پاکستان کی سیاست میں بے شمار خرابیاں موجود ہیں۔ سیاسی شائستگی کمزور پڑ چکی ہے، برداشت کا دامن سکڑتا جا رہا ہے اور مخالف رائے کو سننے کا حوصلہ کم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن ان تمام خرابیوں میں سب سے خطرناک خرابی وہ ہے جب سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے مذہب کو استعمال کیا جاتا ہے۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں مذہبی جذبات انتہائی طاقتور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب سیاسی دلیل کمزور پڑ جائے، کارکردگی سوالات کی زد میں ہو یا عوامی حمایت حاصل کرنے کے روایتی ذرائع ناکام ہو جائیں تو مذہب کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرزِ سیاست کے نتائج ماضی میں بھی تباہ کن رہے ہیں اور آج بھی اس کے اثرات ہمارے معاشرے میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
پشتون مفکر اور سیاست دان مولانا خانزیب شہید کا ایک جملہ اس حوالے سے بہت معنی خیز ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ “ہم دین پر خود بھی مرتے ہیں اور دوسروں کو بھی مرواتے ہیں، لیکن دین کو سمجھتے نہیں۔” یہ جملہ ہمارے اجتماعی رویوں کا ایک تلخ مگر حقیقت پسندانہ عکس پیش کرتا ہے۔
حالیہ دنوں خیبر پختونخوا میں ایک تنازع اسی ذہنیت کی عکاسی کرتا دکھائی دیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ ایمل ولی خان نے سوشل میڈیا پر “فیکٹس آر فیکٹس” کے نام سے ایک پلیٹ فارم قائم کیا۔ اس پلیٹ فارم کی ٹیم میں زلان مومند کو بطور پروڈیوسر شامل کیا گیا۔ بعد ازاں صوابی سے تعلق رکھنے والے محقق فیصل فاران نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے ان کے عقائد کے حوالے سے اعتراض اٹھایا کہ وہ “قادیانی”ہیں اور مطالبہ کیا کہ انہیں ٹیم سے ہٹایا جائے۔ اس کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گیا۔
یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب بعض سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں نے اس بحث کو ایک فرد سے نکال کر پوری جماعت تک پھیلا دیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما معصوم شاہ باچا نے بھی اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کیا۔اور پارٹی گروپوں میں پوری پارٹی پر الزامات لگائے بعد ازاں ایمل ولی خان نے وضاحت کی کہ جس شخص پر اعتراض کیا جا رہا تھا اسے ٹیم سے الگ کر دیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود تنازع ختم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کرتا گیا۔
یہاں اصل سوال کسی ایک فرد یا ایک جماعت کا نہیں بلکہ اس سیاسی رویے کا ہے جس میں اختلافِ رائے کو مذہبی شناخت کے مسئلے میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ جب ایک شخص کے بارے میں اعتراض کو بنیاد بنا کر لاکھوں کارکنوں پر ایک ہی الزام عائد کیا جائے تو یہ سیاسی اختلاف نہیں بلکہ معاشرتی تقسیم کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔
اس معاملے کا ایک اور پہلو بھی توجہ طلب ہے۔ معصوم شاہ باچا ماضی میں آمدن سے زائد اثاثوں کے مقدمے میں گرفتار ہوئے تھے اور بعد ازاں تقریباً 258 ملین روپے کی پلی بارگین کے بعد ان کا معاملہ نمٹایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ دس سال کے لیے نااہل قرار پائے۔ اور جب دس سال
مکمل ہو گئے اگلے دن مذہبی جذبات بھڑکانا شروع کی۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا مذہبی جذبات کو سیاسی ساکھ بحال کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے یا نہیں۔
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ جس شخصیت پر آج اعتراضات کیے جا رہے ہیں، وہ شخص کئی عرصے تک معصوم شاہ باچا کے ساتھ باچا خان مرکز پشاور میں کام کرتے تھے۔ اگر ایسا تھا تو پھر اچانک اس مسئلے کا سیاسی طور پر اہم بن جانا بھی غور طلب ہے۔
پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے وقتی فائدہ تو حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے نتائج ہمیشہ معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ مذہبی جذبات بھڑکانا آسان ہے، مگر ان کے اثرات کو قابو میں رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے نے فرقہ واریت، انتہا پسندی اور عدم برداشت کی صورت میں اس سیاست کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔
سیاست کا میدان عوامی خدمت، نظریات اور کارکردگی کا میدان ہونا چاہیے۔ اگر ہر اختلاف کو ایمان اور کفر کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا جائے تو نہ جمہوریت محفوظ رہے گی اور نہ مذہب کی حرمت۔ سیاسی جماعتیں آئیں گی، جائیں گی، اقتدار بدلتا رہے گا، لیکن مذہب کو سیاسی مفادات کا ایندھن بنانا پورے معاشرے کو نقصان پہنچاتا ہے۔
خدارا مذہب کو سیاست کے لیے استعمال مت کیجیے۔ کیونکہ جب مذہب سیاسی ہتھیار بن جاتا ہے تو آخر میں نہ سیاست بچتی ہے اور نہ دین کی اصل روح۔


