ماہِ تمام/مشقات فاطمہ

ہر رات کی تقدیر میں ایک صبح لکھی ہوتی ہے۔

ماہِ تمام اکثر یہ سوچا کرتی تھی کہ زندگی بھی شاید دن اور رات کے سفر ہی کا دوسرا نام ہے۔ شبِ ظلمت جب اپنے تمام سائے زمین پر بچھا دیتی ہے تو کہیں دور افق پر صبحِ کاذب کا دھندلا سا عکس نمودار ہوتا ہے۔ پھر وہ عکس بڑھتے بڑھتے صبحِ صادق بن جاتا ہے اور روشنی اپنے ننھے ننھے قدموں سے دنیا کے آنگن میں اترتی ہے۔

صبحِ صادق مشاہدوں کے جھولے میں جھولتی ہے، تجربوں کی دھوپ میں پکتی ہے اور پھر روزِ روشن کا روپ دھار لیتی ہے۔ مگر روزِ روشن بھی کب ہمیشہ رہتا ہے؟ وقت کی تیز دھار اُس کی چمک کو آہستہ آہستہ چاٹتی رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ ڈھلتی شام کے وجود میں تحلیل ہونے لگتا ہے۔
اور شام…شام ہمیشہ سہاروں کی تلاش میں رہتی ہے۔

مفروضوں کی بیساکھیاں تھامے وہ رات کے دروازے تک پہنچتی ہے، لیکن سہارے تو فنا کے لیے پیدا ہوتے ہیں۔ جب وہ بھی چھوٹ جاتے ہیں تو اوائلِ شب جنم لیتی ہے۔ پھر شبِ اوسط آتی ہے، نتائج کے محلات اپنے در وا کرتی ہے اور انسان کو اُس کے اعمال کے آئینے دکھاتی ہے۔ آخرکار شبِ آخریں کا وقت آتا ہے، جہاں اختتام اور آغاز ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔
وہیں موت پیدا ہوتی ہے۔

اور وہیں کسی نئی زندگی کا نطفہ بھی پڑتا ہے۔ ماہِ تمام انہی خیالوں میں گم تھی کہ دروازہ چرچراتا ہوا کھلا۔ کمرے میں ایک بھاری بھرکم سایہ داخل ہوا۔ لمبا قد، چوڑے شانے، بڑی بڑی روشن آنکھیں اور چہرے پر ایسا رعب کہ کمزور دل آدمی کی سانس رک جائے۔ وہ اس کے ماموں تھے، مگر آج اُن کے وجود میں رشتے کی گرمی نہیں، حکم کی سردی تھی۔ ماہِ تمام چونک کر کھڑی ہوگئی۔
اس نے بے اختیار اپنی ردا سنبھالی۔ اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ نظریں جھک گئیں۔ انگلیاں ایک دوسرے میں الجھ کر جیسے کوئی خاموش جنگ لڑنے لگیں۔ کمرے میں سکوت تھا، اتنا گہرا کہ سانسوں کی آہٹ بھی سنائی دے رہی تھی۔
پھر وہ بولے۔

“میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔”

آواز میں ایسی قطعیت تھی جس میں کسی سوال کی گنجائش نہیں ہوتی۔

“کل سے تم جامعہ نہیں جاؤ گی۔ اگلے جمعے تمہاری شادی تمہارے چچا زاد شہزاد سے کر دی جائے گی۔”

الفاظ فضا میں تیرتے ہوئے ماہِ تمام تک پہنچے۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ اس کے چہرے پر حیرت نہ ابھری۔
نہ احتجاج۔نہ آنسو۔ وہ خاموش کھڑی رہی، جیسے صدیوں سے یہی فیصلہ سننے کی منتظر ہو۔
ماموں نے بات جاری رکھی۔

“دو دن کے اندر اپنے تمام معاملات سمیٹ لو۔ کتابیں، تمغے، تمہارے لکھے ہوئے وہ کاغذ، وہ ڈائریاں، وہ مجسمے… سب ختم کر دو۔ اور یاد رکھو، شہزاد کو ہرگز معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ تم یہ سب کرتی رہی ہو۔”

وہ چند لمحے رکے، پھر لہجہ مزید سخت ہو گیا۔

“اور ایک بات اور… میں اس گھر میں تمہارا وجود دوبارہ برداشت نہیں کروں گا۔ نہ تمہارا سایہ اپنے بچوں پر۔”

کمرے کی فضا منجمد ہو گئی۔
ماہِ تمام نے آہستہ آہستہ سر اٹھایا۔
اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے۔
وہ شکستہ بھی نہیں لگ رہی تھی۔
اس نے چند لمحے ماموں کے چہرے کو غور سے دیکھا، جیسے کسی پرانے مسافر کو آخری بار دیکھ رہی ہو۔ پھر ایک ٹھنڈی سانس بھری اور مسکرا دی۔ ایسی مسکراہٹ جس میں درد بھی تھا اور یقین بھی۔

“ماموں جان…”

اس کی آواز حیرت انگیز طور پر پُرسکون تھی۔

“میں ماہِ تمام ہوں۔”

وہ رکی، پھر کھڑکی سے جھانکتے تاریک آسمان کی طرف دیکھا۔

“اور میں جانتی ہوں کہ ہر شبِ ظلمت، کسی صبحِ کاذب سے مل کر ایک صبحِ صادق کو ضرور جنم دیتی ہے۔”

اس نے اپنی ردا درست کی، گردن سیدھی کی اور نہایت اعتماد سے کہا

“مجھے کوئی اعتراض نہیں۔”

چند لمحوں کے سکوت کے بعد اس نے آہستہ سے آخری جملہ ادا کیا

“میں تیار ہوں۔”

مگر اُس رات، جب سب سو گئے، ماہِ تمام نے اپنے کمرے کی کھڑکی کھولی اور آسمان کی طرف دیکھا۔آج چاند پورا تھا۔ بالکل ماہِ تمام کی طرح۔۔۔اور اُسے معلوم تھا کہ کامل چاند بھی ہمیشہ آسمان پر نہیں رہتا، مگر اس کی روشنی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔

اپنا تبصرہ لکھیں