھی جس پر گرد و غبار کی موٹی تہہ تھی۔ اور اس کرسی پر وہی پرانی ڈائری پڑی تھی۔اس نے لرزتے ہاتھوں سے ڈائری اٹھائی اور اس کا آخری صفحہ کھولا۔ وہاں تازہ روشنائی سے ایک جملہ لکھا تھا۔تمہارا انتظار ختم ہوا۔ میں نے تمہیں آزاد کر دیا، لیکن تم نے خود کو آزاد کرنے میں بہت دیر کر دی۔اس نے مڑ کر دیکھا، کمرے کے گوشے میں اسے اپنی ہی ایک پرانی تصویر نظر آئی جس پر لکھا تھا۔ وفات 2009 ۔وہ اب 2026 میں کھڑی تھی، اور اسے احساس ہوا کہ وہ پچھلے کئی سالوں سے اس ایک کمرے میں ایک یاد کے ساتھ رہ رہی تھی، اور خود بھی ایک یاد بن چکی تھی۔


