عصرِ حاضر کا انسان مادی ترقی کی اوجِ کمال پر فائز ہونے کے باوجود شدید ترین داخلی بحران، لایعنیت، اور نفسیاتی شکست و ریخت کا شکار ہے۔ گلوبلائزیشن، مشینی طرزِ زندگی اور مادی ہوس نے فرد کو کائنات اور اپنے حقیقی وجود سے بیگانہ کر دیا ہے۔مابعد جدیدیت کے اس دور میں، جہاں نطشے کے بقول خدا کی موت کے تصور نے وجودی خلا پیدا کیا اور سارتر کے وجودیت کے فلسفے نے انسان کو ایک لایعنی کائنات میں لاوارث چھوڑ دیا، وہاں مادی اور معاشی ترقی نے انسان کو صرف ایک Economic Unit بنا کر رکھ دیا ہے۔ کارل مارکس کا نظریۂ بیگانگی اور فرینکفرٹ اسکول کے فرائڈ و مارکسسٹ مفکرین مثلاً ہربڑٹ مارکوز کا One-Dimensional Man جس بحران کی نشاندہی کرتے ہیں، وہ دراصل روح کی وہ تنہائی ہے جہاں انسان مادی طور پر جڑا ہوا ہونے کے باوجود نفسیاتی طور پر بالکل اکیلا ہے۔
پنجاب کی سرزمین پر تیرہویں صدی عیسوی (منگول غارت گری کا دور) میں حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ نے چشتیہ سلسلے کے فکری قائد کی حیثیت سے جو متبادل بیانیہ تشکیل دیا، وہ محض خانقاہی حدود تک محدود نہ تھا۔ آپ کی فکر کا بنیادی محور وحدتِ انسانیت اور تزکیۂ نفس تھا۔ لمحۂ موجود کا انسان جس فکری الجھن کا شکار ہے، اس کے لیے فکرِ فریدؒ کی معنویت کو دریافت کرنا اور اسے معاصر فلسفے کی زبان میں پیش کرنا علمی و تحقیقی دنیا کا ایک اہم تقاضا ہے۔
تیرہویں صدی کا وسطی ایشیا اور ہندوستان سیاسی انتشار، قتل و غارت گری اور منگولوں کے وحشیانہ حملوں کی زد میں تھا۔ جب بامیان، بغداد اور نیشاپور جیسے علمی مراکز راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو رہے تھے، اور ہر طرف لاشوں کے انبار تھے، تب روح انسانی کو ایک گہرے صدمے کا سامنا تھا۔ اس بھیانک دور میں جب مادی سہارے ٹوٹ چکے تھے، صوفیائے کرام بالخصوص بابا فریدؒ نے انسان کو مابعد الطبیعاتی پناہ گاہ فراہم کی۔ کارل جنگ کے اجتماعی لاشعورکے نظریے کے مطابق، جب بیرونی دنیا اتنی ہولناک ہو جائے، تو انسانی نفسیات زندہ رہنے کے لیے اپنے اندرونی مرکز کی طرف رجوع کرتی ہے۔ بابا فریدؒ نے اس تاریخی بحران میں انسان کو نفرت کے بدلے محبت کا درس دے کر نفسیاتی بقا کا سامان فراہم کیا۔
بابا فریدؒ کی فکر کو سمجھنے کے لیے مسلم صوفیانہ روایت کیPhilosophy of Love اور فقر کو بنیاد بنانا ہوگا۔ آپ کے نزدیک تصوف کوئی گوشہ نشینی یا فرار پسندی (Escapism) نہیں ہے، بلکہ یہ سوسائٹی کے اندر رہتے ہوئے ظلم، جبر اور انسانی انا کے بتوں کو توڑنے کا نام ہے۔ اگر ہم بابا فریدؒ کے پنجابی شلوکوں کا ساختیاتی مطالعہ کریں، تو ان میں تین بنیادی Dimensions نظر آتی ہیں۔
Metaphysical Dimension: کائنات کی ہر شے کا مبدا اور مرجع ذاتِ الٰہی ہے۔
Psychological Dimension : انسانی انا ہی تمام فکری اور سماجی بگاڑ کی جڑ ہے۔
Socio-Economic Dimension: دولت کی غیر مساوی تقسیم اور طبقاتی اونچ نیچ کے خلاف ایک خاموش مگر موثر مزاحمت۔
ابنِ عربی کا فلسفۂ وحدت الوجود اگرچہ فکری طور پر خالص مابعد الطبیعاتی نوعیت کا تھا، لیکن بابا فریدؒ کے ہاں یہ فلسفہ ایک سماجی حقیقت بن کر ابھرا۔ جب کائنات کی ہر اکائی میں ایک ہی نور کارفرما ہے، تو پھر انسانوں کے درمیان رنگ، نسل، مذہب اور سماجی رتبے کی بنیاد پر تفریق سراسر لایعنی ہو جاتی ہے۔ یہ مابعد الطبیعاتی مساوات ہی تھی جس نے اس دور کے پسماندہ طبقات کو اپنی طرف مائل کیا، کیونکہ وہاں حاکم اور محکوم کی کوئی ساختیاتی تفریق برقرار نہیں رہ سکتی تھی۔البرٹ کامیو اور یاسپرز (Jaspers) جیسے وجودی مفکرین جس اضطراب کا ذکر کرتے ہیں، اس کا حل بابا فریدؒ اپنے شلوکوں میں رضا اور قناعت کے تصور سے پیش کرتے ہیں۔
فریدا روٹی میری کاٹھ کی لاون میری بھکھ
جنا کھادی چوپڑی گھنے سہن گے دکھ
اس کلام کو اگر ہم Consumerismکے خلاف ایک منشور کے طور پر پڑھیں، تو واضح ہوتا ہے کہ بابا فریدؒ کاٹھ کی روٹی (علامتِ سادگی و فقر) کے ذریعے انسان کو مادی چیزوں کی غلامی سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔ مارٹن ہائیڈیگر (Heidegger) کے تصورِ زیست کے برعکس، جہاں موت انسان کو خوفزدہ کرتی ہے، بابا فریدؒ کے ہاں موت (وصال) زندگی کو بامعنی بنانے کا ذریعہ ہے۔
اکیسویں صدی کا انسان مادی اشیاء کو جمع کرنے کی دوڑ میں اس حد تک آگے نکل گیا ہے کہ اسے اس بات کا ادراک ہی نہیں رہا کہ وہ خود اشیاء کا غلام بن چکا ہے۔ ژاک لاکاں (Jacques Lacan) کے نفسیاتی تجزیے کے مطابق، انسانی خواہش کبھی ختم نہ ہونے والا ایک لامتناہی چکر ہے جو انسان کو ہمیشہ بے چین رکھتا ہے۔ بابا فریدؒ اس لامتناہی مادی خواہش کے چکر کو ‘قناعت’ اور ‘نفسِ لوامہ’ کے ذریعے توڑتے ہیں۔ جب مادی خواہشات قابو میں آ جاتی ہیں، تو وجود کا اضطراب ختم ہو جاتا ہے اور انسان کو وہ سکون حاصل ہوتا ہے جسے آج کی پازیٹو سائیکالوجی داخلی ثبات کہتی ہے۔عصرِ حاضر کا سب سے بڑا المیہ Concentration of Wealthہے۔ نیو لبرل اکانومی نے غریب کو پسماندہ اور امیر کو جابر بنا دیا ہے۔ بابا فریدؒ کا دربار اور ان کی حیاتِ طیبہ اس طبقاتی نظام کے خلاف عملی متبادل تھی۔
چشتیہ خانقاہ کا اصول تھا کہ جو کچھ آئے، اسی دن بانٹ دیا جائے۔ جمع آوری کو روحانیت کی موت سمجھا جاتا تھا۔ بابا فریدؒ نے غیاث الدین بلبن اور دیگر حکمرانوں کے نذرانوں اور درباری وابستگی کو سختی سے مسترد کیا۔ آپ کا یہ رویہ ایڈورڈ سعیدکے اس درباری دانشور کے تصور کی نفی کرتا ہے جو طاقت کے مراکز کا آلہ کار بن جاتا ہے۔ صوفی یہاں Organic Intellectual کے روپ میں سامنے آتا ہے جو پسے ہوئے طبقات کا ہم نوا ہے۔اگر انتونیو گرامچی کے ہیجمنی (Hegemony) کے تصور کے تحت دیکھا جائے، تو جاگیردارانہ اور شاہی نظام کا اپنا ایک ثقافتی غلبہ تھا جس نے عام انسان کو ذہنی طور پر مغلوب کر رکھا تھا۔ بابا فریدؒ نے بادشاہوں کے جاگیریں دینے کے پروانوں کو حقارت سے ٹھکرا کر اس غلبے کو پاش پاش کیا۔ آپ کا دربار کسی امیر یا جاگیردار کی حویلی نہیں تھا، بلکہ وہ ایک ایسی پناہ گاہ تھی جہاں محنت کش، کسان اور اچھوت سماجی برابری کا تجربہ کرتے تھے۔ لنگر کا بغیر کسی امتیاز کے چوبیس گھنٹے جاری رہنا دراصل جاگیردارانہ معیشت کے منہ پر ایک طمانچہ تھا، جو ذخیرہ اندوزی پر یقین رکھتی تھی۔
آج دنیا Clash of Civilizationsاور مذہبی انتہا پسندی کی لپیٹ میں ہے۔ بابا فریدؒ کی فکر کی عالمگیریت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ آپ کے کلام کو سکھوں کی مقدس ترین کتاب شری گرو گرنتھ صاحب میں اعلیٰ ترین مذہبی و روحانی مقام دیا گیا۔مابعد نوآبادیاتی تنقید کے ماہر ہومی بھابھا جس Third Space یا ہائبرڈ اسپیس کا ذکر کرتے ہیں،جہاں مختلف ثقافتیں اور مذاہب بغیر کسی تصادم کے مکالمہ کرتے ہیں، بابا فریدؒ کی خانقاہ تیرہویں صدی میں وہی تھرڈ اسپیس تھی جہاں ہندو، جوگی، مسلمان اور نچلی ذات کے اچھوت سب ایک ہی صف میں بیٹھتے تھے۔
عصرِ حاضر کا انسان کثیر الجہتی بحرانوں کی زد میں ہے، جہاں نفسیاتی سطح پر وہ شدید بیگانگی، مایوسی اور لایعنیت کا شکار ہو کر ڈیپریشن کی دلدل میں دھنس چکا ہے۔ بابا فریدؒ اس نفسیاتی خلفشار کا حل مسلسل ذکر، گہرے مراقبے، رضا بالرضا اور داخلی ثبات کی صورت میں پیش کرتے ہیں، جو انسان کو ایک غیر متزلزل قلبی سکون عطا کرتا ہے۔ اسی طرح معاشی میدان میں معاصر دنیا اندھی صارفیت اور مادی مال و متاع جمع کرنے کی لامتناہی ہوس میں مبتلا ہے، جس کا متبادل فکرِ فریدؒ نے فقر، حقیقی قناعت، توکل اور چوبیس گھنٹے جاری رہنے والے ایسے لنگر سسٹم کی صورت میں دیا جہاں ہر انسان کے لیے یکساں معاشی و سماجی مساوات موجود تھی۔
سماجی حوالے سے جہاں اجنبیوں سے خوف ، نسلی و مذہبی انتہا پسندی اور نفرتیں معاصر معاشروں کو کھوکھلا کر رہی ہیں، وہاں بابا فریدؒ کا عالمگیر صوفیانہ تصور “سبھنا منک مانک” یعنی ہر دل کو ایک انمول موتی قرار دے کر اکھنڈ محبت اور انسان دوستی کا ایک ایسا چارٹر فراہم کرتا ہے جس میں نفرت کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔ سیاسی سطح پر جہاں دورِ حاضر فاشزم، اقتدار کی اندھی ہوس اور کمزور طبقات پر وحشیانہ جبر کا منظر پیش کر رہا ہے، وہاں بابا فریدؒ کی حیاتِ طیبہ اقتدارِ اعلیٰ کے مراکز اور سلاطینِ وقت سے مکمل دوری اختیار کر کے، مظلوم اور پسے ہوئے عوام کی بے لوث حمایت کا ایک ٹھوس اور عملی ماڈل قائم کرتی ہے۔بابا فریدؒ کے کلام میں جو انسان دوستی جھلکتی ہے، وہ کسی سیاسی فائدے یا جغرافیائی حدود کی پابند نہیں ہے۔ آپ کا یہ کلام اس کا بین ثبوت ہے۔
فریدا برے دا بھلا کر غصہ من نہ ہڈائے
دیہی روگ نہ لگئی پلے سبھ کچھ پائے
یہ اخلاقی درس عمانوئل کانٹ کے Categorical Imperativeسے کہیں زیادہ گہرا ہے، کیونکہ کانٹ کا نظریہ عقل پر مبنی ہے جبکہ فریدؒ کا فلسفہ محبت اور صدمے کے مداوے پر مبنی ہے۔ یہ معاصر دنیا میں بڑھتی ہوئی نفرت اور زینو فوبیا کا حتمی جواب ہے۔بابا فریدؒ نے اپنی فکر کی ترویج کے لیے سنسکرت یا عربی و فارسی کے ادق فلسفیانہ اصطلاحات کے بجائے مقامی بولی (سرائیکی/پنجابی) اور عوامی علامات کا سہارا لیا۔ جیسےکاگا (کوا) : جو انسانی انا اور حرص کی علامت ہے۔ہنس : جو روح اور پاکیزگی کی علامت ہے۔کپاہ (کپاس) اور لکڑی : جو انسانی وجود کے زوال اور مٹ جانے کے عمل کو ظاہر کرتی ہیں۔
مشعل فوکو کے نظریۂ لسان و طاقت کے مطابق، بابا فریدؒ نے زبان کو طاقت کے حصول کے لیے نہیں بلکہ طاقت کے ڈھانچوں کو ڈی کنسٹرکٹ کرنے کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے عوامی زبان کو تقدس بخشا اور محکوم طبقات کو اظہار کی قوت دی۔اسی طرح اگر ژاک دریدا کے ردِ تشکیل لسانی نظریے کی روشنی میں بابا فریدؒ کے کلام کا مطالعہ کیا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے دور کے مروجہ ادبی و شاہی ڈسکورس کو الٹ کر رکھ دیا۔ اس دور میں فارسی اشرافیہ اور اقتدار کی زبان تھی، جبکہ مقامی بولیاں پسماندہ سمجھی جاتی تھیں۔ بابا فریدؒ نے عوامی علامات جیسے چرخہ (جو وقت کے گزرنے اور اعمال نامہ تیار کرنے کی علامت ہے) کو مابعد الطبیعاتی سچائیوں کے ابلاغ کا ذریعہ بنایا۔ چرخہ کاتنے کا عمل محض ایک گھریلو کام نہیں رہتا، بلکہ وہ کائنات کی گردش اور روح کے ارتقاء کا استعارہ بن جاتا ہے۔
اکیسویں صدی کے انسان کو جس بڑے مادی خطرے کا سامنا ہے، وہ Global Warming اور ماحولیاتی توازن کی تباہی ہے۔ مابعد جدید مفکر فیلکس گوٹاری نے اپنی کتاب Three Ecologies میں یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ ماحولیاتی بحران دراصل انسانی ذہن کے سرمائے دارانہ مادی بگاڑ کا نتیجہ ہے۔ انسان نے Nature کو اپنی ہوس کا متبادل اور ایک بے جان مادی جاگیر سمجھ لیا ہے۔بابا فریدؒ کی فکر اس ماحولیاتی بحران کا ایک گہرا روحانی حل پیش کرتی ہے۔ فکرِ فریدؒ میں کائنات کا ذرہ ذرہ بظاہر بے جان نہیں، بلکہ وہ مابعد الطبیعاتی سچائی کا عکاس ہے۔ آپ کے کلام میں پرندے، درخت، مٹی اور پانی محض پس منظر کی مادی اشیاء نہیں ہیں، بلکہ وہ انسان کے روحانی سفر کے ہم سفر ہیں۔
فریدا خاک نہ نندئے خاکو جے وڈ کوئی
جیوندیاں پیران تلے مویاں اوپر ہوئی
یہاں بابا فریدؒ انسان کو کائنات پر حاکمیت ختم کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ مٹی (خاک) کو کمتر سمجھنے کی نفی دراصل اس مادی تکبر کا علاج ہے جس نے زمین کے وسائل کا بے دردی سے استحصال کیا۔ صوفیانہ ماحولیات کے مطابق، جب انسان خود کو کائنات کا مالک سمجھنے کے بجائے اس کا ایک عاجز حصہ تسلیم کر لیتا ہے، تو وہ قدرت کو تباہ کرنے کے بجائے اس کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر جینا سیکھتا ہے۔ لمحۂ موجود کے انسان کو زمین کی بقا کے لیے فریدؒ کے اس خاکساری کے ماڈل کی شدید ضرورت ہے۔
مابعد نوآبادیاتی تانیثی تنقید کے اس سوال کہ “کیا محکوم بول سکتا ہے؟” کے تناظر میں اگر فکرِ فریدؒ کا گہرا ساختیاتی جائزہ لیا جائے، تو آپ کے کلام میں ایک منفرد تانیثی ڈسکورس ابھرتا ہے۔صوفیانہ شاعری کی روایتی جمالیات میں روح کو ہمیشہ ‘عورت’ (کامی، ناہلی، یا دھن) کے روپ میں پیش کیا گیا ہے جو اپنے حقیقی محبوب (ذاتِ حق) کی جدائی میں تڑپ رہی ہے۔ بابا فریدؒ نے اپنے دور کے پدرسری معاشرے میں جہاں عورت سماجی طور پر حاشیے پر تھی، اس کے داخلی جذبات، احساسات اور اس کی گھریلو زندگی کو مابعد الطبیعاتی سچائیوں کا استعارہ بنایا۔
کالی کوئیل تو کت گن کالی
اپنے پریت کے برہے جالی
یہاں ‘کوئل’ کی سیاہی اور اس کا نالہ و شیون محض ایک پرندے کی آواز نہیں، بلکہ یہ اس انسانی روح کی علامت ہے جو مادی دنیا کی کثافتوں میں اپنے اصل مرکز سے دور ہو کر تڑپ رہی ہے۔ بابا فریدؒ نے کلام میں ‘سہاگ’، ‘میکے’، ‘پیکے’ اور ‘چھوہیر’ (کنواری لڑکی) جیسی خالص تانیثی علامات کو استعمال کر کے مابعد الطبیعاتی حقیقت کا جو ابلاغ کیا، اس نے عورت کے وجودی تجربے کو کائناتی تقدس عطا کیا۔ یہ معاصر دنیا کے تانیثی مباحث کے لیے ایک اہم فکری نکتہ ہے، جہاں صوفیانہ کلام عورت کو Object بنانے کے بجائے اسے ارتقائے روح کا اعلیٰ ترین Subject تسلیم کرتا ہے۔
حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ کی فکر و حیات کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہےکہ لمحۂ موجود کا انسان باہر کی دنیا کو فتح کرنے کے بعد اب اپنے اندر شکست کھا چکا ہے۔ فکرِ فریدؒ مادی ترقی کو رد نہیں کرتی بلکہ مادی غلامی کو رد کرتی ہے۔ یہ انسان کو اپنی ذات کے اندر سفر کی دعوت دیتی ہے۔ بابا فریدؒ کا تصوف انسان کو سماج سے کاٹتا نہیں، بلکہ اسے انسان دوست بناتا ہے۔ آپ کا یہ جملہ تاریخ کا حصہ ہے کہ “مجھے سوئی دو، قینچی نہ دو، کیونکہ میں کاٹنے کے لیے نہیں، جوڑنے کے لیے آیا ہوں”۔ یہ اکیسویں صدی کے منقسم معاشروں کے لیے سب سے بڑا فلسفیانہ سبق ہے۔ جہاں مابعد جدیدیت ہر حقیقت کو اضافی قرار دے کر انسان کو شکوک کے سمندر میں چھوڑ دیتی ہے، وہاں تصوفِ فریدؒ “الحق” کے ساتھ انسانی رشتہ استوار کر کے اسے ایک محکم مرکزِ حیات عطا کرتا ہے۔
اکیسویں صدی کو “مابعد سچائی کا دور”کہا جاتا ہے، جہاں سوشل میڈیا، ڈیجیٹل فکشن اور مصنوعی ذہانت کے غلبے نے سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کو دھندلا دیا ہے۔بودلئیر کے بقول، ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں اصل حقیقت ختم ہو چکی ہے اور صرف اس کے عکس باقی رہ گئے ہیں۔ انسان مستقل ایک Hyperrealityکے سحر میں مبتلا ہے۔ایسے میں بابا فریدؒ کی حیات و فکر لمحۂ موجود کے انسان کو ‘حقیقی سچائی’ کی طرف لوٹنے کا راستہ دکھاتی ہے۔ چشتیہ سلوک کا بنیادی تقاضا ہی ‘صدق’ اور ‘اخلاص’ ہے، یعنی ظاہر اور باطن کا ایک ہونا۔
بابا فریدؒ کے ہاں منافقت اور ریاکاری سب سے بڑا گناہ ہے۔ جب آپ فرماتے ہیں کہ “دلوں محبت جنہاں سئیں مکھ لیسن سچے کار” (سچے وہ ہیں جن کے دلوں میں سچی محبت ہے، محض زبان پر دعوے نہیں)، تو وہ دراصل انسان کو اس مصنوعی پن سے نکال کر اس کے اصل وجود کی سچائی سے جوڑتے ہیں۔ فکرِ فریدؒ کا یہ اصرارِ صداقت معاصر انسان کو ڈیجیٹل فریب اور داخلی منافقت سے بچا کر ایک باوقار اور سچی زندگی گزارنے کا فکری لنگر فراہم کرتا ہے۔
بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ کا نظریۂ تصوف محض ایک روایتی زہد نہیں، بلکہ ایک عالمگیر انسانی اخلاقیات کا ایسا چارٹر ہے جو اکیسویں صدی کے طبقاتی تضادات، نسلی تعصبات اور وجودی تنہائی کا حتمی فکری علاج فراہم کرتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ دورِ حاضر کے تعلیمی نصاب اور سماجی ڈھانچوں میں صوفیانہ فکر کی اس تشریحِ نو کو شامل کیا جائے، تاکہ ایک متوازن، پرامن اور ہمدرد معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکے۔ فکرِ فریدؒ کی روشنی میں ہم ایک ایسے عالمی کلچر کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جہاں ٹیکنالوجی تو جدید ترین ہو، لیکن انسان کا دل نفرت سے پاک اور روح مادی مال و متاع کی قید سے آزاد ہو۔


