ہمارے معاشرے میں ایک غالب بیانیہ اور فکری پروپیگنڈا اس قدر سرایت کر چکا ہے کہ ہم اکثر ہر قسم کے استحصال اور ہر سماجی خرابی کی جڑ کو فوراً “پدرسری” قرار دینے لگتے ہیں۔ یوں چاہے مسئلہ معاشی ناانصافی کا ہو، طبقاتی استحصال کا یا کسی اور ساختی خرابی کا، گفتگو کا آغاز اور انجام اکثر اسی ایک فریم میں قید ہو کر رہ جاتا ہے، تمام پیچیدگیاں اسی ایک خانے میں سمٹ کر رہ جاتی ہیں۔
پدرسری کو اکثر ایک ایسا عمومی فریم بنا کر پیش کیا جاتا ہے جو ہر روایتی سماج کی پیچیدہ حقیقتوں کو ایک ہی خانے میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ تصور کئی دفعہ مختلف تاریخی، ثقافتی اور معاشی سیاق و سباق کو سادہ بنا کر ایک ہی ماڈل میں reduce کر دیتا ہے ، گویا ہر معاشرہ ایک ہی طرح کے طاقت کے ڈھانچے سے گزرا ہو۔
حقیقت میں طاقت ہمیشہ یکساں نہیں ہوتی۔ ہر سماج کی اپنی اندرونی حرکیات، مذہبی ساختیں، معاشی رشتے اور تاریخی تجربات ہوتے ہیں جو اس کے صنفی اور سماجی نظام کو مختلف انداز میں تشکیل دیتے ہیں۔ اس لیے ہر مسئلے کو صرف “پدرسری” کے ایک ہی خانے میں محدود کر دینا ایک طرح کی intellectual simplification بن جاتا ہے جو اصل کثیر الجہتی حقیقت(complexity) کو چھپا دیتا ہے۔
اسی لیے کئی مابعد نوآبادیاتی ناقدین یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ عالمی تھیوریز بعض اوقات غیر مغربی سماجوں کو ایک آفاقی زاویۂ نظر(universal lens) سے دیکھ کر ان کی مقامی تاریخ اور تجربے کو ہموار (flatten) کر دیتی ہیں۔ نتیجتاً نہ صرف سماج کی اصل ساخت واضح نہیں ہوتی بلکہ مزاحمت اور تبدیلی کے امکانات بھی محدود نظریاتی فریم میں قید ہو جاتے ہیں۔
اگر برصغیر کا ہی تاریخی و ادبی مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ برصغیر کی تاریخ اتنی سادہ، یک رخا اور خاموش نہیں رہی۔ یہاں عورت ہمیشہ مکمل بے آواز یا بے اختیار نہیں تھی جیسا کہ ہم مغربی بیانیوں میں دیکھتے ہیں ۔
رضیہ سلطانہ سے لے کر جھانسی کی رانی لکشمی بائی تک، عورتیں سیاسی، عسکری اور سماجی مزاحمت کی علامت کے طور پر سامنے آہیں ہیں۔ صوفی روایت میں بھی عورتوں کی موجودگی اور اثر واضح ہے۔ برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت میں بھی مرد اور عورت دونوں شریک تھے۔ حتیٰ کہ مقامی باغی، قبائلی اور ڈاکو مزاحمتوں میں بھی عورتیں صرف مظلوم کردار نہیں بلکہ فعال کردار کے طور پر سامنے آتی ہیں۔
یہی بات ہماری لوک داستانوں اور ادب سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ ہیر رانجھا کی ہیر، سوہنی مہیوال کی سوہنی، سسی، صاحباں ۔۔۔ یہ سب محض خاموش مظلوم کردار نہیں بلکہ باغی، vocal اور اپنی خواہش، محبت اور ایجنسی پر اصرار کرنے والی عورتیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر میں ان کرداروں کو ایک مقدس اور مزاحمتی مقام حاصل رہا۔
اسی طرح دیوداس میں پارو اور چندر مُکھی کئی حوالوں سے دیوداس سے زیادہ مضبوط نظر آتی ہیں۔ دیوداس سے زیادہ مضبوط، فیصلہ کن اور emotionally resilient نظر آتی ہیں۔۔۔جاگیردارانہ نظام کا شکار صرف عورت نہیں، خود دیوداس بھی ہے، جو روایت، خاندان اور سماجی دباؤ کے شکنجے میں پسا ہوا کردار ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ برطانوی استعمار نے یہاں کے متنوع سماجی ڈھانچوں کو سخت قانونی مذہبی خانوں میں ڈھالنے کی کوشش کی۔۔ یورپین فیوڈل سسٹم نافذ کیا جسکو نارملائز کرنے کے لئے مذھب کو ہتھیار بنایا گیا۔۔ “Anglo-Muhammadan Law” اور “Anglo-Brahman Law” کے ذریعے مقامی تنوع (diversity), fluidity اور علاقائی حرکیات (dynamics)کو ہموار (flatten) کر کے ایک سخت، مرکزی اور یکساں سماجی ماڈل نافذ کیا گیا، جسے بعد میں روایت اور مذہب کے نام پر فطری اور ازلی حقیقت بنا کر پیش کیا جانے لگا۔۔ یہاں مذھب کی کولونیل شکل نافذ ہوئی۔۔۔
مگراس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ عورت پر ظلم نہیں ہوا، بلکہ یہ کہ برصغیر کی سماجی حقیقت کو صرف ایک لفظ یا ایک نظریاتی فریم میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں طاقت، مزاحمت، تعلقات اور استحصال کی ڈائنیمکس کہیں زیادہ پیچیدہ اور layered رہی ہیں۔


